آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ21؍محرم الحرام 1441ھ 21؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فارغ اوقات میں کرکٹ اور آئوٹنگ سے انجوائے کرتی ہوں ،ملالہ

خواتین اور بچیوں کی تعلیم کے لیے جدوجہد کرنے والی اور 2014میں امن کا نوبل انعام حاصل کرنے والی پاکستان کی بیٹی ملالہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ وہ سٹکوم (سچوئشن کومیڈی) یا برٹش کومیڈی کی بہت بڑی فین ہیں، اور انھیں یہ بہت پسند ہے۔


انھوں نے یہ بات برطانوی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہی ۔ان سے جب پوچھا گیا کہ وہ فارغ اوقات میں ذہنی تھکاوٹ کس طرح دور کرتی ہیں تو انکا کہنا تھا کہ وہ بعض اوقات برطانوی مزاحیہ پروگرام ، یس منسٹر بھی شوق سے دیکھتی ہیں، جبکہ گڈ پلیس بھی دیکھا ہے، اس سوال پر کہ کیا انھیں بھوت پریت پکارا جاسکتا ہے تو انھوں نے کہا کہ حال ہی میں نے بلیک ایڈردیکھا ۔

ماضی کے ایک کومیڈی شو ، مائنڈ یور لینگویج کے بارے میں جب انکی آرا دریافت کی گئی تو اس پر ملالہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ وہ جانتی ہیں کہ اس پروگرام میں اب وہ دلچسپی نہیں رہی جو کہ اس زمانے میں تھی، لیکن میں پھر بھی یہ کہوں گی ہاں یہ اپنے اندر بھرپور مزاح کا عنصر رکھتا تھا۔

اس سوال پر کہ وہ ذہنی تنائو کو کم کرنے اور خود کو ریلکس رکھنے کے لیے کیا کرتی ہیں تو ملالہ کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے وہ دوستوں کے ساتھ وقت گزارتی ہیں، کرکٹ کھیلتی ہیں ، گپ شپ کرتی ہیں یاپھر لنچ یا آئوٹنگ کے لیے نکل جاتی ہیں، ہاں جب میں یہ کہتی ہوں کہ مجھے کرکٹ سے لگائو ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں بہت اچھا کھیلتی ہوں۔

آکسفورڈ یونیورسٹی میں سال دوم میں زیرتعلیم ملالہ سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے کلاس روم میں کسطرح بہتر نتائج کے لیے تیاری کرتی ہیں، ملالہ نے کہا کہ اس حوالے سے اپنی بہترین کوشش کرتی ہیں تاہم جب میری والدہ وہاں آتی ہیں توکہتی ہیں کہ آف کردیں۔

اپنے کمرے میں کوئی پوسٹر یا تصویر لگانے کے بارے میں ملالہ کا کہنا تھا کہ وہ پوسٹر لگانے کی زیادہ شائق نہیں ہیں تاہم انکے کمرے میں پاکستان کی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی تصویر لگی ہوئی ہے۔ مہاجرین کے حوالے سے لکھی گئی اپنی حالیہ تصنیف کے بارے میں انکا کہنا تھا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ یہ وقت ہے کہ وہ مہاجر لڑکیوں کی اسٹوریز کو شیئر کریں کیونکہ ہم نے مہاجر اور تارکین وطن کے بارے میں سنا ہےلیکن ہم نے کبھی ان سے بات نہیں کی، بالخصوص خواتین اور نوجوان لڑکیوں سے کبھی حالات کار کے بارے میں نہیں پوچھا۔

قومی خبریں سے مزید