آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 10؍جمادی الثانی 1440ھ 16؍فروری 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جعلی اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کیسز میں سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیل دائر کر دی۔

ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے آصف زرداری اور فریال تالپور کی فیصلے پر نظرثانی کی اپیل تیار کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی اے بینکنگ کورٹ میں فائنل چالان داخل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

نظر ثانی اپیل میں کہا گیا ہے کہ چاہتے تھے کہ معاملہ صاف شفاف انداز سے منطقی انجام تک پہنچے، ایف آئی اے تمام اداروں کی مدد کے باوجود کوئی قابل جرم شواہد تلاش نہیں کر سکا ہے۔

نظرثانی اپیل میں مزید کہا گیا ہے کہ ایف آئی اے کی استدعا پر سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی تشکیل دی، جس کے بعد آصف زرداری اور فریال تالپور نے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو کر تحریری جواب دیا، مگر جے آئی ٹی ان کےخلاف براہ راست شواہد تلاش نہ کر سکی۔

نظرثانی اپیل میں یہ بھی کہا گیا ہےکہ جے آئی ٹی نے ہمارے مؤقف کو شامل کیے بغیر رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی، جے آئی ٹی کی یہ رپورٹ مفروضوں اور شکوک و شبہات پر مبنی تھی، جس کے بعد جے آئی ٹی نے بھی معاملے کی مزید انکوائری کی شفارش کی۔

نظرثانی اپیل میں درخواست گزاروں نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ عدالت عظمیٰ نے تسلیم کیا کہ جے آئی ٹی قابل قبول شواہد نہیں لاسکی، مرادعلی شاہ کا نام جےآئی ٹی سے نکالنے کا زبانی حکم فیصلے کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

نظر ثانی اپیل میں مزید کہا گیا ہے کہ آصف علی زرداری کو ساری زندگی سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا، مقدمہ کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا، قانون کی عدم موجودگی میں مختلف اداروں پر مشتمل جے آئی ٹی نہیں بنائی جا سکتی۔

نظرثانی اپیل میں آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور نے استدعا کی ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم سے فیئر ٹرائل کا حق متاثر ہو گا، لہٰذا عدالت عظمیٰ 7جنوری کے اپنے فیصلے پرنظر ثانی کرے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں