آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ19؍ ذوالحجہ 1440ھ 21؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جیسے جیسے میرے قدم صحافی دوست ذیشان محمد کی رہائش گاہ کی جانب بڑھ رہے تھے، ایک عجیب سی کشمکش دل میں تھی۔ میں نے زندگی میں بہت سے مریضوں کی عیادت کی تھی لیکن ایسے نوجوان اور چاق و چوبند شخص کو اتنی شدید بیماریوں کا مقابلہ کرتے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ چند لمحوں بعد میں کراچی کے وسط میں واقع قدیم رہائشی بلڈنگ یوسف پلازہ کی دوسری منزل پر واقع دو کمروں کے فلیٹ میں موجود تھا ،بیل بجانے پر ایک چھوٹے سے بچے نے دروازہ کھولا اور اندر جاکر اطلاع دی ۔ گھر کا اندرونی منظر اس صحافی کے معاشی حالات اور کسمپرسی کی عکاسی کررہا تھا۔ ایک کمرہ جسے ڈرائنگ روم کا نام دیا گیا تھا، اس میں چھوٹے سے بیڈ پر لیٹا ذیشان محمد اٹھنے سے بھی قاصر تھا ساتھ ہی ایک صوفہ رکھا گیا تھا تاکہ آنے والے مہمان اس پر بیٹھ سکیں، جبکہ اگلے کمرے میں اہلیہ تین بچوں کے ساتھ تھیں ۔ ذیشان محمد کے سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی جو برین ٹیومر کے باعث ہونے والے زخم سے رسنے والے خون کو روکنے کے لیے لگائی گئی تھی جبکہ ایک ہاتھ پر ڈرپ لگی ہوئی تھی ۔ اسےچھ سال قبل سینے میں کینسر تشخیص ہوا جو علاج معالجے میں کوتاہی کے سبب اب بون میرو کینسر کی شکل اختیار کرگیاتھا ۔ بات صرف یہاں تک نہ رہی تھی بلکہ کینسر اور برین ٹیومر کی دوائوں کے سائیڈ افیکٹ کی وجہ سے گزشتہ سال ہارٹ اٹیک بھی ہوا اور فالج کا بھی حملہ ہوا تھا لیکن یہ بہادر شخص ان تمام بیماریوں سے نبرد آزما تھا ۔ اس کے معاشی حالات شروع سے ایسے نہیں تھے چند سال قبل وہ ایک عدد مکان اور ایک خوبصورت گاڑی کا مالک اور ایک اچھے میڈیا ہائوس میں ملازمت کررہا تھا لیکن پھر پے درپے ہونے والی خطرناک بیماریوں نے تمام چیزیں فروخت کرنے پر مجبور کردیا اور پھر کسی عزیز کی جانب سے پانچ مرلے کے مکان کا نچلا حصہ کچھ عرصے کے لیے دیا گیا اور پھر وہ بھی خالی کرالیا گیا تو یوسف پلازہ میں دو کمروں کا فلیٹ کرائے پر لے سکا جس کا ایڈوانس بھی کسی دوست نے ہی ادا کیا تھا۔ ذیشان محمد اس بیماری اور کسمپرسی کے باوجود اپنے بچوں کو دینی اور دنیاوی تعلیم دلوارہا تھا ،وہ تین بچوں کا باپ تھا بڑی بیٹی نویں جماعت میں ہے اوربیٹا پانچویں جماعت کا طالب علم ہے دونوں بچے قرآن پاک بھی حفظ کررہے ہیں ،سب سے چھوٹا بیٹا صرف ایک سال کا ہے۔ذیشان محمد کی عمر صرف بیالیس سال ہے اور زندگی کے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے، وہ بستر پر لیٹا روز کسی مسیحا کی راہ تکتا ہے اور روز ہی مایوس ہو کر اگلے دن کا اس امید کے ساتھ انتظار کرتا ہے کہ شاید کوئی مسیحا اس کےعلاج کی ذمہ داری سنبھال لے ، ذیشان محمد کے خاندان نے پاکستان کے لیے بہت سی خدمات انجام دی ہیں ،اس کے دادا قیام پاکستان سے قبل ہاکی کے نامور کھلاڑی تھے جو بھوپال ونڈر سے ہاکی کھیلا کرتے تھے اور قیام پاکستان کے بعد پاکستان آئے اور پھر پاکستان کی قومی ٹیم کے رکن بنے ماضی کے نصیر ددا کے نام سے ہر ہاکی سے شغف رکھنے والا واقف ہے۔ ذیشان کے والد بھی ہاکی کے بہترین کھلاڑی تھے ،وہ قومی ٹیم میں تو جگہ نہ بناسکے تاہم پاکستان نیوی کے ہاکی کوچ رہے ہیں جس کے بعد ذیشان خود گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی کی ٹیم کا کپتا ن رہا اور کئی کھلاڑی قومی ہاکی ٹیم میں پہنچے ۔ذیشان پاک نیوی کے سب میرین برانچ میں افسر بھی رہا وہاں ذمہ داریاں نبھانے کے بعد اس نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لی اور صحافت کے شعبے میں قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا اور پھر کئی اہم ٹی وی چینلز میں رپورٹنگ کے بعد ایک ادارے میں کنٹرولر نیوز کے عہدے پرفائز ہوگیا۔کراچی پریس کلب کا رکن بھی ہے تاہم اب یہ تمام چیزیں ثانوی ہیں ۔ ذیشان محمد عرف ذیشان خان اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے لیے جینا چاہتا ہے ، اسے علاج کی سخت ضرورت ہے اور یہ علاج انتہائی مہنگا ہے جس کے لیے اسےمالی مدد کی ضرورت ہے ۔ذیشان کے مطابق اس نے حکومت سندھ کے سیکرٹری اطلاعات کو خط میںتمام تفصیلات سے آگاہ کیا کہ گزشتہ سال اس کے برین ٹیومر کا آپریشن سنگا پور میں کیا گیا تھا جس میں بارہ لاکھ روپے کے اخراجات آئے تھے اب ایک بار پھر سنگاپور جانا ہے اور اس کے لیے اسے دس لاکھ روپے کی اشد ضرورت ہے تاہم سیکرٹری اطلاعات نے صرف دو لاکھ روپے دے کر ہاتھ کھینچ لیے اور یہ دو لاکھ روپے بھی اس کے کینسر اور پائوں میں ہونے والے فریکچر کے علاج پر خرچ ہوچکے ہیں ،اسے ایک بار پھر انیس فروری کو سنگاپور کے اسپتال سے ڈاکٹروں کاچیک اپ کا ٹائم ملاہے وہاں امریکن سرجن جنھوں نے اس کے برین ٹیومر کا آپریشن کیا تھا وہ بھی پہنچ رہے ہیں اور اس کے پاس کوئی وسیلہ نہیں ہے۔ لیکن بستر مرگ پر موجود ذیشان اللہ تعالی کی رحمت سے مایوس نہیں ہے وہ مسلسل اللہ تعالی کا شکر ادا کررہا تھا کہ اس امتحان کے لیے اللہ تعالیٰ نے اسے چنا ہے ، میں کافی دیر سے سر جھکائے ذیشان کی بیماری اور حالات زندگی سن رہا تھا کیونکہ میر ی جانب سے کی جانے والی مدد بھی اس کے علاج کے لیے ناکافی تھی ۔میرے پاس الفاظ بھی نہیں تھے کہ میں اسے تسلی دیتا لیکن یہ وعدہ ضرور کیا کہ اس کی اپیل اپنے کالم کے ذریعے دنیا تک ضرورپہنچائوں گا شاید اس کی اپیل کسی درد دل رکھنے والے کی آنکھوں اور کانوں تک پہنچ سکے شاید کوئی صاحب ثروت انسان اپنی آخرت سنوارنے کے لیے ذیشان کی زندگی بچانے کے لئے کچھ کر سکے۔ ذیشان خان فیس بک پر zeshan.khan.585559سے موجود ہے اس کا شوکت خانم اسپتال میںکینسر کا آپریشن ہوچکا ہے جبکہ اب آغا خان سے بون میرو کا علاج بھی نامکمل ہے اوربرین ٹیومر کے لیے سنگا پور میں آپریشن ہوچکا ہے۔ یقین جانیے اچانک موت آجائے تو آدمی ایک ہی بار مرتا ہے اور یہ معلوم ہوجائے کہ زندگی کے صرف چھ ماہ باقی ہیں تو انسان روز جیتا اور روز مرتا ہے ۔اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ ذیشان کا سایہ اس کے معصوم بچوں پر قائم رکھے اور اس سے زندگی میں کوئی غلطی ہوئی ہو تو اس کی خطائوں کو بھی معاف فرمائے بے شک اللہ تعالیٰ سب سے بڑا معاف کرنے والا ہے ۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)