آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات15؍ جمادی الثانی 1440ھ 21؍فروری 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں نے مرد کی بے بسی تب محسوس کی، جب میرے والد کینسر سے جنگ لڑ رہے تھے اور انہیں صحت یاب ہونے سے زیادہ اس بات کی فکر لاحق تھی ،کہ جو کچھ انہوں نے اپنے بچوں کے لیے بچایا تھا، وہ ان کی بیماری پر خرچ ہوہاہے اور ان کے بعد ہمارا کیا ہوگا؟

میں نے مرد کی قربانی تب دیکھی ،جب ایک مرتبہ بازارمیںعید کی شاپنگ کرنے گئی اور ایک فیملی کو دیکھا ،خاتون اور بچوں کے ہاتھوں میں شاپنگ بیگز کا ڈھیر تھا اور بیوی شوہر سے کہہ رہی تھی کہ میری اور بچوں کی خریداری پوری ہوگئی ہے، آپ نےبس ایک کرتا ہی خرید اہے، کوئی نئی چپل بھی خرید لیں ،جس پر جواب آیا ضرورت ہی نہیں پچھلے سال والی کون سی زیادہ پہنی ہے، اب بھی نئی کی نئی لگتی ہے، تم دیکھ لو اور کیا لینا ہے، بعد میں اکیلے آکر اس رش میں کچھ نہیں لے پاؤ گی، ابھی میں ساتھ ہوں ،جو خریدنا ہے، آج ہی خرید لو۔

میں نے مرد کا ایثار تب محسوس کیا ،جب وہ اپنی بیوی بچوں کے لیے کچھ لایا، تو اپنی ماں اور بہن کے لیے بھی لایا۔

میں نے مرد کا تحفظ تب دیکھا ،جب سڑک پار کرتے وقت اس نے اپنے ساتھ چلنے والی فیملی کو اپنے پیچھے کرتے ہوئے، خود کو سامنے رکھا۔

میں نے مرد کا ضبط تب دیکھا ،جب اس کی جوان بیٹی گھر اُجڑنے پر واپس لوٹی تو اس نے غم کو چھپاتے ہوئے بیٹی کو سینے سے لگایا اور کہا کہ’’ ابھی میں زندہ ہوں‘‘، لیکن اس کی کھنچتی ہوئے کنپٹیاں اور سرخ ہوتی ہوئی آنکھیں بتارہی تھیں کہ ڈھیر تو وہ بھی ہوچکا، رونا تو وہ بھی چاہتا ہے، مگر یہ جملہ کہ ’’مرد کبھی روتا نہیں ہے‘‘ اسے رونے نہیں دے گا۔

انتخاب: کنول فاطمہ

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں