آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 12؍شوال المکرم 1440ھ16؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں اپنے حددرجہ عزیز دوستوں کے ہمراہ اس اسٹڈی روم کی طرف بڑھ رہا تھا جہاں متعدد بار آنے کا موقع ملا تھا۔ یہ پاکستان کے معروف قانون دان، دانشور اور تاریخی شعور سے مالامال جناب ایس ایم ظفر کی وسیع و عریض رہائش گاہ تھی۔ ہم اُن کے سب سے بڑے بیٹے طارق کی اچانک رحلت پر تعزیت کے لیے آئے تھے۔ عزیزم رؤف طاہر اور پنجاب یونیورسٹی کے شعبۂ علم السیاست کے استاد جناب شبیر احمد خان میرے ہمراہ تھے۔ اسٹڈی روم میں تعزیت کے لیے آئے ہوئے چند اشخاص پہلے سے موجود تھے۔ جناب ایس ایم ظفر جو کمر کے درد کے باعث خود اُٹھ نہیں سکتے، وہ سہارے سے ہم تک پہنچے۔ ہم نے دعائے مغفرت کیلئے ہاتھ اُٹھائے، تو مجھے روحانی طور پر محسوس ہوا جیسے ہماری دعا کی قبولیت میں کوئی حجاب نہیںاسلام نے تعزیت اور دعائے مغفرت کا کیا اچھا نظم قائم کیا ہے کہ انسانی ہمدردی اور اللہ تعالیٰ کیساتھ لگاؤ کی اِس سے بہتر مثال نہیں ہو سکتی۔

جناب ایس ایم ظفر نے پُرنم آنکھوں سے اپنے بڑے بیٹے طارق کے آخری لمحات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ عارضۂ قلب کے علاج کی خاطر میں اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ساتھ آغا خان اسپتال کراچی میں داخل تھا۔ جس روز نئی ٹیکنیک سے علاج شروع ہونا تھا، اسی روز طارق اور علی اسلام آباد سے کراچی پہنچے۔ جہاز سے اُترے ہی تھے کہ فرشتۂ اجل نے طارق کا استقبال کیا اور وہ آناً فاناً دارِبقا کی طرف کوچ کر گیا۔ اس کی عمر صرف 59 سال تھی۔ اُنہوں نے قدرے بھرائی ہوئی آواز میں طارق کی زندگی کے حوالے سے جو باتیں کیں، ان میں حیات و موت کا فلسفہ بھی شامل تھا اور قدر و جبر کے مسائل بھی۔ ڈاکٹروں کی ہدایات کے مطابق طارق ہر روز ایک گھنٹے کی سیر کرتا اور ایک خودکار آلے کے ذریعے بلڈ پریشر اور شوگر کا باقاعدہ حساب رکھتا۔ وہ سفر بھی بہت کرتا اور صحت کے بارے میں حددرجہ محتاط تھا۔ اس نے اپنی زندگی فلاحی کاموں کے لیے وقف کر دی تھی۔ منشیات کے عادی لوگ اور ایڈز کے مریض اس کی توجہ کا مرکز تھے۔ اس نے ’نئی زندگی‘ کے نام سے ایک این جی او قائم کی جو اُن کا علاج کرنے کے ساتھ ساتھ اُنہیں روزگار بھی فراہم کرتی تھی۔ اِس مقصد کے لیے اس نے مرغیوں کے فارم بنا رکھے تھے اور سبزیاں اُگانے کے لیے کھیت خرید لیے تھے جن میں صحت یاب ہونے والے افراد کام کرتے جن کو باقاعدہ تنخواہ دی جاتی تھی۔ ان میں سے متعدد نوجوان اعلیٰ تربیت حاصل کرنے کے بعد طارق کی کمپنی میں ڈائریکٹر کے عہدے تک پہنچ گئے تھے۔ طارق کی اچانک موت نے یہ احساس دلایا کہ اللہ کی مشیت ہر چیز پر قادر ہے اور اس کی رضا پر راضی رہنے ہی سے غم برداشت کرنے کا حوصلہ ملتا ہے۔ میں جوں جوں اسلامی تعلیمات پر غور کرتا ہوں، تو ایک گونہ فخر محسوس ہوتا ہے کہ میں مسلم گھرانے میں پیدا ہوا اَور میں ہر لحظہ اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں کا اُمیدوار رَہتا ہوں کہ وہ رحیم بھی ہے اور حددرجہ شفیق بھی۔

جناب ایس ایم ظفر اپنی قلبی واردات بیان کر رہے تھے اور مجھے ڈاکٹر فیاض رانجھا بےاختیار یاد آئے جو آج کل مولانا طارق جمیل کے ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ مولانا کو پچھلے دنوں دل کی تکلیف ہوئی اور ان کے دل میں ایک اسٹنٹ ڈالا گیا۔ وہ بتا رہے تھے کہ ڈاکٹر حضرات عارضہ قلب کے حوالے سے سات اسباب کی نشان دہی کرتے ہیں۔ مولانا کی بیماری میں ان ساتوں اسباب کا کوئی دخل نہیں تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ عمدہ صحت قائم رکھنے کے جو اصول اب تک دریافت یا مرتب کیے گئے ہیں، کچھ معاملات اُن سے ماورا ہیں اور انہی کا نام اللہ تعالیٰ کی مشیت ہے، چنانچہ ہمیں اس کی مشیت کے تابع رہنے کی ہر آن کوشش کرنا اور توشۂ آخرت پر توجہ دینی چاہیے۔

اِسی اثنا میں سردار نصراللہ دریشک آئے۔ وہ اپنی چال ڈھال سے بڑے چاق و چوبند نظر آئے۔ دعائے مغفرت کے بعد اُنہوں نے جسٹس محمد رفیق تارڑ اور شریف خاندان کے درمیان سخت کشیدگی کے واقعات سنانا شروع کر دیے جو دلچسپ بھی تھے اور حیرت انگیز بھی۔ اُن کا دعویٰ تھا کہ میں نے اُن کی صلح کرائی تھی، پھر اچانک اُنہوں نے جناب ایس ایم ظفر سے سوال کیا آپ کوئی فوڈ سپلیمنٹ استعمال کرتے ہیں۔ میرا بیٹا اِس ہنر میں بڑی مہارت رکھتا ہے۔ وہ مجھے مختلف وٹامنز دیتا رہتا ہے جس سے میرے گھٹنے بھی صحیح کام کر رہے ہیں اور یادداشت بھی نہایت اچھی ہے اور میں روزانہ جاگنگ بھی کرتا ہوں۔ اِس پر جناب ایس ایم ظفر نے پورے اعتماد سے کہا کہ طمانیت ِقلب سب سے بڑی طاقت ہے۔ اگر انسان اپنے حصے کا کام پوری ذمہ داری اور لگن سے کرتا ہے، تو اس کا ضمیر مطمئن رہتا ہے۔ قرآن مجید میں یہ بھی آتا ہے کہ اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔

ایک گھنٹہ ہم نے اُن کے ساتھ گزارا اَور محسوس کیا کہ اُن کا دکھ قدرے کم ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آنحضرت محمدﷺ نے عیادت اور تعزیت کو غیرمعمولی اہمیت دی ہے۔ وہاں سے گھر آئے، تو ٹی وی پر سانحۂ ساہیوال کے دردناک واقعات بیان کیے جا رہے تھے۔ مقتولین کی میڈیکل رپورٹس آ چکی تھیں جن کے مطابق سی ٹی ڈی اہلکاروں نے پینتالیس سے زائد گولیاں چلائیں اور اِتنے قریب سے فائرنگ کی کہ مرنے والوں کے جسم بری طرح جھلس گئے۔ تیرہ سالہ لڑکی پر براہِ راست گولیوں کی اِس قدر بوچھاڑ کی گئی کہ اس کی دونوں جانب کی پسلیاں ٹوٹ گئی تھیں۔ آٹھ سالہ بچی کی ہتھیلی پر بندوق سے فائر کیا گیا۔ اِن حالات میں اطمینانِ قلب صرف اُن اہلِ عزم کو حاصل ہو سکتا ہے جو ظلم کا نظام عدل کے نظام سے تبدیل کرنے کے لیے انتہائی سنجیدہ جدوجہد کرتے اور اہلِ اختیار کے اندر اللہ کا خوف اور آخرت میں جواب دہی کا طاقتور احساس پیدا کرنے کو مرکزی اہمیت دیتے ہیں۔ سانحۂ ساہیوال کے سلسلے میں پنجاب حکومت نے بار بار موقف تبدیل کیے اور جناب وزیرِاعلیٰ کی خاموشی نے لوگوں کے دلوں کا سکون چھین لیا ۔ تاریخ بہت بےرحم ہے اور اس کی پکڑ انتہائی سخت ۔ مظلوموں کو اگر انصاف نہ ملا، تو پوری قوم پر عذاب نازل ہو سکتا ہے۔ عذاب کی پہلی شکل بےاطمینانی، بےاعتمادی، ہر لحظہ بڑھتی ہوئی پریشانی اور مایوسی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں