آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ہم نے بچپن میں چالاک لومڑی کی کہانی سے یہ سبق سیکھا کہ جن کی پہنچ انگوروں تک ممکن ہوتی ہے ان کے لئے وہ میٹھے اور جن کی دسترس سے باہر ہوں ان کے لئے کھٹے ہوتے ہیں۔ بڑے ہوئے تو’ ’آشوبِ آگہی“ نے ہمیں سکھایا کہ یہ تو ایک ”یونیورسل ٹرتھ“ ہے جسے مصنف نے بچوں کو سمجھانے کے لئے انگور کو محض استعارے کے طور پر استعمال کیا ہے مثلاً جو روز دندناتے ہوئے چاند پر پہنچ جاتے ہیں ان کے لئے تو وہ پتھریلی چٹانوں پر مشتمل ایک حقیقت ہے اور جن کے دریچہ فکر پر سائنس نے دستک نہیں دی ان کے لئے ایسا ”افسانوی ماموں“ ہے جو عید پر بھی ان سے آنکھ مچولی کھیلتا ہے اور وہ تین تین عیدیں مناتے ہیں۔ اس باہمی تضاد کو ہم بالترتیب فریقین کی علم دوستی اور علم دشمنی سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں ۔ اسی تضاد کا شاخسانہ ہے کہ ایک فریق جدید سائنس و ٹیکنالوجی کے طفیل دنیا پر اپنا سکّہ جما بھی لیتا ہے جبکہ دوسرا فریق اپنے ایک ہاتھ میں کشکول اور دوسرے میں ڈنڈا اٹھائے ایک ایسی دنیا پر اپنا پرچم لہرانے کے خواب دیکھتا ہے جس کی ہیئت ہی اس کے لئے کھٹے انگوروں جیسی ہے۔
اسی یونیورسل ٹرتھ کے تحت جمہوریت کے انگوروں میں بھی صرف ان کے لئے مٹھاس ہے جن کی وہ دسترس میں ہیں اور جن بونوں کی چھلانگیں عوامی نمائندگی کے انگوروں تک نہیں پہنچ سکتیں ان کے لئے وہ کھٹے ہوتے

ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کوتاہ قد ”انگوروں“ کا باغ اجاڑنے کے درپے رہتے ہیں ۔ ہماری مختصر تاریخ شاہد ہے کہ ہمیشہ عوام اور ان کے منتخب نمائندے ہی جمہوری انگوروں سے استفادہ کرتے ہیں جبکہ ”صراط مستقیم کے مسافر“ آمریت کے خوان نعمت سے شکم سیر ہونے کو ترجیح دیتے ہیں ۔شجر جمہوریت پر لگے انگور دیکھ کر عشاقان آمریت کے منہ میں بھی پانی ضرور بھر آتا ہے لیکن چونکہ ان کی فکری اڑان عوامی گردنوں پر سواری کرنے اور شخصی حقوق کی بیخ کنی سے اوپر نہیں جا سکتی لہٰذا عوام اپنی نمائندگی کے انگوروں کو ان کی پہنچ سے دور رکھتے ہیں۔ ردعمل میں ”ڈکٹیٹر شپ لورز“ اپنے منہ میں آئے اس پانی کو تھوک کر پھر سے آمروں کا پانی بھرنے پر لگ جاتے ہیں۔ وہ جمہوری ادوار میں آئین کی پاسداری کا ٹھیکہ بزور بازو حاصل کر لیتے ہیں مگر جونہی ناقوس آمریت بجتا ہے، مفادات و مراعات کی چراگاہوں میں منہ مارنے کے یہ پرانے پاپی آئین کی پاسبانی کی بجائے اپنی جبینِ نیاز اس نئی چوکھٹ پر جھکا دیتے ہیں۔
”ڈکٹیٹر شپ لورز“ آمریت میں ریشم کی طرح نرم اور’ ’کھٹے انگوروں“ کے موسم میں فولاد بن جاتے ہیں ۔ وہ غیر آئینی طریقے سے معرض وجود میں آنے والی شخصی حکمرانی کے دوران تو خوب پھلتے پھولتے ہیں مگر جمہوریت میں مثل ماہی بے آب تڑپتے ہیں ۔ ”ضیاء الحقی ادوار“ میں شہد ٹپکانے والی زبانیں آئین کی حکمرانی کے عہد میں مانند برق و شرر کڑکتی ہیں ۔ ایوب، یحییٰ ،ضیاء اور مشرف ایسے ”خلفائے صالحین“ کے زیر سایہ و جد و سماع کی محفلیں سجتی ہیں لیکن جمہوریت کے ”عشرے“ میں آمریت کے یہ عزادار ماتم داری کی مجالس برپا کرتے ہیں۔ انہیں منتخب عوامی نمائندوں کے استعفوں میں اپنی ”جمہوریت“ کی بقا نظر آتی ہے لہٰذا وہ تمام تر شرم وحیا کو بالائے طاق رکھ کر صبح شام عوامی مینڈیٹ کے سر پر اپنے جوتے توڑتے ہیں جبکہ عوام انتخابات میں یہی جوتے مع سود انہیں واپس بھی لوٹا دیتے ہیں۔ ”تحریک بحالی آمریت“ کا ہر نابغہ اپنی ذاتی اور گروہی خواہشات و مفادات کو ”رائے عامہ“بنانے کا سرکسی فن جانتا ہے اور جن کو65سالوں میں اس ملک کے باسیوں نے اپنے ووٹ سے نہیں نوازا، وہ اپنے عارضے کو ”عوامی بیماری“ ثابت کرنے کے ہنر میں یکتا ہیں۔
جمہوریت کے خلاف تازہ واردات اگلے دن لاہور میں ہوئی، جہاں پانچ سال کی نفع بخش ہجرت خود اختیاری کے بعد عین انتخابات کے وقت فصاحت و بلاغت کے دریا بہاتے ہوئے ہمارے لئے نیا جادہ حکمت تراشا گیا کہ ”سیاست نہیں ،ریاست بچاؤ“ بلاشبہ قائداعظم کی136ویں سالگرہ کی مناسبت سے ان کے افکار کی تشریح اور ان کی روح کو ایصال ثواب پہنچانے کا یہ بہترین طریقہ ہے ۔ نظام بدلنے کا تو خوب واویلا کیا گیا مگر طویل خطاب مستقبل کے بارے میں کسی لائحہ عمل سے تہی داماں تھا ۔ دنیا جانتی ہے کہ التوائے انتخابات کی اس چارہ گری کو فیڈ کن کمین گاہوں سے مل رہی ہے اور ایسے زعمائے ملت کے افکار کا سر چشمہ کہاں سے پھوٹتا ہے۔ کیا ستم ظریفی ہے کہ دنیا بھر میں تبدیلی بیلٹ باکس سے نکلتی ہے جبکہ ہمارے ہاں سالہا سال سے یہ ”کبوتر“ جادو کے ہیٹ سے برآمد کرنے کی ”مساعی جمیلہ“ میں دھول اڑا کر اپنے ہی سر میں ڈالی جا رہی ہے۔ بجا کہ ہم جمہوری میدان میں طفلِ مکتب ہیں اور ”صغیر سن“ میں ہم سے غلطیاں بھی ہوئی ہیں لیکن اس زہر کا تریاق بھی یہی نظام ہے بشرطیکہ اسے جاری رہنے دیا جائے اور وقفے وقفے سے ”اصلاحِ احوال “ کا تڑکا نہ لگایا جائے۔ نظام کی خرابیاں حسنِ خطابت، جذبات سے کھیلنے یا احساسات کی تجارت سے نہیں بلکہ مسلسل جمہوری عمل کی چھلنی سے گزر کر دور ہوتی ہیں۔ غیر جمہوری تبدیلی کے سازشی منصوبوں کا ”ثمر گراں“ یہ بد اختر قوم معاشی بدحالی، بدامنی،قتال و جدال، مہنگائی اور بے روزگاری کی صورت بہت بھگت چکی ۔ وائے حسرتا! خود ساختہ مسیحا تاریک رات کے خاتمے کی امید میں آنکھیں سفید کرنے والوں پر رحم اور انہیں ان کے حال پر چھوڑ کر اللہ اللہ کرتے۔
پس عام انتخابات کے خلاف عشاقان آمریت کی یہ ساری مہم جوئی اس وجہ سے ہے کہ ان کے لئے جمہوریت کے انگور کھٹے ہیں ۔ منو بھائی ان کی ”تعریف‘ ‘اس طرح کرتے ہیں کہ ”یہ لوگ عام انتخابات اور مذاکرات سے گریز کرتے ہیں کیونکہ انتخابات میں ان کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہوتی اور مذاکرات کے لئے ان کے پاس دلائل نہیں ہوتے“۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں