آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات 14؍ربیع الثانی 1441ھ 12؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پاکستانی نثاد ’’سبین علی‘‘ سیلیکون ویلی کے گلوبل ہیکاتھون کی بانی

کئی باصلاحیت پاکستانیوں نے بیرون ملک پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔ ایسے ہی ناموں میں ایک نیا اضافہ سبین علی کا ہے، جو سیلیکون ویلی میں اسٹارٹ اَپس کو اپنے آئیڈیاز ڈیویلپ کرنے اور ان میں دلچسپی رکھنے والے انویسٹرز سے ملوانے کا پلیٹ فارم فراہم کرتی ہیں۔

سبین علی نے محدود وسائل اوروقت میں بہت کچھ کرنااس وقت سیکھا جب ان کے والد، جو پاکستان سے نقل مکانی کر کے امریکا آئے تھے، اس دنیا میں نہ رہے۔ ایسے میں سبین نے اپنی والدہ کے ساتھ مل کر اپنے تین بہن بھائیوں کو سنبھالا۔

سبین کہتی ہیں، ’’ایک تو ہم ایک مختلف کلچر(ثقافت) اور ٹریڈیشن (روایت)سے مقابلہ کر رہے تھے اور پھر ایک پاکستانی ہونے کے علاوہ میں ایک خاتون کے طور پر ٹیکنالوجی انڈسٹری میں بھی ایک اقلیت ہوں، تو یہ سب آسان نہیں تھا‘۔

سبین علی کی شادی بھی کچھ جلدی میں ہی ہو گئی اور انھوں نے اپنے پہلے کاروبار کا آغاز اس وقت کیا، جب ان کی پہلی بیٹی کی پیدائش ہوئی۔ ان کے مطابق ان کا پہلا اسٹارٹ اَپ کاروبار اس وقت شروع ہوا، جب ان کی بیٹی چار ماہ کی تھی اور اس کے باوجو د انھوں نے گھر سے کام شروع کیا تا کہ کام کے ساتھ ساتھ اپنی بیٹی کو بھی وقت دے سکیں۔

سبین علی نے سب سے پہلے Team Building ROI نامی ایک کمپنی بنائی تھی، جہاں گوگل، آئی بی ایم، بلیک بیری، نیٹ ایپ، سِسکو اور اس طرح کی دیگر کئی کمپنیوں کو لیڈرشپ اور آرگنائزیشنل ڈیویلپمنٹ کی تربیت فراہم کی جاتی تھی۔ سبین علی نے یونیورسٹی آف سان فرانسسکو سے آرگنائزیشن ڈیویلپمنٹ میں M.S.کی ڈگری حاصل کی ہے اور وہ ’چینج مینجمنٹ‘ میں ماہرسمجھی جاتی ہیں۔

سبین علی نے ایک غیرمنافع بخش ادارے Code For A Causeکی بھی بنیاد رکھی، جو ٹیکنالوجی اور کوڈنگ کو سب کیلئے عام کرنے کیلئے کام کرتا ہے۔ اس ادارے کا مقصد ٹیکنالوجی سے منسلک کمیونٹی کو ایک جگہ یکجا کرنا ہے تاکہ دنیا کو رہنے کیلئے بہتر جگہ بنایا جاسکے۔ 2013ء میں اپنے قیام کے بعد سے یہ ادارہ ڈیویلپرز کو ایک دوسرے سے ملوانے کے علاوہ خواتین، لڑکیوں، اقلیتوں اور دیگر پسماندہ طبقات کو سپورٹ  کرنےکیلئے متعدد ایونٹس کا انعقاد کرچکا ہے۔

’کوڈ فار اے کاز‘ کے ساتھ ساتھ سبین نے اپنا دوسرا اسٹارٹ اَپ ’اینجل ہیک‘ بنایا، جو دنیا بھر میں ہیکاتھون کہلانے والے ایونٹس منعقد کرتا ہے۔

ہیکنگ کی اصطلاح کو عام طور چوری جیسے عمل سے منسلک کر کے منفی معنوں میں لیا جاتا ہے لیکن سیلیکون ویلی میں ہیکنگ کا مطلب کچھ نئے آئیڈیاز کی تلاش اور انھیں ایک سمت دینا سمجھا جاتا ہے۔ سیلیکون ویلی میں ایک کامیاب آئیڈیا، ایک کامیاب کاروبار کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ ایک اچھا آئیڈیا کہیں سے بھی آ سکتا ہے، ہیکنگ سے بھی کیونکہ سیلیکون ویلی کی زبان میں کوئی بھی شخص جو کم ذرائع اور کم وقت میں کچھ بڑا کر سکے، اسے ہیکر کہا جا تا ہے۔ جب بہت سے ہیکرز مل کر ایک آئیڈیئے کی تلاش اور اسے حقیقت کا روپ دینے کے لیے کام کرتے ہیں تو اسے ہیکاتھون کہا جاتا ہے۔

سبین علی ’اینجل ہیک‘ نامی ایک ایسے ہی گلوبل ہیکاتھون کی بانی ہیں، جو دنیا بھر سے ہیکرز کو اکٹھا ہو کر کام کرنے کا موقع دیتی ہے۔ یعنی جو بھی آپ کا آئیڈیا ہے وہ آئیڈیا لے کر، ایسے لوگوں کے ساتھ جو کوڈنگ کر سکتے ہیں ان کو بتایا جائے اور پھر سب مل کر اسے بہتر بناکر عملی جامہ پہنائیں۔ یہی سبین علی کے کاروبار کا لب لباب ہے۔ ایک چھوٹا سا آئیڈیا، جسے ہیکاتھون کے ذریعے سرمایہ کاروں کو دکھایا جاتا ہے اور اگر انھیں وہ اچھا لگے تو اس آئیڈیے میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔

اینجل ہیک دنیا کے مختلف ملکوں کے 92شہروں میں کام کر رہا ہے۔ اگر کسی کا آئیڈیا کامیاب ہو جائے تو انھیں اینجل ہیک ٹریننگ بھی دیتا ہے اور انھیں سیلیکون ویلی میں بڑے سرمایہ کاروں کے سامنے اپنے آئیڈیاز پیش کرنے کا موقع بھی۔

سبین کے لیے ایک پاکستانی امریکن خاتون اور شادی شدہ ہونے کے باوجود ایک نہیں دو کاروبار شروع کرنا آسان نہیں تھا لیکن جب انھوں نے دوسرا اسٹارٹ اَپ شروع کیا تو ان کے لیے کچھ چیزیں عام ڈگر سے ہٹ کر بھی تھیں۔ ان کے شوہر ایک اسٹے ایٹ ہوم ڈیڈ تھے، یعنی وہ گھر پر رہ کر بچوں کی دیکھ بھال کرتے تھے۔ ایک پاکستانی اور مسلمان خاندان کے طور پر یہ بہت مختلف تھا اور ایسا بہت کم ہوتا ہے۔

ایک کامیاب اسٹارٹ اَپ انٹرپرینیور ہونے کے ساتھ ساتھ سبین علی بین الاقوامی سطح پر بہترین اسپیکر بھی مانی جاتی ہیں، اور کارپوریشنز، طلباءاور غیر منافع بخش اداروں کو انٹرپرنیورشپ، ٹیکنالوجی کے شعبہ میں خواتین کا کردار بڑھانے اور Rapid Innovation جیسے موضوعات پر لیکچرز دیتی ہیں۔ 

خواتین کا جنگ سے مزید