آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ15؍ ربیع الثانی 1441ھ 13؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

منیب علی

  جاپان کے فیشن ٹائیکون یوساکا مائیزاوا’’مون لوپ‘‘ مشن کے ذریعےیہ تفریح کرنے والے پہلے شخص ہوں گے

جب سے انسان اس کرّہ ارض پر ارتقائی عمل کے بعد وجود میں آیا، اس نے دن میں سورج کی تپش اور رات میں چاند کی چاندنی کو ہی پایا ہے۔اسی کے ساتھ یہ ستاروں بھرے آسمان کو دیکھ کر غوروفکر کے سمندر میں ڈوبتا چلا گیا۔بیسویں صدی سے پہلے بھی بہت سے لوگ ایسے تھے جو چاند کوتوڑلانے کی خواہش رکھتے تھے ۔لیکن چاند کو تسخیر کرلینے کی سائنسی خواہش بیسویں صدی کے وسط میں کی گئی جب 1909 ء میں امریکی خلائی ادارے ناسا نے اپنی پہلی خلائی گاڑی چاند پر بھیجی ۔اس گاڑی میں کو ئی بھی خلا باز موجود نہیں تھا لیکن اس پر نصب کیمروں نے انسانی آنکھ کو چاند کی سطح کا قریبی منظر دکھا کر اسے اور متجسس بنا دیا۔1960ءاور 1980ء کی دہائی میں ناسا کی طرف سے اپولو مشن کو چاند پر بھیجا گیا ،جس میں کل 12انسان موجود تھے لیکن بعد ازاںچاند کی سرزمین پر خلابازوںکی واپسی نہیں ہوئی ۔دسمبر 1982 ءمیں چاند کی سطح پر جانے والے آخری انسان کی چہل قدمی کو پچاس سال بیت گئے لیکن اتنی جدید ٹیکنالوجی متعارف ہونے کے باوجود انسان سیارہ مریخ پر جانے کی تیاریوں میں ہے ۔ ماہرین فلکیات کے مطابق چاند پر فضا کی عدم موجودگی کی وجہ سے زندگی گزارے جانے کے آثار بہت کم ہیں۔ علاوہ ازیں چاند کا ایک دن یعنی ایک محوری چکر تقریباً زمینی28 دن کے مساوی ہوتا ہے جو کہ زندگی کے لئے غیر موزوں ہے۔ اسپیس ایکس سے قبل ناسا جو بھی راکٹ لانچ کرتا تھا ،خلا میںجاتے وقت اس کے بوسٹرز سمندر میں گر جاتے تھے ،جس وجہ سے پیسوں کا بہت زیادہ ضیاءہوتا تھا لیکن اسپیس ایکس نے ایک ایسی ٹیکنالوجی متعارف کروائی ،جس سے راکٹ کے بقیہ حصے سیٹلائٹ یا خلائی گاڑی خلا میں چھوڑنے کے بعد زمین پر واپس آجاتے تھے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنے سالوں بعد اسپیس ایکس سیٹلائٹس کو زمین کے گرد بھیجنے میں کام یاب ہونے کے بعد خلامیں لے جانے کی خواہش رکھتا ہے ۔یہ سیٹلائٹ خلابازوں کو خلائی اسٹیشن تک لے جانے کے کام بھی آسکتا ہے ۔لیکن کچھ عر صے قبل اسپیس ایکس نے اپنی خلا ئی گاڑی چاند کے گرد بھیجنے کا اعلان کیا ہے جو چکر لگا کر چند دنوں میں زمین پر واپس آجائے گا ۔اس خلائی گاڑی کا اعلان ایلون مسک نے 2016 ء میں کیا تھا ۔یہ 2023 ء تک انسانوں کو سیارہ مریخ تک لے کے جائے گی ۔خلائی ایجنسی نے اس گاڑی کو ’’بگ فالکن راکٹ ‘‘(بی ایف آر ) کا نام دیا ہے ۔ اس کی لمبائی تقریباً387 فیٹ اور چوڑائی 30 فیٹ ہے۔یہ بآسانی ایک لاکھ کلو گرام یعنی ایک سوٹن سے زیادہ کا وزن خلا میں لے کر جاسکتا ہے۔

بی ایف آرمیں2023ءتک کچھ لوگ چاند کی سیر کے لئے جائیں گے۔2018 ءمیں ایلون مسک کا خیال تھا کہ ا سپیس ایکس ’’فالکن ہیوی‘‘ اور ’’ڈریگن راکٹس‘‘ کے ذریعے انسانوں کو 2018 ءتک چاند پر لے جا سکیںگے لیکن رواںسال فروری میں اسپیس ایکس کی طرف سے خبر آئی کہ انسانوں کو خلا میں بھیجنے کے لئے بی ایف آرپر ہی انحصار کیا جائے گا ۔لوگوں کو چاند پر بھیجنے کی خبریں تو بہت سالوں سے گرد ش کررہی ہیں ۔حال ہی میں اسپیس ایکس نے ان دولوگوں کے نام پیش کیے ہیں جو چاند کے گرد سیر کے لیے جائیں گے ۔اپولو کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا جب انسان دوبارہ وہ دلکش نظارے دیکھ سکے گا۔ ماہرین نے اس مشن کو ’’مون لوپ ‘‘کا نام دیا ہے۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید