آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ15؍ رجب المرجب 1440ھ 23؍مارچ2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قونصل جنرل بارسلونا علی عمران چوہدری کا کہنا ہے کہ میرے دروازے سب کے لیے بلا امتیاز کھلے ہیں، ہم لوگ پاکستانی کمیونٹی کی خدمت کے لیے تعینات کیے جاتے ہیں اور اگر کمیونٹی ہم سے مل ہی نہیں سکے گی تو ہمارا ان ممالک میں آنے کا کیا فائدہ؟

قونصل جنرل بارسلونا علی عمران چوہدری نمائندہ جنگ اسپین کو خصوصی انٹرویودے رہے تھے۔

غیر ملکیوں کے پاکستان کے وزٹ ویزوں کے حوالے سے سوال پر کہ غیر ملکیوں کو کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں سیکیورٹی رسک ہے ہم آپ کو ویزے نہیں دے سکتے اور تمام کاغذات کو روک لیا جاتا ہے، سیکڑوں کاغذات اور ویزوں کی درخواستیں اس انتظار میں ہیں کہ ان کا کیا رزلٹ نکلے گا ؟کے جواب میں قونصل جنر ل نے بتایا کہ مجھے اس معاملے کا علم ہوا تو میں نے اس حوالے سے اپنے عملے سے بات کی،تو پتہ چلا کہ 700سے زیادہ ویزہ کیسز روکے گئے ہیں، میں نے اُسی وقت تمام ویزوں کے اجراء کو یقینی بنایا،تمام ویزے جاری کیے، اسٹاف کو سمجھایا اور اب صرف چند افراد ایسے رہ گئے ہیں جنہیں جلد ویزے جاری کیے جائیں گے ، اگر ہم ہی غیر ملکیوں کو ڈرائیں گے تو پاکستان کون جائے گا؟

روزنامہ جنگ نے سوال کیا کہ جو لوگ پاسپورٹ بنوانے کے لیے دخواست دیتے ہیں اُن کو کاغذات کی تصدیق کا کہہ کر کئی کئی ماہ کا انتظار کروایا جاتا ہے، جب بھی پاسپورٹ کا پتہ کرنے جائیں تو کہا جاتا ہے کہ ابھی انکوائری نہیں ہوئی، مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ کی انکوائری میں اتنا وقت کیوں لگتا ہے؟ جبکہ سب کچھ آن لائن ہے؟

جواب میں قونصل جنرل نے بتایا کہ آن لائن پاسپورٹ کو اٹینڈ کرنے والے کلرک شہزاد سے لوگوں کو یہ شکایت تھی کہ وہ جان بوجھ کر کیسز کو تاخیر کا شکار بناتا ہے، میں نے اس کی انکوائری کی تو پتا چلا کہ شہزاد نے 17سو پاسپورٹ کیسز کو ’’اووررول‘‘ کیٹیگری میں ڈال دیا ہے یعنی وہ پاکستان میں تصدیق کے لیے پہنچے ہی نہیں، میں نے اُسی وقت اس بات پر ایکشن لیا اور تمام کیسز کو پاکستان تصدیق کے لیے روانہ کروایا، اب اُن تمام کیسز میں سے چند کیس رہ گئے ہیں جن کے پاسپورٹ جلد بن جائیں گے۔

قونصل جنرل نے کہا کہ دیار غیر میں سفر کے لیے،رہاش کے لیے، مکان میں رہنے کی رجسٹریشن (انمپادرونامنت) کے لیے پاسپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے اور سیکڑوں پاکستانیوں کے پاسپورٹس رکے ہوئے تھے اب ان بے چارے پاکستانیوں کا کیا قصور تھاکہ ان کے پاس پاسپورٹ نہیں تھے اور اسپین میں وہ کسی بھی قسم کی قانونی سہولت سے محروم تھے ، میں خود قونصلیٹ میں آنے والوں سے ملتا ہوں، اُن کے مسائل پوچھتا ہوں اور جو مسائل فوری حل طلب ہوں انہیں اُسی وقت حل کرتا ہوں۔

جیلوں میں پاکستانی قیدیوں کے حوالے سے کیے گئے سوال کے جواب میں قونصل جنرل نے بتایا کہ اس وقت بارسلونا کی جیلوں میں 147پاکستانی مختلف نوعیت کے مقدمات میں قید کاٹ رہے ہیں جن کی ویلفیئر اور اُن کے معاملات کو جلد حل کرنے کے لئے اتنا کام نہیں ہو سکا جتنا ہونا چاہیے لیکن اب ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ویلفیئر قونصلر ان معاملات کو تیزی سے حل کریں۔

قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ میڈیا کو کھلی اجازت ہے کہ وہ اپنے کیمروں کے ساتھ قونصلیٹ آفس آئیں اور تمام معاملات کو از خود دیکھیں، اگر کوئی گڑ بڑ نظر آئے تو بتائیں تاکہ اُن معاملات کا سد با ب کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ میری کوشش ہے کہ کوئی پاکستانی بیمار ہو، یا اُس کی وفات ہو جائے تو ان معاملات میں تیزی سے کام کیا جائے تاکہ وفات پانے والوں کی میت جلد از جلد پاکستان پہنچ سکے اور بیماروں کو بر وقت علاج مہیا کیا جا سکے۔

پاکستانی کمیونٹی کو پیغام دیتے ہوئے قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ میرے دروازے سب کے لیے بلا امتیاز کھلے ہیں، کوئی بھی مسئلہ ہو مجھے لازمی مطلع کریں، ہمیں اچھی ہمسائیگی کا مظاہرہ کرنے کی اشد ضرورت ہے، یہاں کے قانون کا احترام ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے،کیونکہ ہم اپنے اچھے اخلاق سے مقامی کمیونٹی کو مثبت تاثر دے سکتے ہیں۔

قونصل جنرل سے ملاقات کے دوران پاکستان سے آئے ہوئے بزنس مین عابد گیلانی، اسپین میں پاکستانی کاروباری شخصیت چوہدری امتیاز آکیہ اور پاک آرمی کے سابق کمانڈو ظفر پہلوان بھی موجود تھے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں