آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر21؍ صفر المظفر 1441ھ 21؍اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کالم ایک، موضوع کئی، پہلے ساہیوال ظلم، 29جنوری کو ملتان میں جس وقت وزیراعلیٰ عثمان بزدار، آئی جی جاوید سلیمی ایک دوسرے کو شیلڈیں دے، لے رہے تھے، ٹھیک انہی لمحوں میں ذیشان کی والدہ سینیٹ کی داخلہ کمیٹی کے سامنے ہاتھ جوڑے گڑگڑا رہی تھیں ’’خدا کیلئے انصاف دیں، میری کوئی نہیں سن رہا، میرا بیٹا دہشت گرد نہیں، دہشت گردی کا لیبل نہ لگائیں‘‘، ہچکیوں سے روتی سفید بالوں والی بوڑھی ماں سینیٹرز سے کہہ رہی تھی ’’بھارتی جاسوس زندہ پکڑا، میرا بیٹا مار دیا، میری بھوک مر چکی، نیند نہیں آتی، ساری ساری رات اللہ سے دعائیں کرتی، مدد مانگتی رہتی ہوں، انصاف کے سوا کچھ نہیں چاہئے‘‘ کیا دیدہ زیب نظام، بوڑھی ماں کو اسلام آباد بلایا گیا، ماں پیش ہو رحمان ملک کے دربار میں، یہ چھوڑیں، ریاست مدینہ والوں کو دیکھئے، خلیل خاندان کو اسلام آباد طلب کیا گیا، صدر عارف علوی شرفِ ملاقات بخشیں گے، مظلوم وفاقی دارالحکومت پہنچے، عارف علوی کراچی چلے گئے، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ عمران خان سے عارف علوی تک سب ان کے گھر جاتے، نہ کہ انہیں طلب کر کے رسوا کیا جاتا۔

اس کہانی کو یہیں روک کر لمحہ بھر کیلئے ساڑھے چار سال پیچھے جاتے ہیں، بلاشبہ سانحہ ماڈل ٹاؤن اور ساہیوال ظلم کا موازنہ نہیں بنتا، ایک میں حکومت شامل، سب کچھ منصوبہ بندی سے ہوا، دوسرا ایک پولیس افسر اور چند اہلکارروں کی بربریت، ایک رات کی تاریکی میں ہوا، دوسرا دن دہاڑے، لیکن پھر بھی چند پہلو مشترک، سانحہ ماڈل ٹاؤن ہوا، عمران خان سمیت تمام اپوزیشن ماڈل ٹاؤن پہنچی، سب مظلوموں کے گھر گئے، شہباز حکومت کو توفیق نہ ہوئی، ساہیوال ظلم ہوا، حمزہ شہباز سمیت تمام اپوزیشن بھیگی آنکھیں، بھرائے لہجے، سینہ کوبی کرتی پائی گئی، بزدار حکومت کو یہ توفیق نہ ہوئی، سانحہ ماڈل ہوا عمران خان بولے ’’ماڈل ٹاؤن کے نہتے، مظلوموں کو سیدھی گولیاں ماری گئیں، شہباز شریف استعفیٰ دیں، رانا ثناء کو جیل میں ڈالا جائے‘‘، ساہیوال ظلم ہوا، شہباز سے بلاول تک یہی کچھ، یہی مطالبہ انہوں نے بھی دہرایا، سانحہ ماڈل ٹاؤن ہوا، شہباز حکومت نے کہا ’’منہاج القرآن میں مسلح دہشت گرد، شر پسند، پہلے پولیس والوں پر فائرنگ ہوئی، جوابی فائرنگ میں لوگ مارے گئے، ساہیوال ظلم ہوا، یہی کچھ بزدار حکومت کہہ رہی، تب پولیس رکاوٹیں ہٹانے گئی، بندے مار دیئے، اب پولیس ایک مبینہ دہشت گرد کے پیچھے گئی، بندے مار دیئے، تب شہباز حکومت قاتلوں کے ساتھ کھڑی تھی، اب بزدار حکومت قاتلوں کی وکیل، تب نواز، شہباز کو مظلوموں کے گھر جانا نصیب نہ ہوا، اب عمران، بزدار کو یہ توفیق نہ ہوئی، تب بھی دو ایف آئی آر، اب بھی دو ایف آئی کار، تب بھی لاشوں پر سیاست، اب بھی لاشوں پر سیاست، تب عمران، شہباز پر گرج، برس رہے تھے، آج شہباز، عمران پر گرج برس رہے، تب جو عمران خان کہہ رہے تھے، اب وہی شہباز شریف کہہ رہے، تب سب کچھ کرکے پولیس سب کچھ سے مکر گئی، اب سی ٹی ڈی اہلکار فرما رہے ’’ہم نے تو گولیاں ہی نہیں چلائیں، مرنے والے اپنے موٹر سائیکل سوار ساتھیوں کی فائرنگ سے مرے، بتانا صرف یہ، تب، اب، کل، آج اگر کچھ بدلا تو وہ مارنے، مرنے والے، ورنہ نظام وہی، انجام وہی۔

اب واپس آئیں، بے بس ماں پر، جب وہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں رو دھو رہی تھی، انصاف کی بھیک مانگ رہی تھی، تب لیگی سینیٹر کے منہ سے نکل گیا ’’سانحہ ساہیوال کی ذمہ دار حکومت‘‘، بس پھر کیا، ون ملین ڈالر سے گائے کہانی تک ہر جھوٹ، اعظم سواتی آپے سے باہر ہوئے ’’تمہاری جرأت کیسے ہوئی ذمہ داری حکومت پر ڈالنے کی‘‘ اور پھر ایوان بالا کے ’معزز اراکین‘ نے ایک دوسرے پر یوں چڑھائیاں کیں کہ بوڑھی ماں کو کہنا پڑا ’’وے پترو نہ لڑو میری سنو‘‘ ویسے ہے نا لذیذ بات کہ ریاست مدینہ کے ترجمان اعظم سواتی۔

دوسرا موضوع معصوم بلاول، جھوٹ پہ جھوٹ بولتے، شرجیل میمنوں، ڈاکٹر عاصموں، انور مجیدوں کی مبینہ لٹ مار کا دفاع کرتے بلاول بھٹو زرداری نے کیا تاریخی بیان دیا ’’میرے نانا میجر جنرل اسکندر مرزا اور ایوب کابینہ میں میرٹ پر وزیر بنے‘‘، شکریہ بلاول صاحب ہمیں تو پتا ہی نہ تھا کہ ڈکٹیٹر کا میرٹ بھی ہوتا ہے، ہے نا چٹخارے دار بات کہ ڈکٹیٹر غلط، ڈکٹیٹر کا میرٹ ٹھیک۔تیسرا موضوع، زوالِ اسد یہ، بقول استاد گرامی حسن نثار، مہنگائی وارم اَپ ہو چکی بلکہ گہری نیند سے بیدار ہو کر انگڑائیاں لے رہی، لیکن ابھی توبہ شکن انگڑائیوں کا مرحلہ نہیں آیا، یعنی ابھی انگ انگ تروڑنے، مروڑنے والی مہنگائی نے آنا، لہٰذا دعائیں، بددعائیں سنبھال کر رکھیں، اپنے اسد عمر نے خیر سے تباہی کا سفر وہیں سے شروع کیا جہاں اسحاق ڈار چھوڑ گئے تھے، ڈار صاحب ائیر پورٹس، موٹروے گروی رکھ کر پتلی گلی سے نکلے تو اسد عمر نے 2سو ارب قرضہ لینے کیلئے 6بینکوں کے پاس واپڈا ہاؤس کے ساتھ ساتھ ملتان، گوجرانوالہ، فیصل آباد، لاہور، اسلام آباد، پشاور الیکٹرک کمپنیاں گروی رکھوا دیں، 175ارب کا ٹیکس، شارٹ فال، بجلی گیس کے بلوں سے پورا ہو رہا، خون چوس فلم کھڑکی توڑ رش لے رہی لیکن زیادہ تڑپنے کی کوئی ضرورت نہیں، جہاں کرنسی ڈی ویلیو ہو وہاں عوام کی کیا ویلیو۔چوتھا موضوع، سندھ کے بعد پنجاب، ابھی کل ہی آڈٹ رپورٹ آئی کہ سندھ کے صرف ایک مالی سال میں 272ارب کے گھپلے، اب آڈیٹر جنرل کی پنجاب رپورٹ ملاحظہ ہو، 16محکموں میں 3ارب 44کروڑ کے گھپلے، 1429آڈٹ پیرے، مہنگی مشینری، فرنیچر، گاڑیاں خریدنے سے، شاہی دوروں تک شاہی خرچے ایسے کہ غربت مٹاؤ پروگرام کے اجلاسوں پر 3کروڑ اڑا دیئے گئے، واقعی ساڈے خون دا سوپ، جمہوریت اور جمہوریت پسندوں کیلئے اکسیر، ویسے سیاست کے علاوہ یہ مزے، کھابے بھلا اور کہاں، مالِ مفت، دل بے رحم۔

پانچواں موضوع، اصلاحات والی بتی، عشرت اصلاحات کا ابھی تک بس اتنا ہی پتا چل پایا کہ 44میٹنگز ہو چکیں، 14سو لوگوں کے انٹرویوز ہوئے، یہ نہیں بتایا گیا کہ موصوف کنتی ہزار میٹنگز مزید فرمائیں گے، کتنے لاکھ انٹرویوز اور کرنے کا ارادہ، یہ بھی معلوم نہیں کہ قیامت سے کتنے دن پہلے یہ اصلاحات ہو جائیں گی۔چھٹا موضوع، اٹھارہویں جھوٹ کہانی، سنا جا رہا جے آئی ٹی منی لانڈرنگ رپورٹ کے بعد عرفان منگی کی سربراہی میں بنی نیب کی کمبائن انویسٹی گیشن ٹیم (سی آئی ٹی) کام شروع کر چکی، اگلے ڈیڑھ، دو ماہ میں 5ریفرنسز دائر ہونے کا امکان، لہٰذا اگلے چند ہفتوں میں سندھ کی طرف سے گھن گرج کیساتھ اٹھارہویں ترمیم زدہ گرم ہوائیں چلنے، سندھ کارڈ اولے پڑنے کا قوی امکان، لہٰذا جمہوریت اور پارلیمنٹ کو بچا کر رکھیں، یہ بھی سنتے جائیے کہ دوسری طرف سانحہ ماڈل ٹاؤن پر بنی جے آئی ٹی 30دن گزر جانے کے باوجود ابھی تک کام شروع ہی نہ کر سکی، بابا رحمتے...تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد۔ساتواں موضوع، آبادی بم، یکم جنوری 2019ء کو ملک میں 15ہزار بچوں کی ولادت رجسٹر ہوئی (یقیناً ایسے بچے بھی ہونگے جو رجسٹر ہی نہ ہو پائے) پھر بھی ایک دن میں 15ہزار بچے، مطلب ایک ماہ میں ساڑھے 4لاکھ اور ایک سال میں 54لاکھ افرادکا اضافہ، مطلب پاکستان کی آبادی میں سالانہ ناروے کی کل آبادی جتنا اضافہ ہو رہا، اب ایک طرف یہ تیز رفتاریاں، دوسری طرف سہولتی کچھوا چال یہ کہ جب کراچی کی آبادی 35لاکھ تھی تب بھی تین بڑے سرکاری اسپتال تھے، آج ڈھائی کروڑ، تب بھی وہی تین بڑے سرکاری اسپتال، نیچے والوں کو شعور نہیں، اوپر والوں کو بدعنوانی سے فرصت نہیں، نتیجہ سب کے سامنے، ہر شعبے میں ایک انار، سو بیمار۔