آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات15؍ جمادی الثانی 1440ھ 21؍فروری 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستانی گلوکار شفقت امانت علی خان نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُنہیں حیرت ہے پاکستان اور بھارت کے درمیان فنکارانہ ٹیلنٹ کا تبادلہ کیوں نہیں کیاجاتا، انہوں نے بھارت میں پاکستانی فنکاروں پر سے پابندی ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔

’این ڈی ٹی وی‘ کے مطابق نامور پاکستانی گلوکار شفقت امانت علی کا کہنا ہے کہ آرٹ اور شوبز انڈسٹری آسان ہدف ہوتے ہیں اور کیونکہ وہ جانتے ہیںان میں لڑ ائی نہیں ہوسکتی اس لیے ان پر پابندی عائد کردی جاتی ہےجبکہ اگر سرحد پر دیکھاجائے تو دونوں ممالک کے درمیان تجارت ہورہی ہوتی ہے ۔

شفقت امانت علی نے کہا کہ وہ بھارت میں اپنی پرفارمنسز کو بہت یاد کرتے ہیں، وہاں کے لوگ ہم سے بے حد پیار کرتے ہیں، بھارت میں کام کے دوران ہمیں بے حد عزت بھی دی جاتی ہےاور ہمارے کام کو سراہا جاتاہے۔

اس کے علاوہ اُن کا کہنا تھا کہ بھارت میں پاکستانی فنکاروں پر سے پابندی ہٹانے کا یہ بہترین وقت ہے۔

شفقت امانت علی نے بتایا کہ وہ بھارتی فلم انڈسٹری کے لیے کئی مشہور گانے گا چکے ہیں جن میں ’متوا، تیرے نینا، اللہ واریاں، بن تیرے اور دلدارا‘ وغیرہ شامل ہیں۔

انہوں نے مزید اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالات 2016 میں خراب ہونا شروع ہوئے تھے جس کے بعد بھارتی فلم سازوں نے غیر قانونی طور پر پاکستانی فنکاروں کے بھارت میں کام کرنے پر پابندی لگادی تھی اور اسی سال پاکستانی سینمائوں میں بھی بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 18 ستمبر 2016 کو اُڑی میں ہونے والے حملے کے بعدبھارت نے مکمل طور پر پاکستانی آرٹسٹوں پر پابندی لگا دی تھی، اُڑی حملے کے بعد بھارتی چینل ’زندگی‘ پر نشر کیے جانے والے پاکستانیوں ڈراموں کو بھی بند کردیا گیا تھا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں