آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ20؍محرم الحرام 1441ھ 20؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’آبادی نہ روکی گئی تو یہ ملک کی تباہی ہو گی‘‘

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ حکومت کو بتا دیں کہ آبادی روکنے کے لیے اقدامات نہ کیے تو یہ ملک کی تباہی ہو گی۔

ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی سے متعلق کیس کی سپریم کورٹ آف پاکستان میں سماعت ہوئی، جس کے دوران چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیئے کہ پاکستان کے وسائل کم ہو رہے ہیں، آبادی کو کنٹرول نہ کیا گیا تو اس کے اثرات بہت برے ہوں گے۔

سیکریٹری صحت نے عدالت کو بتایا کہ آبادی پرقابو پانے کے لیے ایکشن پلان مرتب کر کے جمع کرا دیا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے سیکریٹری صحت سے دریافت کیا کہ آبادی سے متعلق سرویز قابل اعتبار بھی ہوتے ہیں یا نہیں؟ یہ سروے دفاتر میں بیٹھ کر تو نہیں کیے جاتے؟

سیکریٹری صحت نے بتایاکہ نجی کمپنیوں سے یہ سروے کرائے جاتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سروے ٹھیک کرانے کی کوشش کریں، کیونکہ اس کی بنیاد پر کام کیا جاتا ہے، آپ نے قلیل المدتی اقدامات بھی تجویز کیے ہوں گے؟

انہوں نے کہا کہ ہر 3 ماہ بعد سیکریٹری صحت سے میٹنگ کرکے دیکھا جائے گا کہ کتنے فیصد اقدامات پر عملدرآمد ہوا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کوبتا دیں کہ آبادی روکنے کے لیے اقدامات نہ کیے تو یہ ملک کی تباہی ہو گی، پاکستان کے وسائل کم ہو رہے ہیں، آبادی کو کنٹرول نہ کیا گیا تو اس کے اثرات بہت برے ہوں گے۔

چیف جسٹس نے حکم دیا کہ ہر تین ماہ بعد پیش رفت رپورٹ دی جائے، آبادی کنٹرول کی سفارشات حکومت نے مان لی تھیں، آبادی کنٹرول سے متعلق کل فیصلہ جاری کریں گے۔

آبادی میں اضافے کی روک تھام سے متعلق کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی۔

قومی خبریں سے مزید