آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات12؍شعبان المعظم 1440ھ 18؍ اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


تھائی لینڈ میں فضائی آلودگی اس سطح تک پہنچ چکی ہے کہ ہوا سے گرد اور صحت کے لیے خطرناک ذرات کو صاف کرنے کے لیے حکام بالا روایتی طریقوں سے ہٹ کر طریقے آزما رہے ہیں

تاہم اس مسئلے کے حل کے لیے تھائی لینڈ کی بلدیہ نے شکر ملے میٹھے پانی کا چھڑکاؤ کرنا شروع کردیا ہے ۔

بینکاک میں فضائی آلودگی کم کرنے کے اس طریقے کو مقامی میڈیا انتہائی قدم قرار دے رہی ہے۔

دوسری جانب یسٹ سارٹ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے نباتاتی کیمیا کے پروفیسر ڈاکٹر ویرہ چائی نے کہا ہےکہ پانی کو گاڑھا کر دینے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ اسپرے کے لیے جو آلہ جات استعمال کیے جا رہے ہیں وہ اس قابل نہیں ہیں کہ وہ اس پانی کو آبی بخارات میں تبدیل کر سکیں جس پر گرد اور آلودگی کے ذرات چپک سکیں۔یہ ذرات حجم میں 2.5 مائیکرون کے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بخارات صرف 10 مائیکرون تک کے ذرات کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ اس پانی کی وجہ سے ہوائی کثافت بڑھنے کے بھی خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔

اس سے قبل تھائی لینڈ نے ڈرون کے ذریعے پانی گرانے کا منصوبہ بنایا تھا ۔

یاد رہے کہ تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں زہریلے اسموگ اور بچوں کو اس کے نقصان دہ اثرات سے بچانے کے لیے 400 سے زائد اسکول ایک ہفتے کے لیے بند کروا دیے گئے ہیں۔

بینکاک کو تاریخ کی بد ترین فضائی آلودگی کی سطح کا سامنا ہے اور اس کی وجہ گرد کے بے انتہا باریک ذرات بتائے جا رہے ہیں جنہیں پی ایم 2.5 کا نام دیا جا رہا ہے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں