آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 12؍جماد ی الثانی 1440ھ 18؍فروری 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایسی دانشمندانہ اور سلجھائو کی تقریر کبھی کبھار ہی سننے میں آئی۔ اور عین اُس وقت جب عدالتی فرمانروائی کا سورج غروب ہو رہا تھا اور عدالتی متانت کی موہوم سی کرن جھلملانے کو تھی۔ پاکستان کے نئے چیف جسٹس عزت مآب آصف سعید کھوسہ صاحب نے ریاستی باہمی دھینگامشتی کے خوفناک پس منظر میں جس دانائی کے ساتھ پاکستان میں آئین کی حکمرانی، اداراتی تجاوزات، پالیسی و انتظامی معاملات میں عدلیہ کی دخل اندازی، سیاسی و حکومتی امور میں سلامتی کے اداروں کی مداخلت، مقننہ کی روزمرہ انتظامی امور میں سیاست بازی، سویلین بالادستی، جمہوریت کے استحکام اور عوام کے انسانی و شہری حقوق کے احترام، جبری گمشدگیوں پہ ریاستی پشیمانی، سوموٹو اختیارات کا محدود تر استثنائی استعمال، آرٹیکل 184(3) کی حدبندی، مقدمات میں تاخیر اور ناانصافی کے سدباب کے لیے بند بنانے اور 19 لاکھ زیرِ التوا مقدمات کا قرض اُتارنے کے حوالے سے جن مسائل کی نشاندہی کی ہے، اُن سے کسی کو کیا اختلاف ہو سکتا ہے۔ یہاں یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ جمہوری عبور کے گزشتہ عشرہ میں دو وزرائے اعظم عدلیہ کے ہاتھوں فارغ ہوئے یا پھر سب کے سب عدالتی تحرک کا لقمہ بن گئے۔ جمہوری عبور کے دور میں جہاں پارلیمنٹ اور وزیراعظم اپنے چھنے ہوئے مقام کو حاصل کرنے کی تگ و دو میں رہے وہیں عدلیہ نے انتظامی امور میں حد سے بڑھی ہوئی مداخلت کے ذریعے سول حکومتوں کی رٹ کو آئین کے آرٹیکل 184(3) اور توہینِ عدالت کے قانون کو استعمال کرتے ہوئے محدود تر کر دیا۔ جناب جسٹس کھوسہ نے ان مسائل کے حوالے سے اور اداراتی تحدید و توازن کے ناتے سے ایک بین الاداراتی مکالمے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے صدرِ مملکت کو تجویز پیش کی ہے کہ وہ پارلیمان، عدلیہ اور فوج و خفیہ ایجنسیوں کے نمائندوں کے مابین مشاورت کا اہتمام کریں۔ یہ بین الاداراتی فورم مقننہ کی عدلیہ و دیگر اداروں سے اور عدلیہ کی مقننہ و انتظامیہ سے شکایات کے ازالے، سلامتی کے تقاضوں کے حصول کے لیے ذمہ دارانہ طرزِ عمل کو بروئے کار لانے اور سول انتظامیہ کو اچھی حکومت کے حصول کے لیے سیاسی مداخلت سے تحفظ فراہم کرنے سمیت تمام متنازعہ معاملات پہ قابلِ عمل تجاویز مرتب کرے۔ نیز یہ چیف جسٹس کی جانب سے ماضی میں کی گئی تمام اداراتی تجاوزات، آئین شکنیوں اور تاریخی زیادتیوں کے حوالے سے سچائی اور مصالحت(Truth and Reconciliation) کے جذبہ سے ماضی کے زخموں پہ مرہم رکھنے، اصلاحِ احوال کے لیے اقدامات کرنے اور ایک میثاقِ حکمرانی مرتب کرنے کی دعوت ایک تاریخی قدم ہے جو پاکستان کو اس کے اداراتی بحران کے بھنور سے نکال سکتا ہے۔ سینیٹ کے سابق چیئرمین جناب رضا ربانی نے بھی بطور چیئرمین ایسی ہی تجویز پیش کی تھی، اب اُسی طرح کی تجویز کا چیف جسٹس صاحب کی جانب سے آنا ایک نہایت اہم پیش رفت ہے۔ ہونا تو یہ فورم پارلیمنٹ میں چاہیے لیکن صدرِ مملکت چونکہ پارلیمنٹ کا حصہ ہیں اور وفاق کا سمبل بھی، انہیں اس ضمن میں مقننہ کے دونوں ایوانوں کے رہنمائوں، سول سوسائٹی کے مستند نمائندوں، انتظامی ذمہ داروں اور سلامتی کے اداروں سے باقاعدہ مشاورت کا اعلان کرنا چاہیے تاکہ اس پر قومی اتفاقِ رائے سے آگے بڑھا جا سکے۔

میثاقِ حکمرانی کی تجویز اس امر کی غماز ہے کہ 1973 کے عمرانی معاہدے کے باوجود مختلف ادارے اپنی اپنی حدود میں کام نہیں کر رہے اور مملکتی نظام طاقت کے کسی غیرمرئی اور غیرقانونی (defecto) ڈھب پہ چل رہا ہے، جس کی کہ آئین کی رُو کے مطابق اصلاح کی ضرورت ہے۔ اگر سیاست دانوں اور منتخب حکومتوں پہ جمہوری اور اچھی حکومت کے اُصولوں سے روگردانی کا الزام لگتا ہے تو عدلیہ سے بھی یہ دیرینہ شکایت رہی ہے کہ وہ آئین توڑنے والوں کی ہمنوا بنی اور انتظامیہ کے معاملات میں عدالتی دائرہ عمل سے باہر نکل کر رحمت کی بجائے زحمت کا باعث بنی۔ اسی طرح عوام کی حکمرانی، ووٹ کے تقدس اور منتخب اداروں کی سویلین بالادستی غاصبوں کی مہم جوئی کی نذر ہوتی رہی۔ چیف جسٹس صاحب نے بجاطور پر فرمایا ہے کہ حکومتی و سیاسی معاملات میں فوج اور ایجنسیوں کے کردار، پالیسی معاملات میں عدالتوں کی مداخلت پر بھی بات چیت ہونی چاہیے۔ ایک عدالتی نظام اور تین درجوں کی عدلیہ کے حوالے سے بھی جسٹس کھوسہ صاحب نے اہم باتیں کی ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ایک وفاق میں ایک وفاقی آئینی عدالت ہو جو صرف آئینی معاملات کو دیکھے۔ انصاف کے جلد حصول کے لیے پنجاب کے سابق چیف جسٹس جناب جسٹس منصور علی شاہ نے کچھ اضلاع میں جو ماڈل عدالتیں قائم کی تھیں کیوں نہ اُن کو پورے ملک تک وسیع کر دیا جائے۔ بجائے اس کے کہ نظامِ انصاف کی اصلاح کی جائے پھر سے فوجی عدالتوں میں توسیع کی تجویز کیوںزیرِ غور ہے۔ اب جب دہشت گردی کا زور ٹوٹ گیا ہے کیوں نہ دہشت گردی کی عدالتوں کو موثر بنایا جائے اور اس میں کوئی ایسی بڑی مشکل بھی نہیں۔

بڑھتے کنفیوژن اور مغلظاتی سیاست کے اس دور میں جہاں چیف جسٹس آف پاکستان نے نہایت سنجیدہ معاملات پر میثاقِ حکمرانی کی دانشمندانہ تجویز پیش کی ہے، اسی طرح حزبِ اختلاف کی جماعتوں میں بھی پھر سے ایک نئے میثاقِ جمہوریت کی ضرورت پر بحث چھڑی ہے۔ کیوں نہ پارلیمنٹ میں موجود تمام جماعتوں اور شہری و انسانی حقوق کی تنظیموں کے مابین بھی ایک نئے میثاقِ جمہوریت یا میثاقِ انسانی، شہری اور معاشی حقوق پہ تبادلۂ خیال کیا جائے۔ اس کے لیے ایسے لوگوں کو سامنے آنا چاہیے جو تمام منتخب جماعتوں کے لیے قابلِ قبول ہوں۔ میثاقِ حکمرانی اور میثاقِ حقوق و جمہوریت پہ وسیع تر اتفاق کی صورت میں ملک میں آئین، قانون اور اچھی حکمرانی کے لیے انتظامیہ و عدلیہ اور ریاستی اداروں میں اصلاح کے عمل کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے حوالے سے جس طرح کی بدگمانیاں پیدا کی جا رہی ہیں، وہ وفاق کے لیے نیک شگون نہیں۔ پارلیمنٹ کو اس بارے میں ایک واضح پیغام دینا چاہیے، اس لیے بھی کہ اس کی تیاری اور منظوری میں سبھی جماعتیں شامل تھیں۔ ضروری ہے کہ موجودہ سیاسی جوتم پیزار کی بجائے حکومت اور اپوزیشن باہمی پارلیمانی ادب و آداب کی ترویج کرتے ہوئے ملک کو درپیش چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کریں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں