آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 15؍شعبان المعظم 1440ھ 21؍اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برسلز میں پاکستانی سفارتحانے کے زیر اہتمام یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے منعقد ہونے والی کانفرنس میں مقررین نے کہا ہے کہ ظلم کی روک تھام اور انسان کے وقار کی جنگ جاری ہے، ہم جہاں بھی ہوں اور جس ملک سے بھی تعلق رکھتے ہوں انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے بلند ہونے والی آوازوں میں اپنی آواز شامل کرتے رہیں ۔

ممبران یورپین و برسلز پارلیمنٹ ، انسانی حقوق کے کارکنان اور طلباء نے کانفرنس سے خطاب کیا۔

ممبر یورپین پارلیمنٹ ماریا آرینا  نے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ذاتی طور پر تکلیف پہنچاتی ہیں اور مقبوضہ کشمیر میں فورسز کی جانب سے سامنے آنے والی ان خلاف ورزیوں کے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی جانب سے پیش کردہ اعدادوشمار انسانی ضمیر کو جھنجھوڑنے کیلئے کافی ہیں ۔ 

انہوں نے کہا کہ وہ واجد خان ایم ای پی کے ساتھ ملکر یورپین پارلیمنٹ میں بحث کیلئے اپنی بھر پور کوششیں جاری رکھیں گی ۔

کانفرنس کے شرکاء کے نام اپنے ویڈیو پیغام میں واجد خان ایم ای پی نے مقبوضہ کشمیر میں مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھارت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ اپنا حق خود ارادیت مانگنے والوں کے خلاف  ریاستی طاقت کا استعمال انڈیا کے چہرے پر ایک بدنما داغ ہے ۔ اسی چیز کو سامنے لانے کیلئے ماریا آرینا ایم ای پی اور دوسرے ساتھیوں کے ساتھ ملکر ہم پارلیمنٹ کی انسانی حقوق کی کمیٹی میں سماعت کروانے کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں ۔

آندرلیخت کمیوں سے نو منتخب کونسلر عامر نعیم نے کہا کہ ہمیں ہر سطح پر مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے غاصبانہ قبضے اور فورسز کے مظالم کو آشکار کرتے رہنا ہوگا۔

کے یو لوون یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے طالب علم وم نیپن نے حق خود ارادیت کے جواب میں مظالم کی طویل سیاہ رات پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا۔

وم نیپن نے بے جے پی کے رہنمائوں کی جانب سے کشمیری طلباء کو دہشت زدہ کرنے والے خیالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خوف کی اس فضاء میں کیسے سانس لیا جا سکتا ہے ۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں میری نسل خوف کی اس فضاء کا خاتمہ ضرور دیکھے گی ۔

بیلجیم سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے کارکن اینڈی ورموٹ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں فورسز کو حاصل خصوصی قوانین اس سارے فساد کی جڑ ہیں، کیونکہ اس کے نتیجے میں کسی کے خلاف عدالتی کاروائی نہیں ہوئی ۔میرے لئے انسانی حقوق کے کارکن کے طور پر یہ انتہائی افسوس کی بات ہے۔

انہوں نے متوجہ کیا کہ یہ عمل بھارت کی جانب سے ان بین الاقوامی کی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے جن پر اس نے دستخط کر رکھے ہیں ۔

اینڈی ورموٹ نے مطالبہ کیا کہ یورپ اور برطانیہ بھارت کو اسلحہ کی فروخت روکیں ۔

بیلجین سینیٹ کے رکن ممپاکا برٹن نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا تعلق کانگو سے ہے، میں ساٹھ سال کا ہوگیا ہوں اور حیران ہوتا ہوں کہ انسان کیا سیکھ رہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہم قانون دان صرف قانون سازی سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتے۔ کیونکہ دنیا بھر کے ظالم حکمران ایک مافیا کی صورت میں کام کر رہے ہیں ۔

سینیٹر ممپاکانے کہا کہ انسانی وقار کی جنگ جاری ہے اور مہذب انسانوں کے پاس اس کے علاوہ کوئی چوائس نہیں کہ وہ یہ جنگ جاری رکھیں ۔

برسلز پارلیمنٹ کے پاکستانی نژاد ممبر ڈاکٹر منظور ظہور نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انسان اور جانور کے درمیان فرق رحم کا جذبہ ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو ایک دوسرے کو نہ جاننے کے باوجود اکٹھا کر دیتا ہے ۔

انہوں نے کہ کہ لفظ ڈیموکریسی کا مطلب ’’ عوام کے حقوق‘‘ ہیں ،جو ریاست انہیں فراہم کرنے سے انکار کرے بلکہ انہیں مانگنے پر ظلم کرے اسے اپنے لئے اس لفظ کا استعمال کرتے ہوئے شرم آنی چاہئے۔

کانفرنس کے آخر میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی ہیڈ اف مشن محمد آصف میمن نے کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر گذشتہ سال جاری کردہ رپورٹ ایک اہم سنگ میل ہے ۔ اس سے معاملات کی درست سمت میں پیشرفت کی امید بندھی ہے۔

انہوں نے ریاست پاکستان کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کشمیریوں کی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ 

برسلز پریس کلب میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس کی میزبانی کے فرائض علی ستار نے انجام دئیے، جبکہ تلاوت کی سعادت محمد کامران نے حاصل کی۔

کانفرس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کے علاوہ سفارت خانے کےتمام افسران شریک تھے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں

بین الاقوامی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید
متفرق سے مزید