آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل14؍شوال المکرم 1440ھ 18؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے عبوری رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ کی انتظامیہ نے جعلی لیب رپورٹس جاری کیں۔

پاکستان کڈنی لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ کی تعمیر میں تاخیر کے معاملے پر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے عبوری رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی ہے جس میں ٹھیکیدار کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی عدالت عظمیٰ میں جمع کرائی گئی عبوری رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اندرونی خریداری میں پیپرا رولز کی خلاف ورزی کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ منصوبے میں عوام کے پیسے کھائے گئے۔

سپریم کورٹ کے 31 دسمبر کے حکم نامے کی تعمیل میں اینٹی کرپشن اسٹیبشلمنٹ نے یہ رپورٹ جمع کرائی ہے جس میں اسپتال کی تعمیر میں تاخیر کی وجوہات کا احاطہ کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں پاکستان کڈنی لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ کی تعمیر میں تاخیر پر ٹھیکیدار سمیت انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پنجاب کے افسران، منصوبے کے پاکستانی کنسلٹنٹ نیسپاک اور کورین مویانگ کے خلاف بھی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی رپورٹ میں امریکا سے واپس پاکستان آنے والے سینئر ڈاکٹر سعید اختر کے کردار پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھرتیوں کے معاملے میں ڈاکٹر سعید اختر کا کردار مشکوک نظر آتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسپتال میں غیر ملکی نرسیں بھرتی کی گئیں، اس میڈیکل اسٹاف کی اہلیت مطلوبہ معیار کے مطابق نہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ گزشتہ صوبائی حکومت نے پی کے ایل آئی منصوبہ فاسٹ ٹریک، کمپلیکس اور اسٹیٹ آف دی آرٹ قرار دیا تھا اور اس کے لیے عام منصوبوں سے زیادہ فنڈز دیے گئے ،اسےدسمبر 2017ء میں مکمل ہونا تھا تاہم متعلقہ ذمہ داران اور حکام کی وجہ سے یہ منصوبہ تاحال زیر تکمیل ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ10 ارب سے زائد کے منصوبوں پر قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کی منظوری درکار ہوتی ہے جو کہ نہیں لی گئی اور اصل منصوبے کے مطابق 1050 بستروں کا اسپتال بننا تھا جسے بعد میں کم کر کے 448 بستروں کا اسپتال بنایا گیا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ منصوبے پر تمام شعبوں میں زیادہ فنڈز خرچ کئے گئے اور اس کی منظوری میں قانون کی خلاف ورزی کی گئی اور تکمیل میں تاخیر سے حکومت کو ہر روز کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے، انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پنجاب (آئیڈیپ) انتظامیہ نے ٹھیکیدار کی تاخیر کا کوئی نوٹس نہیں لیا اور نہ ہی کوئی جرمانہ عائد کیا گیا جب کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی آلات کی خریداری میں بھی گھپلے کیے گئے۔

اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پی کے ایل آئی انتظامیہ نے جعلی لیب رپورٹس جاری کیں، انتظامیہ نے اندرونی خریداری میں پیپرا رولز کی خلاف ورزی کی اور یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ پی کے ایل آئی اسپتال منصوبے میں عوام کے پیسے کھائے گئے، منصوبے پر اب تک 22 ارب سے زائد لاگت آ چکی ہے تاہم نقصان کا تخمینہ تحقیقات کے بعد جاری کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی حکومت میں منصوبے کی منظوری دی گئی جسے 2017 ءمیں مکمل ہونا تھا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں