آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 20؍رمضان المبارک 1440ھ26؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ساحر نے ٹھیک ہی تو کہا تھا:

لاکھ بیٹھے کوئی چھپ چھپ کے کمیں گاہوں میں

خون خود دیتا ہے جلادوں کے مسکن کا سُراغ

سازشیں لاکھ اُڑاتی رہیں ظلمت کی نقاب

لے کے ہر بوند نکلتی ہے ہتھیلی پہ چراغ

ساہیوال کے قریب پولیس گردی کے ہاتھوں خلیل اور اُس کے خاندان کے خون سے کھیلی گئی ہولی کا پردہ تو سہمے ہوئے بچے کی گواہی نے چاک کر دیا تھا۔ اپنے باپ، ماں اور بہن کا خون معصوم بچے کے ذہن پر جم گیا تھا اور وہ بول اُٹھا کہ اُس کے بابا خلیل نے پولیس والوں کی منتیں کیں، لیکن سب کو گولیوں سے بھون دیا گیا۔ تیرہ سالہ بہن نے باہر نکلنے کی کوشش بھی کی لیکن وہ بھی موت کی نیند سلا دی گئی کہ گواہی نہ دے پائے۔ ایک قومی شاہراہ پہ دن دیہاڑے نہتے شہریوں کے قتلِ عام کی شہریوں ہی نے جو ویڈیوز بنائیں وہ وائرل ہوگئیں۔ اور ہر کسی نے دیکھا کہ نہ فرار کی کوشش، نہ پولیس کی مزاحمت کی گئی، نہ مبینہ دہشت گردوں نے فائرنگ کی اور وہ بے بسی سے ریاستی قاتلوں کے ہاتھوں لقمۂ اجل بن گئے۔ خلیل، اُس کی بیوی اور بچی کو جس بے رحمی سے بھونا گیا، اُس نے ہر خاندان کو ہلا کر رکھ دیا ہے کہ یہ ہیں ہماری زندگیوں کے محافظ جو زندگیاں خون میں نہلانے پہ تُلے ہیں۔ سرکاری اداروں کے بے حس ترجمانوں کے بدلتے جھوٹے بیانات اور وزرا کی منافقانہ پردہ پوشیوں نے عوامی ردِّعمل کو اور بھڑکا دیا۔ کبھی کہا گیا کہ سوزوکی گاڑی میں داعش سے جُڑے دہشت گرد جا رہے تھے، دھماکہ خیز مواد اور خود کُش جیکٹس لے جائی جا رہی تھیں، بچے اغوا کیے جا رہے تھے۔ سب جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوا۔ اور وزیرِ داخلہ نے ایک مبینہ دہشت گرد کی نشاندہی کرتے ہوئے باقی مارے جانے والوں کو کولیٹرل ڈمیج قرار دے کر قصہ نمٹانے کی کوشش میں اپنی حکومت کی ساکھ گنوا دی۔ لے دے کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ فیصل اصغر نے پنجاب اسمبلی کو جو اِن کیمرہ بریفنگ دی اُس میں خون آشام کارروائی کا جواز ذیشان نامی شخص کے داعش کے ایک گروہ سے مبینہ تعلق سے جوڑنے کی ناکام کوشش کی گئی۔ فرض کر لیتے ہیں کہ ذیشان کا کسی دہشت گرد گروہ سے کوئی تعلق بھی تھا تو ذیشان، جلیل اور اُس کے خاندان کے سرنڈر کر دینے کے باوجود کس قانون، کس اختیار اور کس کے حکم پر چار لوگوں کو قتل کر دیا گیا۔ اس سب کا نہ کوئی جواز ہے اور نہ کوئی وضاحت۔ ماورائے عدالت قتل و غارت گری کا یہ سلسلہ انٹیلی جنس کی بنیاد پہ کیے گئے نام نہاد پولیس مقابلوں کی صورت میں کب سے جاری ہے۔ کوئی پوچھنے والا ہے نہ کوئی بولنے والا۔

گزشتہ برسوں میں ہزاروں لوگ اس طرح کی کارروائیوں میں لقمہ اجل بن چکے ہیں، نہ کوئی تفتیش ہوئی نہ احتساب۔ دہشت گردی کے عفریت سے کڑے ہاتھوں سے نپٹنا جہاں ضروری تھا، وہیں بندوق بردار سرکاری اہلکاروں کو کسی قانونی ضابطے، جوابدہی اور ضابطۂ عمل کا پابند بنایا جانا بھی ضروری تھا۔ ریاست نے جو آستین کے سانپ پالے تھے پہلے اُنہوں نے ہزارہا پاکستانیوں کو اپنی دہشت کا نشانہ بنایا اور جب وہ ریاست پر پلٹ کر جھپٹے تو ریاست کو ہوش آیا اور اُن سے خلاصی پانے کی کوششوں میں جو آپریشنز کیے گئے ان میں دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ عام لوگ بھی مارے گئے، اُن کے گھر بار برباد ہوئے اور وہ اپنے آبائی گھروں سے بدر ہوئے۔ ہزاروں لاپتہ کر دیئے گئے اور اعلیٰ عدلیہ اور لاپتہ افراد کا کمیشن ان لوگوں کا سراغ لگانے میں بے بس پائے گئے۔ قبائلی علاقوں، بلوچستان اور سندھ میں تو یہ کام بڑے پیمانے پہ ہوا اور پنجاب میں ماورائے عدالت کے واقعات پراسرار خاموشی کے پردوں میں چھپے رہے۔ تاآنکہ ساہیوال میں پولیس گردی نے خفیہ آپریشنز کی ہولناکی سے پردہ اُٹھا دیا۔ شہریوں کے حقِ زندگی پہ ڈاکہ ڈالنے کا اختیار ریاست اور اس کے کسی انتظامی ادارے کو نہیں۔ نہ ہی اپنے ہی شہریوں کو اغوا کر کے غائب کر دینے کا اختیار کسی کو حاصل ہے۔ نہ ہی ریاست کو حق ہے کہ وہ کسی شہری کے ساتھ وہ سلوک کرے جو ساہیوال میں ایک معصوم خاندان کے ریاستی قتل کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ یہ ایک ایسا قومی المیہ ہے جس پر ہر شخص، ہر جماعت اور ہر ادارے کو غور کرنے کی ضرورت ہے، نہ کہ ریاستی دہشت گردی کے جواز ڈھونڈے جائیں کہ دہشت گردی کا خاتمہ کرتے کرتے ریاست ہی دہشت پسند ہو جائے۔ ایسے میں بے بس اور ہراساں شہری سیاستدانوں میں جاری بیہودہ الزام بازی پہ خون کے آنسو نہ روئیں تو کیا کریں۔ تحریکِ انصاف جو حکومت میں ہے اس پہ پردہ ڈالنے میں مصروف ہے اور مسلم لیگ نواز کو ماڈل ٹائون کا قتلِ عام یاد دلا رہی ہے اور مسلم لیگ نواز ہے کہ لاہور کے ایک خاندان کے قتل پہ عوام کی داد رسی کے لیے سڑکوں پہ احتجاج کے لیے تیار نہیں۔ نہ ہی پیپلز پارٹی والے کہیں عوام کے دُکھ سکھ میں شامل ہونے کو تیار ہیں۔ عدالتِ عظمی کراچی میں ہزاروں عمارتیں گرانے پہ تومصر ہے، لیکن ریاستی بربریت پہ انسانی حقوق کے دفاع پہ خاموشی طاری ہے۔ نقیب اللہ محسود کے نام نہاد پولیس مقابلے کی رپورٹ بھی سامنے آ گئی ہے اور مقتولین کو دہشت گردی کے الزامات سے تو بری کر دیا گیا ہے لیکن رائو انوار آزادانہ دندناتا پھر رہا ہے کہ وہ پولیس کا رول ماڈل ہے۔ ایسے میں پولیس اصلاحات کی باتیں لغو لگتی ہیں جب قانون کی پروانہ کرنے والے پولیس آفیسر دبنگ افسر کہلاتے ہیں۔ 100 ماڈل پولیس تھانوں کا قیام اور نیا پولیس قانون کیسے قانون نافذ کرنے والوں کے ذہن اور کیریکٹر کو بدل سکتا ہے؟ ریاستی جبر کے اداروں کا قیام برطانوی سامراج نے جنتا کو غلام بنانے اور دبانے کے لیے کیا تھا اور ان اداروں کا عوام دشمن کردار پاکستان کے خواص اور حکمرانوں کے لیے برقرار رکھا گیا۔ اس سے زیادہ المناک بات کیا ہوگی کہ جو خلیل اور اُس کے خاندان کے قاتل ہیں وہی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم میں ہیں۔ اس سے زیادہ مفادات کا ٹکرائو (Conflict of Interest) کیا ہوگا؟ جوڈیشل کمیشن بنائے جانے کے مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں، لیکن ماضی میں ایسے واقعات پر قائم کیے گئے کمیشنوں کے کوئی خاطر خواہ نتائج بھی تو سامنے نہیں آئے۔ ایسے میں کوئی کسے وکیل کرے اور کس سے منصفی چاہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں