آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات17؍جمادی الاوّل 1440ھ 24؍جنوری2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسلام آباد (مہتاب حیدر) وزیراعظم عمران خان کو پر مختلف حلقوں سے معاشی چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے واٹس ایپ پر متضاد نسخوں کے مشورے موصول ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں حکومتی تذبذب اور کنفیوژن بڑھتا جارہا ہے۔ اس صورتحال میں غیریقینی ماردیتی ہے اور معاشیمحاذ پر اعلیٰ ترین معیشت دان کو ایگزیکٹو کی مکمل حمایت حاصل نہیں ہوتی جس سے صورتحال تباہ کن ہوجاتی ہے کیونکہ ملک کی معاشی بہتری کیلئے مختلف آوازیں سنائی دے رہی ہوتی ہے۔ سرکاری ذرائع نے دی نیوز کو تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ متضاد مشوروں نے وزیراعظم کو مجبور کردیا ہے کہ وہ معاشی ٹیم میں تبدیلیاں لانے کے آپشنز پر غور کریں، اور اگلے چند ماہ معاشی وزراء سمیت متعدد اعلیٰ شخصیات کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ حالیہ دنوں میں افواہیں گرم ہیں کیونکہ امریکا میں آئی ایم ایف کے سابقہ اہلکار مسعود احمد کو وزیراعظم عمران خان سے دو بار ملاقات اور معاشی صورتحال پر گفتگو کیلئے لاہور سے اسلام آباد تک کے سفر کی خاطر خصوصی طیارہ فراہم کیا گیا۔ در حقیقت عمران خان آئی ایم

ایف جانے یا نہ جانے کے معاملے پر مختلف حلقوں سے ہر طرح کے مشورے لے رہے ہیں جس سے حکومت کی فیصلہ سازی مزید کنفیوژن کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ آئی ایم ایف کے حوالے سے مختلف اقدامات کے باوجود وہ یہ بات موثر تو پر باور کرانے میں ناکام رہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے پاس جایا جاسکتا ہے۔ گزشتہ نومبر میں جب آئی ایم ایف کے وفد نے دورہ کیا تھا، پاکستان کو اسٹاف کی سطح پر معاہدہ مکمل کرلینا چاہیے تھا کیونکہ اگلے مہینوں میں تمام اسٹیک ہولڈرز کا اتفاق رائے حاصل کرنا بہت مشکل ہوگا۔ وزیر خزانہ کیلئے مشکلات اس وقت بڑھ گئیں جب انہوں نے ایک سیاسی جنس سے متعلق سوالات اٹھائے اور سبسڈی دینے سے انکار کیا۔ ایک معروف ماہر اقتصادیات نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہا کہ ’’معاشی معاملات دیکھنے کیلئے کوئی وائسرائے آرہا ہے‘‘۔ لیکن بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ مسعود احمد شاید اس وقت حکومت میں کوئی پوزیشن لینے میں دلچسپی نہیں رکھتے بلکہ رضاکارانہ مشورہ دینے آئے تھے۔ جب اتوار کی رات کو اعلیٰ ترین معاشی ٹیم کے ایک قریبی ذریعے سے تبصرے کیلئے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ وزیراعظم کو مختلف مشورے سننے سے محروم نہیں رکھنا چاہتے تھے۔ معاشی ٹیم کو ہٹانے سے متعلق افواہوں پر ان کاکہنا تھا کہ وزیراعظم نے ہمیشہ وزارت خزانہ کی مکمل حمایت کی ہے اور اس حوالے سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ معاشی ٹیم کے چند ممبرز میں سے ایک نے کہا کہ جو کچھ ہورہا ہے اس سے وہ خوش نہیں ہیں، ٹیم کے ایک ممبر نے دعویٰ کیا کہ فنانس منسٹری میں کوئی نہیں آرہا اور نہ ہی کوئی تبدیلی ہورہی ہے۔ معاشی ٹیم میں لوگ آتے رہتے ہیں۔ فنانس منسٹری میں اگر کوئی آنے والا ہے تو اس سے وزارت اور معاشی صورتحال بہتر ہوجائے گی۔ مسعود احمد اس وقت واشنگٹن ڈی سی میں سینٹر فار گلوبل ڈیولپمنٹ کے صدر کی حیثیت سے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے اس مرکز میں جنوری 2017میں شمولیت اختیار کی اور قرضوں،مؤثر امداد، تجارت، آئی ایم ایف اور عالمی بینک میں عالمی معیشت کا منظر جیسے امور پر اپنے 35سالہ تجربے سے فائدہ پہنچایا۔ مسعود احمد نے آئی ایم ایف سے سینٹر فار گلوبل ڈیولپمنٹ میں شمولیت اختیار کی جہاں انہوں نے ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا خدمات سرانجام دیںاور منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لیگارڈ سے صاحب بصیرت رہنما کے طور پر پذیرائی ملی ۔ اس حیثیت میں انہوں نے 32ممالک میں فنڈز کے معاملے دیکھے اور اہم قومی اور علاقائی پالیسی سازوں اور اسٹیک ہولڈرز سے تعلقات برقرار رکھے۔ اس سے پہلے کے سالوں میں انہوں نے امریکا میں آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر برائے خارجہ تعلقات اور ڈپٹی ڈائریکٹر برائے پالیسی ڈیولپمنٹ اینڈ رویو ڈپارٹمنٹ کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں جبکہ 2003سے 2006تک انہوں نے برطانوی حکومت کے محکمہ برائے بین الاقوامی ترقی کے پالیسی اینڈ انٹرنیشنل کیلئے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے کام کیا۔ اس حیثیت میں وہ برطانوی وزراء کو ترقی سے متعلق امور میں مشاورت اور عالمی بینک جیسے دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے تعلقات دیکھنے کے ذمہ دار تھے۔ انہوں نے 1979سے 2000تک مختلف پوزیشنز پر کام کیا جہاں سے وہ انسداد غربت اور معاشی مینجمنٹ پروگرام کے نائب صدر بن گئے۔ اس حیثیت میں انہوں نے قرضوں میں ڈوبے ہوئے ممالک کو ریلیف کی فراہمی کیلئے کام کیا جس کے نتیجے میں اب تک 36غریب ترین ممالک کو فائدہ ہوا۔ مسعود احمدپاکستان میں پیدا ہو ئے اور 1971میں لندن چلے گئے جہاں انہوں نے لندن اسکول آف اکنامکس سے بی ایس سی آنرز کیا جبکہ ایم ایس سی اکنامکس امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔ وہ برطانوی شہری ہیںاور مشرق وسطیٰ کی معیشتوں پر ماہر شمار کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے لندن اسکول آف اکنامکس کے مرکز برائے مشرق وسطیٰ میں مشاورتی بورڈ میں بھی خدمات سرانجام دیں، جبکہ ورلڈ اکنامک فورم کے گلوبل ایجنڈا کونسل برائے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں بھی کام کیا۔ انہوں نے سینٹر فار گلوبل ڈیولپمنٹ کے مشاورتی بورڈ میں بھی کام کیا۔ انہوں نے نینسی برڈسال سے سینٹر فار گلوبل ڈیولپمنٹ کی صدارت کا منصب لیا جنہوں نے 2001سے سینٹر کے ابتدائی 15سال تک بانی صدر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں اور اب سینئر فیلو کی حیثیت سے کام کریں گی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں