آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات17؍جمادی الاوّل 1440ھ 24؍جنوری2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کراچی (رفیق مانگٹ) برطانوی جریدے کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ دنیا کے صرف 20ممالک میں مکمل جمہوریت ہے جبکہ پاکستان میں جمہوریت زوال کا شکار ہے، جمہوری ممالک میں پاکستان 112ویں اور بھارت 41ویں درجے پر ہے، ناروے سرفہرست ہے جب کہ امریکہ میں بھی مکمل جمہوریت نہیں۔ برطانوی جریدے ’دی اکانومسٹ‘ کے تحقیقی ادارے ’انٹیلی جنس یونٹ‘ کے نئے جمہوری معیارات کے مطابق پاکستان میں جمہوریت زوال کی جانب گامزن ہے، پاکستان کو انڈیکس مخلوط نظام کی کیٹیگری میں شمار کیا گیا اور فہرست میں 112ویں درجے پر رکھا گیا۔ دنیا کی صرف 4اعشاریہ 5فی صد آبادی مکمل جمہوریت میں رہتی ہے۔ عالمی انڈیکس کے مطابق دنیا بھر کے صرف 20ممالک میں مکمل جمہوریت ہے جب کہ 57ممالک ایسے ہیں جہاں حکومتی نظام ناقص ہے تاہم وہ تقریباً جمہوریت کے قریب ہیں۔ 39ممالک کو نیم جمہوریت میں شمار کیا گیا جہاں انتخابی عملشفاف نہیں، سول سوسائٹی اور قانون کی عملداری بھی کافی کمزور ہے۔ انڈیکس کے مطابق 53ممالک میں جمہوریت کا وجود نہیں۔ دنیا کے بہترین 10جمہوری ممالک میں سرفہرست 9اعشاریہ87اسکور کے ساتھ ناروے ہے دیگر میں آئس لینڈ، سویڈن، نیوزی لینڈ، ڈنمارک، کینیڈا، آئرلینڈ، فن لینڈ، آسٹریلیا اور سوئٹزر لینڈ بالترتیب ہیں۔ اس انڈیکس کے آخری ممالک جہاں آمرانہ طرز حکومت ہے

ان میں سرفہرست شمالی کوریا، شام، کانگو، وسطی افریقہ، چاڈ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 2018میں جمہوریت کے زوال میں ذرا سا ٹھہراؤ دیکھا گیا تاہم دنیا بھر میں جمہوریت کو ماضی کی نسبت زیادہ خطرات کا سامنا ہے 2017میں دنیا بھر میں جمہوریت زوال کی جانب گامزن تھی اس انڈیکس میں دنیا کے 167ممالک میں جمہوریت کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ 42؍ ممالک میں جمہوریت کو زوال جب کہ 48ممالک میں صورتحال بہتر ہوئی اس انڈیکس میں پاکستان 4اعشاریہ17 کے مجموعی اسکور کے ساتھ دنیا میں 112ویں نمبر پر ہے، اس لحاظ سے پاکستان کو ’’نیم جمہوریت یا مخلوط نظام‘‘ HYBRID REGIME کے درجے میں شمار کیا گیا۔ پاکستان کے 2014ء کے بعد سے مجموعی اسکور میں بتدریج کمی آرہی ہے۔ 2006ء میں پاکستان 3اعشاریہ 92اسکور کے ساتھ آمرانہ نظام والے ممالک کی فہرست میں شامل تھا، 2013ء اور 2014ء میں یہ اسکور 4اعشاریہ64رہا، 2015ء میں 4اعشاریہ40، 2016ء میں 4اعشاریہ 33 اور 2017ء میں 4اعشاریہ 26؍اسکور رہا اور یوں پاکستان میں جمہوریت زوال کی جانب گامزن ہے۔ امریکہ بھی مکمل جمہوریت والے ممالک میں شامل نہیں بلکہ 2017کے مقابلے میں امریکہ کے درجے میں تنزلی ہوئی اور 21ویں سے25نمبر پر آگیا۔ برطانیہ 14ویں پر ہے۔ یورپ کے کچھ ممالک میں جمہوریت زوال کی جانب ہے۔ سب صحارا افریقی ممالک اور ایشیا میں جمہوری صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ پاکستان کے ہمسایہ ممالک کو دیکھیں تو اس انڈیکس میں بھارت 41ویں، چین 130، افغانستان143 اور ایران 150نمبر پر ہے۔ انڈیکس میں عالمی سطح پر حکومتوں کو چار حصوں مکمل جمہوریت، تقریباً یا ناقص جمہوریت، نیم جمہوریت یا مخلوط نظام اور مطلق العنانیت یا آمرانہ نظام میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جمہوریت کی صورتحال پرکھنے کیلئے 5؍اہم پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا جن میں انتخابی عمل اور اکثریت، حکومتی عمل داری، سیاسی شرکت،جمہوری سیاسی کلچر اور شہری آزادی شامل ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں