آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 10؍جمادی الثانی 1440ھ 16؍فروری 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اب کاروں پر گرنے والے بارش کے پانی اور وائپر کی صفائی کی شرح سے برسات کی ٹھیک ٹھیک پیمائش اور شہری سیلاب (اربن فلڈ) کی پیشگوئی کی جاسکتی ہے۔یہ دلچسپ تجربہ امریکی شہر این آربرمیں کیا گیا ،جس میں کاروں کی اسکرین سے پانی صاف کرنے والے وائپروں پر لگے سینسر اور ڈیش بورڈ پر رکھے کیمرے استعمال کرکے برسات کا ڈیٹا حاصل کیا گیا۔ تجرباتی طور پر 70 گاڑیوں میں یہ نظام لگایا گیا۔اس ساری کوشش کا مقصد یہ ہے کہ سڑکوں پر چلنے والے کاروں سے حقیقی وقت میں بارش کی مقدار کا درست ڈیٹا حاصل کیا جائے۔ اس طرح کسی شہر میں سیلاب کے خطرے کی پیشگوئی میں بھی مدد ملے گی، کیوں کہ شہری سیلاب سے املاک، انفرا اسٹرکچر اور ماحول کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ اسی بنا پر یونیورسٹی آف مشی گن کے پروفیسر برانکو کارکیز اور ان کے ساتھیوں نے یہ اسمارٹ سسٹم تیار کیا ہے۔گاڑیوں میں لگے خود کار سینسر اور کیمرے سے ملنے والا ڈیٹا بارش کی وہ معلومات دے سکتا ہے جو اس سے قبل کبھی ممکن نہیں تھا۔ یہ موسمیاتی ریڈار سے بھی مؤثر انداز میں ہماری معلومات میں اضافہ کرکے اس ضمن میں معلومات کے خلا کو پر کرسکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موسمیاتی ریڈار ایک میل کے چوتھائی حصے کی خبر دیتا ہے اور وائپر ہر سیکنڈ بعد چند میٹر تک ہونے والی بارش کی خبر دے سکتے ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ پوری دنیا میں موسم کا مزاج بگڑ رہا ہے اور بارشوں کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس طرح وائپر سینسر اور دیگر آلات کے ذریعے ہر کار کو ایک موسمیاتی اسٹیشن میں بدلا جاسکتا ہے۔ پاکستان کے بالائی علاقوں میں بھی بارشوں کی شدت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس ضمن میں بہت جلد ایسے آلات کی ضرورت بڑھتی جائے گی۔اگر یہ سینسر شہر بھر میں ہر جگہ لگائے جائیں تو یہ ایک مہنگا نسخہ ہوگا لیکن گاڑیوں پر لگانے میں اس کا خرچ کم ہوجاتا ہے اور یوں کئی شہر آپس میں بارشوں کے ڈیٹا نیٹ ورک سے جوڑے جاسکتے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں