آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات15؍ جمادی الثانی 1440ھ 21؍فروری 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

طالبان اور افغان اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان آئندہ چندروز میں ماسکو میں ملاقات متوقع ہے، افغان وزارت خارجہ نے ملاقات کو سیاسی ڈراما قراردے دیا جبکہ امریکا کا کہنا ہے کہ ماسکو کانفرنس امریکا کے شروع کیے گئے افغان امن عمل میں مداخلت ہوگی۔

امریکی اخبارنیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کی حزب مخالف کی سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ طالبان لیڈروں سے ملاقات منگل اوربدھ کو ماسکو میں ہوگی۔

اس ملاقات کا بندوبست ماسکو میں مقیم افغان گروپ کی جانب سے کیا گیا ہے۔ تاہم یہ ایک ایسے ہوٹل میں ہورہی ہے جو روسی حکومت کی ملکیت ہے، جبکہ طالبان کے مطابق مذاکرات کی میزبانی روسی فیڈریشن کررہی ہے۔

کانفرنس میں افغان سابق صدر حامد کرزئی، عطا محمد نور سمیت دیگر سیاستدانوں نے شرکت کی تصدیق کردی ہے،اخبارکے مطابق افغان حکومت امریکا طالبان مذاکرات میں شامل نہیں ہوئی اورماسکومذاکرات نے صدراشرف غنی کو نئی مشکل میں ڈال دیا ہے۔

افغان حکومت پہلے ہی واضح کرچکی ہے کہ حکومت طالبان سے براہ راست مذاکرات چاہتی ہے۔ افغان وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ طالبان اورافغان اپوزیشن لیڈروں کے درمیان ملاقات کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ افغانستان میں امن کے لیے مددگارنہیں ہوگی، یہ سیاسی ڈرامے سے زیادہ کچھ نہیں۔

دوسری جانب روسی سرکاری خبررساں ایجنسی نے کہا ہے کہ گزشتہ سال نومبرمیں وزیرخارجہ سرگئی لاروف کی میزبانی میں ماسکو میں رسمی مذاکرات سے متعلق بات چیت ہوئی تھی، جس میں طالبان نمائندوں نے بھی شرکت کی تھی۔ ترجمان طالبان قطر دفتر سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ طالبان قطر دفتر کا وفد عباس ستانکزئی کی سربراہی میں ماسکو جائے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں