آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات15؍ جمادی الثانی 1440ھ 21؍فروری 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بیلجیم کے دارالحکومت برسلزمیں سخت بارش اور سردی کے باوجود  مظاہرین نے موم بتیاں جلا کر کشمیریوں کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کااظہارکیا۔ مظاہرےکا اہتمام کشمیرکونسل ای یو نے یوم یکجہتی کشمیرکے موقع پر چار فروری کی شام کو برسلز کے مرکزی ریلوے اسٹیشن کے سامنے کیا جس میں بڑی تعداد میں زندگی کے ہرطبقے اور مختلف این جی اوز کے نمائندوں نے شرکت کی۔

مظاہرین  نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر بھارتی مظالم کے خلاف اور کشمیریوں کی حمایت میں نعرے درج تھے۔ مظاہرین  کی قیادت کشمیرکونسل ای یو کے سینئر عہدیدار چوہدری خالد محمود جوشی کررہے تھے ۔ اس موقع پر مقررین چوہدری خالد جوشی، شیخ ماجد، چوہدری جاوید،سلیم میمن اور کینتھ رائے نے اپنے خطاب میں کہاکہ ہم مسئلہ کشمیرکے منطقی اور منصفانہ حل تک کشمیر کی جدوجہد آزادی کی حمایت جاری رکھیں گے اور مقبوضہ کشمیرکے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہارکرتے رہیں گے۔

انھوں نے بھارتی مظالم کی مذمت کی اور مقبوضہ کشمیر میں گذشتہ چند عشروں کے دوران شہید ہونے والے ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کے لواحقین کے ساتھ گہری ہمدردی ظاہرکی۔ انھوں نے کہاکہ کشمیر میں اقوام متحدہ کے ذریعے رائے شماری کرائی جائے جس میں حصہ لے کر کشمیری عوام اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کریں۔

دریں اثنا چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضا سید نے یوم یکجہتی کشمیر پر اپنے ایک بیان میں کہاہے کہ ہم مقبوضہ کشمیرکے مظلوموں کی حمایت جاری رکھیں گے۔ کشمیری عوام اپنے حق خودارادیت کے لیے پرامن جدوجہد کررہے ہیں۔ بھارت مقبوضہ کشمیرمیں کشمیری عوام پر اپنی فوج کی طرف سے ہونے والے تشدد اور مظالم پر پردہ ڈالناچاہتا ہے اور یہ تاثردیناچاہتاہے کہ جموں و کشمیرمیں امن ہے اورجمہوری عمل جاری ہے۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیرمیں کالے قوانین نافذ کررکھے ہیں جن کے ذریعے بھارتی سیکورٹی فورسز کسی بھی شخص کو بغیروجہ بتائے قید کرسکتی ہیں اورسنگین تشدد کا نشانہ بناسکتی ہیں۔

اسطرح کے وحشیانہ تشدد کی وجہ سے ابتک بڑی تعداد میں لوگ ماورائے عدالت شہید ہوچکے ہیں۔  چیئرمین کشمیرکونسل ای یو نے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے مسئلہ کشمیرکے مناسب اورپرامن حل کا راستہ نکال لیں اور کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دلوائیں جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔ انھوں نے خاص طورپر یورپی یونین سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ کشمیرکے منصفانہ حل کے لیے اپنا کرداراداکرے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں