آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات15؍ جمادی الثانی 1440ھ 21؍فروری 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ملک کا سب سے بڑا، بندرگاہ والا شہر اورصنعتی ہب ہونے کے ناتے دیگر شہروں کے مقابلے میںکراچی کی آبادی اور یہاں رہائشی، صنعتی اور تجارتی عمارتیں بھی زیادہ ہیں۔ دوسری جانب شہر میں غیر قانونی تعمیرات، بلڈنگ بائی لاز اور کوڈز کی خلاف ورزیوں کی شکایات عام ہیں۔ بلاشبہ ان شکایات ، تجاوزات، قبضوں، چائنا کٹنگ وغیرہ کی وجہ سےنہ صرف شہر گھٹ کر رہ گیا ہے،بلکہ بہت سے سنگین مسائل بھی پیدا ہوگئے ہیں۔چناں چہ کراچی کا ہر رہائشی ان مسائل پراپنے علم،تجربات اور مشاہدات کی بنیاد پر بات کرتا نظر آتا ہے۔لوگ سوال کرتے ہیں کہ ان مسائل کا حل کیا ہے؟ آئیے ،دیکھتے ہیں کہ مسائل کی نوعیت کیا ہے اور انہیں کس طرح حل کیا جاسکتا ہے۔

ایڈہاک ازم،تباہی کی بنیادی وجہ

شہری منصوبہ بندی کے ماہرین کافی عرصے سے یہ کہہ رہے ہیں کہ کراچی کا نظام طویل عرصے سے جس طرح ایڈہاک ازم کے اصول پر چلایا جارہا ہے وہ بہت تباہ کُن ہے۔چناں چہ آج اس شہر کا ہر باسی مختلف مسائل کاشکارہے۔ اُبلتے ہوئے گٹر،جابہ جاکچرے کے ڈھیر ، بے ہنگم تعمیرات،تجاوزات کی بھرمار،ٹریفک جا م ، پانی اور بجلی کی کم یابی،ٹرانسپورٹ کی عدم دست یا بی ، پا ر کنگ کےمسائل اور دیگر بہت سی مشکلات اس شہر کی جیسے پہچان بن گئی ہیں۔لیکن ایسا ایک روز میں نہیں ہوا ۔ یہ دہائیوں پر محیط قصّہ ہے۔اس عرصے میں کراچی کے جیسے تیسے قائم بنیادی سہولتوں کے ڈھانچے(انفرا اسٹرکچر) پر دبا ؤ بڑ ھتا گیا ،مگر اس پر موثر اور ٹھوس انداز میںسرمایہ کاری نہیں کی گئی۔شہر پر وقتا فوقتا اختیار رکھنے والوں میں سے کسی نے بھی اس پر رحم نہیں کھایا۔تاہم اس کے ذریعے بہت سے لوگوں نے ’’کھایا‘‘۔ اگر وہ لوگ اس سے مخلص ہوتے تو سب سے پہلے اس کا جدید ماسٹر پلان بناتے ۔ مگر وہ تواپنے اپنے پلانز رکھتے تھے۔چناں چہ انہوں نے اپنے اپنے پلانز ہی پرتوجّہ مرکوز رکھی۔اس کے نتیجے میںوہ سب ’’ترقّی‘‘ کرتے گئے اور کراچی تنزّلی کا شکار ہوتا گیا ۔ اب اس کی تنزّلی کی رفتار بہت تیز ہوگئی ہے ، کیو ں کہ ایک تواس کا بنیادی سہولتوں کا ڈھانچا (ہر چند کہیں کہ ہے ، نہیں ہے)بوڑھا ہوچکا ہے،دوم اس پر پڑنے والا دبا ؤ روز بہ روز بڑھتا ہی جارہا ہے۔یہ ڈھانچا جس تیزی سے تباہ ہورہا ہے اُسے شہری منصوبہ بندی کے ماہرین بہت خطرناک قرار دیتے ہیں۔ان کے بہ قول کراچی کی مُرجھائی ہوئی ’’بگیا‘‘میں ’’بیلے کے پھول ‘‘کِھلانے کے لیے بعض اہم اور بنیادی باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

فُٹ پاتھ بنے بازار

ایسا نہیں ہے کہ ہمارے اربابِ اختیار کراچی کے مسائل سے پوری طرح باخبرنہیں ہیں۔لیکن افسوس ،صد افسوس ،کراچی کے مسائل کم ہونے کے بجا ئے بڑھتے ہی جارہے ہیں۔پلاٹس تو پلاٹس،اب تواس شہر کی سڑکوں کے فٹ پاتھ بھی پولیس اور دیگر اداروں کے بدعنوان اور نا اہل افسران کی ملی بھگت سے باقاعدہ بازاروں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ شہرکابہت اہم کاروباری مرکز، صدر بازار طویل عرصے سے پتھارے داروں کے مکمل کنٹرول میں تھاجسے سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعداب بہتربنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔کہا جاتا ہے کہ پولیس والے اوردیگر اداروں کے بد عنو ا ن اہل کار اس علاقے سے روزانہ کم وبیش 50 لاکھ رو پے بھتّےکی شکل میں وصول کرتے تھےجس کی وجہ سے اس علاقے کو پتھا ر ے داروں سے پاک کرنے کے ضمن میں وزیر اعلیٰ تک کے احکامات ہوا میں اڑا دیے جاتے تھے۔یہ ہی حال دیگر علاقوں کا بھی ہے۔

شہر کا لینڈ یوز پلان ہی نہیں ہے

دنیا کے کسی بھی جدید شہرکانقشہ اٹھاکردیکھ لیں ، اس میں ضابطے اور قائدے کے مطابق سڑکیں اور محلّے نظر آئیں گے۔ ہر معاملے میں ترتیب ملے گی۔ مگر کراچی میں کہیں بھی اس طرح کی صورت حال نہیں ملے گی ۔یعنی یہاں کوئی لینڈ یوزپلان ہی نہیں ہے کہ کس جگہ آبادی ہوگی اورکتنی ہوگی،کہاں تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں کی اجازت ہوگی اور وہاں کس نوعیت کی کاروباری اور تجارتی سرگرمیاں کی جاسکیں گی،کہاں اور کتنی اراضی انفرا اسٹرکچر کے منصوبوں،کھیلوں اور تفریح وغیرہ کے لیے مخصوص ہو گی ۔ایسا نہ ہونے کی وجہ سے شہر میں قبضہ مافیا کوکُھل کر اپنا کھیل کھیلنے کا موقع ملا۔قبضہ مافیاکو متعلقہ سرکاری اداروں کے بد عنوان،نااہل اور سفارش کی بنیادپر بھرتی ہونے والے اہل کاروں،پولیس،سیاست دانوںاور دیگر قوتوں کی بھی سرپرستی حاصل ہے۔شہر کے کسی بھی علا قے کا جائزہ لے لیں، قبضہ مافیاکی وجہ سےاس علا قے کے عوام کی زندگی دوبھرہو چکی ہے۔اگر چہ قوانین بھی موجودہیں اور قانون نافذ کرنے والے بہت سے ادارے بھی ،مگر ان قبضہ گیروں کے خلاف کسی بھی طرح کی کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔

لینڈ مافیا اور اربوں کا دھندا

شہر میں نہ جانے کتنے ہی پارکس، کھیل کے میدان، ہسپتالوں وغیرہ کے لیے مخصوص کی گئیں جگہیں، غرض یہ کہ ہزاروںایکڑ اراضی پر حکومتی عدم توجہی کے باعث قبضے کر لیے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ میگاسٹی کے آدھے سے زیادہ علاقے کچی آبادیوں پر مشتمل ہیں۔ لینڈ مافیا کراچی کا بہت بڑا ناسور ہےجو اس شہر میں بہت سے مافیا گروہوں کے ساتھ بہت سرگرم ہے کیوں کہ یہ اربوں روپے کا ’’دھندا‘‘ ہے۔اس مافیا کی پشت پناہی مختلف طاقتیں کر تی ہیں۔چناں چہ متعلقہ حکّام اپنا ’’حصّہ ‘‘پانے کے لیے اس کی پشت پناہی کرتے ہیں یا پھر ’’اوپر‘‘ سے کوئی فون آجانے کی وجہ سے اس کی سرگرمیوں پر آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے زمینوں پر قبضے کے خلاف فیصلہ دیا تو رسما کچھ کارروائی ہوئی ،لیکن پھر طرح طرح کے مسائل کا رونا روکر متعلقہ حکّام نے پھرسے آنکھیں بند کرلیں۔

ماہرین کے مطابق جب زمینوں پر قبضے کرکے بستیاں بسائی جاتی ہیں تو چوں کہ ان کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں ہوتی لہذا وہاں ہر کام ایڈہاک ازم کے اصول پرہو تاہے۔اس طرح شہر کے بنیادی سہولتوں کے ڈھانچے پر ایسا بوجھ پڑتا ہے جس کا کاغذات میں کوئی سراغ نہیں ملتا ۔اور جب کسی مسئلے کاکوئی سراغ ہی نہ ملے تو اسے حل کیسے کیا جاسکتا ہے؟کراچی ایسے بہت سے مسائل کا اسی طرح شکار ہوا ہے اور ہورہا ہے ۔نہ جانے یہ سلسلہ کب رکے گااور رکے گا بھی یا نہیں؟

زمینوں پر قبضے کا پُرانا سلسلہ

بتایا جاتا ہے کہ شہر میں زمینوں پر قبضے کا سلسلہ بہت پرانا ہے ،لیکن اس میں تیزی 1990کی دہائی میںآئی۔ اس کے بعد مختلف ادوار میں اس کی رفتار کبھی کم اور کبھی تیز ہوتی رہی۔دراصل سیاسی یا انتظامی صورت حال میںاتار چڑھاوکااس کی رفتارسے بہ راہِ راست تعلّق ہے۔اس کے علاوہ سرکاری زمین کے تحفظ پر حکومت کوئی خاص توجہ نہیں دیتی، جس کی وجہ سےاس پر قبضہ کرنابہت آسان ہوتاہے۔یہ مافیاقبضہ کرکےلوگوں اور اداروں کو کاغذی کارروائیوں میں الجھا دیتی ہے اور عدالت سے حکم امتناعی (اسٹے آرڈر)حاصل کرلیاجاتا۔اس دوران وہ زمین لوگوں کوفروخت کرنے کا عمل جاری رہتا ہے ۔

واقفانِ حال اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہرناجائز قبضےسے پہلے متعلقہ قطعہ اراضی کے بارے میں مختلف ذرایع سے معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔پھر باقاعدہ منصوبہ بندی کی جاتی۔اس عمل میں مختلف سیاسی،انتظامی اور دیگر طاقتیں ان کی شریک ہوتی ہیں ۔یہاں یہ بات بتانے کی ہرگز ضرورت نہیں کہ یہ ’’شرکت‘‘ فی سبیل اللہ نہیں ہوتی۔تاہم کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ متعلقہ انتظامیہ میں’’ غلطی سے ‘‘کوئی دیانت دار شخص آجاتا ہے تو معاملات میں کچھ بہتری آجاتی ہے۔ مگر جب’’اوپر والوں‘‘کو اس ’’غلطی‘‘کا احساس ہوتا ہے یا احساس دلایا جاتا ہے تو اس دیانت دار شخص کو اس کی دیانت داری کی سزا کے طورپر فوراوہاں سے ہٹا کر کسی اور جگہ بھیج دیا جاتا ہے۔

پولیس کا اہم کردار

لینڈ مافیا سے زمین خریدنے والےاگلے مرحلے میں وہاں تعمیرات شروع کردیتے ہیں۔ اس سارے عمل میں متعلقہ تھانےکا ایس ایچ اوچاہتے یا نہ چاہتے ہوئے ضرور بالضرور شریک ہوتا ہے۔ کیوں کہ وہ پولیس جو گلیوں میں جاکر قانونی طورپر زیر تعمیر مکانات کے مالکان سے ملبہ یا بجری گلی میں گرانے کو غیر قانونی قرار دے کر سیکڑوں،ہزاروں روپے بٹورلیتی ہے،ہر طرح کی قانونی ضروریات پوری کرکے حاصل کیے گئے پلاٹ پر چہار دیواری کی تعمیر کا آغاز ہونے پر فورا وہاں پہنچ کر زمین کے کاغذات طلب کرتی ہےاور سب کچھ ٹھیک ہونے کے باوجود’’مٹھائی ‘‘کے نام پر’’نذرانہ‘‘ طلب کرتی ہےاور جسے اپنے علاقے کے ہر بازار اورنُکّڑ پر خالی ہر ایسی جگہ کا علم ہوجاتا ہو جہاں کوئی کاروباری سرگرمی شروع کرانے سے اس کےلیے یومیہ یا ماہانہ بھتّےکا آغاز ہوسکتا ہو،وہ کیسے کسی بڑے قطعہ اراضی پرشروع ہونے والی تعمیراتی سرگرمیوں سے آگاہ نہیں ہوسکتی۔

بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا بُرا کردار

شہر میں کسی بھی جگہ ہونے والی تعمیراتی سرگرمیوں پر نظر رکھنا ماضی کے کے بی سی اے اور حال کے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ذمّے داری ہے ۔چناں چہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر یہ ادارہ دیانت داری سے اپنی ذمّے داریاں ادا کرتا تواس شہر کی شکل آج بہت مختلف ہو تی ۔ کیوں کہ اگر اس کے اہل کار ہر علاقے پر نظر رکھتے تو زمینوں کے گھپلے بھی بہت حد تک نہیں ہو پا تے ۔ دراصل کسی بھی عمارت کی تعمیر کے لیے نقشے کی منظوری کی غرض سے متعلقہ زمین کا الاٹمنٹ آرڈر،لیز کے کاغذات وغیرہ لازماجمع کرانے ہوتے ہیں۔ اگر یہ ادارہ مستعد ہوتا تو کے ڈی اے کے ساتھ مل کر شہر میں تجاوزات،غیر قانونی تعمیرات اور قبضہ اورچائنا کٹنگ مافیا کے آگے پہلا بند باندھ سکتا تھا۔لیکن کیا کیا جائے کہ اس کے ہاتھ تو خود اس کے بعض نا اہل، بد دیانت ، سفارش اور اقربا پروری کی بنیادپربننے والے سربراہان اور متعدد بد دیانت اہل کاروں ہی نے باندھ رکھے تھے۔آج بھی اس ادارے کا امیج نام بدلنے کے باوجود بدل نہیں سکا ہے۔

بلڈنگ بائی لاز اور کوڈزمناسب، مگر عمل درآمد؟؟

موجودہ حالات میں اکثر یہ سوال بھی کیا جاتا ہے کہ کیا کراچی کے بلڈنگ بائی لاز اطمینان بخش ہیں یا ان میں ترامیم کی ضرورت ہے؟اس ضمن میں این ای ڈی یونیورسٹی کے شعبے آرکی ٹیکچر اینڈ پلاننگ کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر نعمان احمد کا موقف ہے کہ بلڈنگ بائی لازمناسب ہیں اور وہ متعلقہ معاملات کے تقریباً تمام اہم نکات کا احاطہ کرتے ہیں۔ تاہم ان پر عمل درآمد کے مرحلے میں بہت سی مشکلات اورمسائل ہیں۔کسی بھی قانون یا ضابطے میں وقت کے تقاضوں کے مطابق ترامیم کی ضرورت رہتی ہے۔ 2002ء میں جو بائی لاز بنائے گئے ، وہ بہت حد تک صحیح ہیں اور ان میں یہ وضاحت تک موجود ہے کہ کون سا کام کون کرے گا۔ اگر ان پر عمل درآمد کی صورتِ حال بہتر بنا لی جائے تو بہت سے مسئلے خود بہ خود حل ہو جائیں گے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ بلڈنگ بائی لاز پر سختی سے اور اُن کی رُوح کے مطابق عمل درآمد نہیںکرایا جاتا۔ شہر میں لاتعداد عمارتیں غیر قانونی طور پر تعمیر کی گئیں اورکی جاتی ہیں اور پھر انہیں قانونی قرار دینے کی بات آجاتی ہے۔ یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔ اس حوالے سے شہرکے پُرانے علاقوں میں مسائل زیادہ ہیں۔

نیا ماسٹر پلان اور مفروضوں پر نظر

کراچی کا نیا ماسٹر پلان بنانے کی باتیں طویل عرصے سے ہورہی ہیں۔مگر اس ضمن میں متعلقہ افراد کی نظر مستقبل کے مفروضوں پر ہے اور شہر کے موجودہ مسائل پر توجّہ نہیں دی جا رہی۔ حالاں کہ اسے حال سے شروع ہوکر مستقبل کے امکانات پر مکمل ہونا چاہیے۔شہر میں قوانین کے مطابق عمارتوں کی تعمیراوردیکھ بھال کے ذمّے دار ادارےایس بی سی کی کارکردگی طویل عرصے سے مایوس کُن ہے۔ ماہرین کے مطابق ایس بی سی اے کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ بلڈنگ بائی لازاوربلڈنگ کوڈ پر عمل درآمدکی صورتِ حال بہتر بنائی جائے۔ ادارے میں تجربے کار ماہرین بھرتی کیے جائیں اور انہیں عمارتوں کی انسپیکشن اور ایوولوشن کے شعبے میں تربیت دی جائے۔پہلے کے بی سی اے کی کارکردگی پر نظر رکھنے کے لیے ایک غیر جانب دار اوور سی کمیٹی موجود تھی، جب تک وہ کمیٹی موجود تھی کےبی سی اے کی کارکردگی قدرے بہتر تھی۔اس کمیٹی میں شہری، ماہرین، وکلا، جج صاحبان اور شہر کے مفاد میں کام کرنے والے افراد شامل ہوتے تھے۔ اُس کمیٹی کو فوری طورپر بحال کر دینا چاہیے۔ جنرل مشرّف کے دورِ حکومت میں اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے منصوبے میں یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو شہری حکومت میں ضم کردیا جائے گا۔لیکن وہ وعدہ پورا ہونے کے بجائے اس ادارے کو سندھ حکومت کے ماتحت کردیا گیا ہے۔اصولا بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو ماسٹر پلان ڈپارٹمنٹ کے ماتحت ہونا چاہیے ،لیکن یہاں اس کے برعکس صورت حال ہے۔ شہر کا ماسٹر پلان بنانے کے لیے عملی اقدامات کا آغاز کرنے سے قبل ماسٹر پلان پر عمل درآمد کرانے والا ادارہ ( بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ) اس کے ماتحت ہونا چاہیے۔ ورنہ عمل درآمد کے مرحلے میں مشکلات پیش آئیں گی۔ پہلے کے ڈی اے ماسٹر پلان بناتا اور کے بی سی اے اس کا ذیلی شعبہ ہونےکےناتے اس پر عمل درآمد کراتا تھا۔ لہٰذا اب بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔

انتظامی تبدیلیوں کے اثرات
کراچی کی موجودہ صورت حال کی ایک بہت بڑی وجہ 2001 میں ہونے والی انتظامی تبدیلیاں تھیں۔ان تبدیلیوں کی وجہ سے شہر میں زمینوں پر قبضے کی رفتار بہت تیز ہوئی کیوں کہ سرکاری زمین کا رکھوالا نظام،یعنی، کمشنری نظام، ختم کر دیا گیاتھا۔ڈی ڈی او اور ای ڈی او، ڈپٹی کمشنر کا متبادل ثابت نہیں ہو سکے۔ یہ سرکاری زمین کے ساتھ بہت بڑی زیادتی کی گئی تھی۔ اس میںمتعلقہ سرکاری اداروںاور ریونیو ڈپارٹمنٹ کی ملی بھگت بھی شامل ہےکیوں کہ کوئی بھی خرابی ، متعلقہ سرکاری اداروں کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں ہوتی۔پولیس زمینوں پر قبضے کے معاملے میں اس وقت تک کچھ نہیں کرتی جب تک اسے ریونیو ڈپارٹمنٹ اور ڈپٹی کمشنر کی طرف سے مداخلت کرنے کو نہیں کہا جاتا۔اگرچہ2011 میں کمشنر ی نظام بحال کردیا گیا،لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی ۔پھر یہ کہ اب تک اس نظام کو 2001کی موثر طرز پر بحال نہیں کیا جاسکاہے۔
کراچی میں قبضہ مافیا نے جو تباہی مچائی ہے اس کا اندازہ کرنا ہو تو 2002 اور آج کی گوگل ارتھ کی تصاویر کا جائزہ لے لیں۔اس سے پتا چل جائے گا کہ اس وقت شہر کے کس حصّے میں کون سا قطعہ اراضی خالی تھا اور اب وہاں کیا کیا تعمیر ہو چکا ہے۔ متعلقہ سرکاری حکّام کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد قبضوں کی شکایات کم ہوئی ہیں،لیکن ان کے دعوے کی نفی کے لیے صرف ناظم آباد کے علاقےبورڈ آفس کی مثال کافی ہےجہاں عید گاہ میدان میں دو بہت مشہور فوڈ چینزکی شاخیں کھل چکی ہیں۔
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں