آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل17؍شعبان المعظم 1440ھ 23؍ اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

23جون ، 2011پاکستان کی صحافتی شخصیت مجید نظامی مرحوم کا ایک بیان، ان کے اپنے اخبار کے صفحہ اول پر شائع ہوا۔ گفتگو سے پہلے اسے ملاحظہ فرماتے چلیں، جناب نظامی صاحب نے کہا تھا’’میاں محمد نواز شریف نے آزاد کشمیر کی انتخابی مہم میں صدر زرداری کو بھی تختہ مشق بنایا ہے، جواب میں انہوں نے نوڈیرومیں شہید بینظیر بھٹو کی سالگرہ کے موقع پر تقریر میں میاں صاحب کو رگڑا لگایا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ ان کے’’سیاسی گرو‘‘ نے مجھے’’مرد حُر‘‘ کا خطاب دیا تھا اور ’’سیاسی گرو‘‘ ہی نے کہا تھا کہ یہ قید نہیں کاٹ سکتے مچھر کاٹتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میرے شریف فیملی کے ساتھ اس وقت سے تعلقات ہیں جب اتفاق انڈسٹریز کو ٹیک اوور کیا گیا اور میاں صاحب کے مرحوم والد محترم میاں محمد شریف مرحوم میرے پاس دفتر میں تشریف لائے............!’’ان کے بیٹے میرے عزیز و محترم ضرور ہیں لیکن میں کسی کا’’سیاسی گرو‘‘ نہیں اور نہ ہی مجھے کوئی سیاسی گرو مانتا ہے، میں نے جب زرداری صاحب کو صرف لمبی جیل کاٹنے کی وجہ سے مرد حُر قرار دیا تھا تو میاں صاحب جدّہ کے سروُر پلس میں سروُر لے رہے تھے........جب سروُر پیلس کے ڈائننگ ٹیبل پر میاں صاحب نے مختصراً کہا کہ آپ نے زرداری صاحب کو ’’مرد حُر‘‘ قرار دے دیا ہے تو میں نے جواب دیا ’’اگر آپ بھی یہاں سروُر نہ لے رہے ہوتے جیل میں ہوتے تو اس سے پہلے میرے ’’مرد حُر‘‘ ہوتے۔ میں’’مرد حُر‘‘ کا خطاب واپس نہیں لوں گا، ازراہ کرم صدر زرداری صاحب ’’سیاسی گُرو‘‘ کا خطاب واپس لے لیں کیونکہ میں کسی کا سیاسی گرو ہوں نہ میرے سیاسی مقاصد ہیں!‘‘۔

’’مرد حُر‘‘ کے خطاب کا یہ باضابطہ تاریخی حوالہ آج ان جاری مہمات کے پس منظر میں دیا جاناناگزیر تھا۔ سابق صدر ان دنوں جن کا ٹارگٹ ہیں۔ حوال یہ ہے ’’مرد حُر‘‘ کی شخصیت کا ذاتی، سیاسی، رومانوی، نظریاتی اور قبائلی نین نقشہ اور نفسیاتی تشکیلی تجزیاتی سراپا کن خطوط کی نشاندہی کرتا اور کیسے قابل غور زاویے سامنے لاتا ہے۔‘‘بنجر ذہنی زمین میں اگے درختوں کی خشک ٹہنیوں پر بیٹھے ہوئے زرداری کے مخالف پرندوں کی تحریری اڑانیں بےبال و بے پر ہوچکی ہیں۔ وہ جنہوں نے پیپلز پارٹی کی گزشتہ منتخب حکومت کے اقتدار سنبھالتے اور سابق صدر کے حلف اٹھاتے ہی آصف علی زرداری کی ذہنی بیماریوں کی تفصیلات بیان کرنا شروع کی تھیں، پھر گزرے پانچ برسوں میں ان لوگوں کی ناتراشیدہ دماغی کیفیتوں نے انہیں سرسامی مزاج کا شکار کردیا تھا، جس طرح ان گزرے پانچ برسوں میں سابق صدر کی رخصتی اور پیپلز پارٹی کی گزشتہ منتخب حکومت کے آئینی مدت کے ملکی مقدمے سے پہلے گھر جانے کی پیش گوئیوں کے رسوا کن حشر نے ان کے خود ساختہ سنجیدہ چہروں کے پیچھے چھپا ہوا مضحکہ خیز بونا پن بے نقاب کیا، قریہ قریہ ان کی پیش گوئیوں اور تجزیوں کے جنازے اٹھے، فاتحہ خوانی ہوئی لیکن آفرین ہے پاکستانی عوام کی تقدیر میں لکھے ا یسے دانشوروں کی ان بدنصیبیوں پر جن کی پیشانیوں پر ایک قطرہ انفعال بھی ٹپکتا یا لرزتا دکھائی نہ دیا؟

پیپلز پارٹی کو چھوڑ کے تمام سیاسی جماعتوں میں ٹکٹوں کی تقسیم کا مسئلہ ’’کھمبوں‘‘ پر چڑھا ہوتا ہے، جہاں کھمبے نہیں وہاں خاندانوں کی سماجی سلامتی سرخ نشان پر پہنچ جاتی ہے۔سابق صدر کے مخالف ٹڈی دل کے تحریری عذابوں نے ان دنوں پاکستانی معاشرے کو حوصلہ شکن نفسیات کا قیدی بنادیا تھا۔ سابق صدر ایک ایسے میڈیا فوبیا کی مشق ستم کا سب سے آسان ہدف رہے جس کا کم از کم مقصد صدر کو ہمیشہ عوام کی نظروں میں متنازع بنائے رکھتا تھا۔ ان ناپختہ کاروں کے نزدیک ان حربوں کے نتیجے میں سابق صدر کی مستقل مزاج بصیرت کسی احساس شکست سے دو چار ہوسکتی تھی۔دشمنی کی حد تک سابق صدر کے ان تین چار نقادوں کو’’سچ‘‘ کی اس راہ پر چلتے ہوئے کبھی ایک کانٹا بھی نہیں چبھا بلکہ یہ سب ایک پرتعیش اور دولت سے بھرپور زندگی کے دریائوں میں غسل فرمارہے ہیں۔پنجاب کے تھانوں میں لگی تصویروں کی طرح صدر کے مخالف یہ حق گو ’’مجاہدین‘‘ پاکستانی عوام کو اپنی زیارت کرانے اور بالکل’’ریاستی مفروروں‘‘ کی طرز میں اپنے اپنے الیکٹرانک چینل پر اپنے جان و مال کو لاحق خطرات کے اعلامیے نشر کرتے ہیں۔ انسانی معاشرے نے حق گوئی کے پیکروں کو ہمیشہ عظمتوں کے عنوانوں سے منسوب کیا ہے۔ مخلوق خدا نے ایسے لوگوں کی راہ میں ہمیشہ دیدہ و دل فرش راہ کئے اور سلام احترام پیش کیا۔ سابق صدر کے سیاسی اور صحافتی ’’حق گو‘‘ مخالفین کی بہت بڑی اکثریت بشمول تین چار خصوصی ’’ اسپیشل مخالف صحافتی کمانڈوز‘‘ کے اس لحاظ سے دنیا کی اس پوری تاریخ کے وہ انوکھے اور نایاب ’’سچے‘‘ ہیں، جنہیں پاکستانی معاشرہ میں سابق صدر کے حوالے سے ’’گوئبلز‘‘، سیاپا گروپ‘‘ اور صومالی قذاقوں‘‘ جیسے کلنک کے ٹیکوں کا اعزاز دیا جاتا ہے۔

قومی پارلیمنٹ میں آصف علی زرداری کی تقریر! یہ وژنری سیاسی رہنما ہی نہیں ایک مکمل Statesmanکا خطاب تھا!Statesmanقوموں کے لئے قدرت کا عطیہ ہوتے ہیں، آصف علی زرداری کو بھی ایسی ہی نعمتوں میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ شمار کیا جانا چاہئے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں