آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 12؍جماد ی الثانی 1440ھ 18؍فروری 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خودکار گاڑیاں، مستقبل میں ریل اور بس پر سفرکا رجحان ختم ہوجائے گا، منفی اثرات سے نمٹنے کیلئے اقدامات ناگزیر

کارلیڈز ( ندیم راٹھور ) لیڈز یونیورسٹی میں قائم ٹرانسپورٹ کے مستقبل میں رحجانات پہ تحقیقات کرنے والے شعبہ نے پیش گوئی کی ہے آنے والے دور میں ریل اور بس پر سفر کرنے کی بتدریج کمی کی وجہ سے ان کا جاری رہنا یکسر ختم ہو سکتا ہے ۔ لیڈز یونیورسٹی ٹرانسپورٹ ماہرین کے مطابق دو ہزار پچاس تک پبلک ٹرانسپورٹ کے روایتی استعمال میں کم ازکم اٹھارہ فیصد کمی واقع ہو جائے گی جس کی وجہ سے ان اداروں کا معاشی اور مالی طور پہ جاری رہنا ممکن نہیں رہے گا ۔ لیڈز انسٹیٹیوٹ آف ٹرانسپورٹ سٹیڈی کے کو آرتھر پروفیسر سائمن شیفرڈ اور پروفیسر مے ایمر یٹس نے اپنی ریسرچ اور تحقیقات کے تفصیلات بتاتے ہوئے مذید کہا کہ آنے والا دور یقیناً بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑیوں کا ہے ۔جن کی وجہ سے حادثات بہت کم ہو جائیں گے جبکہ لوگ چھوٹے اور لمبے فاصلوں کے لئے بھی پبلک ٹرانسپورٹ کی جگہ ان گاڑیوں کو استعمال کرنا شروع کر دیں گے ۔ یہ خود مختار گاڑیاں پارکنگ کی جگہ بھی خود ہی تلاش کر سکیں

گی اور سواری کو پک اور ڈراپ بھی کر سکیں گی ۔ ماہرین کے مطابق مستقبل کے ان رحجانات کا عوام کے عمومی طرز زندگی پر بھی نمایاں اثرات مرتب ہوں گے ۔ گاڑیوں کے استعمال میں سہولت اور آرام دہی کے وجہ سے پچاس فیصد اضافہ متوقع ہے ۔جس کی وجہ نہ صرف پبلک ٹرانسپورٹ میں نمایاں کمی ہوگی بلکہ سائیکل کے استعمال اور پیدل چل کر کہیں پہنچنے کی روایات بھی مفقود ہوتی جائیں گی۔ ان تبدیلیوں کی وجہ سے کچھ منفی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں جن سے نپٹنے کے لئے ابھی سے ہوم ورک اور ریسرچ کرنا ہوگی ۔ ان منفی تبدیلیوں کا زیادہ تر اثر ماحولیات اورسڑکوں پر ہو سکتا ہے ۔ ہمیں ابھی سے پیش بندی کرنا ہوگی کہ آیا ہماری سڑکیں گاڑیوں کے آنے والے سیلاب اور اس سے جُڑے مسائل کا سامنا کر سکیں گی اور نئے قوانین سے دھوئیں اور ایمیشن کو کیونکر قابو میں رکھا جاسکتا ہے ؟ یہ پیش گوئی اس وقت سامنے آئی ہے جب لیڈز سٹی کونسل پہلے ہی شہر میں ٹرانسپورٹ کے پچھلے منصوبوں کی پے در پے ناکامیوں کے تدارک کے لئے شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کا جال پچھانے کا نیا منصوبہ تیار کر رہی ہے ۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ آیا کونسل شہر میں اس بڑے ٹرا نزٹ منصوبے کو کیسے عملی جامہ پہنانا چاہتی ہے ۔ شاید شہر میں ٹرام چلائی جائے یا پھرجدید بسوں کا کوئی نیا سسٹم چلایا جائے گا ۔ یہ پلان ا س لئے تیار کیا جارہا ہے کہ پچھلے بیس سال میں لیڈز میں پبلک ٹرانسپورٹ کو مربوط طریقے سے چلانے کی ہر مہم ناکامی سے دوچار ہوئی ہے ۔ لیڈز کے ان ٹرانسپورٹ مسائل کو ایک سٹیڈی کیس کے طور پر لے کریڈز یونیورسٹی کے محققین نے دو اور اداروں کے اشتراک سے خود کار گاڑیوں کی آمد اور مستقبل میں ان کی مقبولیت کے حوالے سے ایک طویل ریسرچ کی ہے ۔ جس کے مطابق تیس سے چالیس فیصد اوسط سفر کرنے والوں کے دورانیہ میں بھی اضافہ ہوگا ، اس طرح خودکار گاڑیاں ایک دن ڈرائیور والی گاڑیوں سے کہیں زیادہ مقبول اور عام ہو جائیں گی ۔ویسٹ یارکشائر کمبائنڈ اتھارٹی ٹرانسپورٹ کمیٹی کے چیئرمین کونسلر کِم گرووز نے کہا ہے کہ کونسلز ان نئے رحجانات اور تبدیلیوں سے مکمل طور پر آگاہ ہیں ۔ ہمارا واضح مقصد لوگوں کی سہولت کے ساتھ ساتھ سڑکوں پہ بڑھتے ہوئے رش ، فضائی اور ماحولیاتی آلودگی کے منفی اثرات کو کم سے کم رکھنا ہے ۔ یاد رہے کہ پچھلے کچھ سالوں سے ڈرائیور کے بغیر گاڑیاں اور لاریاں بنانے اور جلد از جلد سڑکوں پہ لانے کے منصوبے پہ دنیا کی کئی کمپنیاں کام کر رہی ہیں تاکہ وہ سب سے پہلے اس اچھوتے اور دور رس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ سکیں ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں