آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 15؍شعبان المعظم 1440ھ 21؍اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحریر:محمّد حنیف

 متّرجم: عرفان جاوید

محمّد حنیف پاکستانی نژاد برطانوی مصنّف اور معروف صحافی ہیں۔1964ء میں اوکاڑہ میں پیدا ہوئے۔ پاکستان ائیر فورس اکیڈمی سے بطور پائلٹ آفیسر گریجویشن کی، مگر بعد میں صحافت سے وابستہ ہوگئے۔نیوز لائن، واشنگٹن پوسٹ، انڈیا ٹو ڈے کے لیے لکھتے رہے۔ بعد ازاں، بی بی سی لندن سے باقاعدہ منسلک ہوئے اور اُردو سروس کے سربراہ کے طور پر کام کیا۔ ان کے پہلے ہی ناول"A Case of Exploding Mangoes" کو گارجیئن فرسٹ بُک ایوارڈ کے لیے شارٹ لسٹ کیا گیا۔ ناول نگاری کے ساتھ ریڈیو، اسٹیج، تھیٹر، فلم کے لیے بھی کام کیا اورستارۂ امتیاز سمیت متعدد اعزازات اپنے نام کر لیے۔
معروف مصنّف، افسانہ نگار، عرفان جاوید نے ان کی ایک خُوب صُورت شارٹ اسٹوری کو’’بازگشت‘‘ کے نام سے ترجمہ کیا ہے۔

یہ’’ ایسے لڑکوں کی کہانی ہے، جنھیں تقسیم کے بہت بعد پاکستان چھوڑنے پرمجبور ہونا پڑا۔ پہلا لڑکا رخصت کے وقت اتنا کم سِن تھا کہ بے وطنی کی وجہ سمجھ نہ پایا، جب کہ دوسرا روانگی کے وقت اتنا بڑا ضرور تھا کہ بے وطنی کی وجہ تو خُوب سمجھ گیا، پر بارہا یہ پوچھنے پرمجبور رہا،’’آخرکیوں…؟‘‘

گزشتہ برس کے اوائل میں، میری کراچی سے بینکاک جاتے طیارے میں ایک چودہ برس کے تنہا سفر کرتے بچّے سے ملاقات ہوئی۔ چند ہنستے مذاق کرتے، پاکستانی کاروباری لوگ اُس پر اپنی چینی زبان کی مشق کررہے تھے۔ لڑکا بدحواس ہورہا تھا۔ وہ میری جانب مُڑا اور اُردو میں بولا، ’’یہ لوگ کون سی زبان بول رہے ہیں؟‘‘ مَیں نے ان کو بتایا کہ لڑکا پاکستانی ہے اور انھیں متنّبہ کیا کہ وہ اسے پریشان نہ کریں۔ بہ ظاہر نظر آتا تھا کہ ان کاروباری لوگوں نے خاصی دُنیا دیکھ رکھی ہے، پر وہ ایک چینی شکل کے لڑکے کو صاف اُردو بولتے دیکھ کر ششدر رہ گئے۔ انھوں نے اپنی توجّہ ہم سے ہٹالی اور بحث کرنے لگے کہ بینکاک کے قحبہ خانوں میں کیا منع ہے اور کیا نہیں۔’’چُھٹیوں پر جارہے ہو؟‘‘ مَیں نے لڑکے سے پوچھا ،’’وہ بھی اکیلے؟‘‘وہ لڑکا نہیں چاہتا تھا کہ اس سے بچّوں کا سا برتاؤ کیا جائے۔ سو فوراً بولا، ’’مَیں نویں جماعت میں ہوں۔‘‘’’تو تُم اسکول کیوں نہیں جارہے؟‘‘مَیں نے استفسار کیا۔اُس نے مجھے ایک کہانی سُنائی، ایک جانی پہچانی کہانی۔ مگر مَیں نے پہلے اُسے کسی بچّے کے نکتۂ نظر سے نہیں سُنا تھا۔ لڑکے نے اپنی آواز دھیمی کرلی اور بولا، ’’کچھ عرصے سے ابّو عجیب وغریب حرکتیں کررہے ہیں۔ اُن کی کوئٹہ میں سریاب روڈ پر بڑی دکان ہے۔ پہلے وہ دکان پر روز جایا کرتے تھے۔ اب وہ زیادہ دِن گھر پرگزارتے ہیں۔ پہلے انھوں نے مجھے اسکول جانے سے روکا، پھر گلی میں کھیلنے سے بھی روک دیا۔ اب انھوں نے مجھے بتایا کہ مجھے بینکاک جانا پڑے گا۔‘‘اُس لڑکے کو اس آزمایش اور ان شدید مشکلات کا صحیح ادراک نہ تھا، جن سے اس کی برادری نبرد آزما تھی۔ اس کا والد کوئٹہ کے اُن تاجروں میں سے ایک تھا، جنھیں ایک انتخاب کرنا ہوتا ہے، کام پر جائیں، جہاں قتل ہونے کا خطرہ ان کے سَروں پر گدھ کی طرح منڈلاتا رہتا ہے یا پھر گھر بیٹھے رہیں اور ایک دِن مزید زندہ رہنے کی مہلت حاصل کرلیں۔ اُس لڑکے کا خیال تھا کہ اُس کا والد ان دِنوں کچھ عجیب سا ہوگیا تھا۔’’کیا تم کبھی بینکاک گئے ہو، کیا تمھارے خاندان کےکچھ لوگ وہاں موجود ہیں؟‘‘’’نہیں‘‘ اس نے نفی میں سَرہلایا، ’’مَیں اس سے پہلے کبھی کہیں بھی نہیں گیا۔ میری تمام بہنیں کوئٹہ ہی میں ہیں۔ مَیں اُن کا اکلوتا بھائی ہوں۔ مَیں انکل مرزا کے ہاں قیام کروں گا۔‘‘اس نے ایک بچّے کے سے پُرتفاخر بھولپن سے مجھ سے سوال کیا، ’’کیا آپ انکل مرزا کو جانتے ہیں؟ اُنھیں بینکاک میں سبھی جانتے ہیں۔‘‘بعد ازاں، معلوم ہوا کہ انکل مرزا سے ان کے خاندانی مراسم تھے۔ البتہ وہ لڑکا ان سے کبھی نہیں ملا تھا۔ مجھ میں ہمّت ہی پیدا نہ ہوئی کہ مَیں اُس لڑکے کے سامنے اعتراف کرتا کہ میَں اُس کے انکل مرزا سے واقف نہیں۔ مَیں یہ بھی تصوّر نہ کرسکا کہ اس معصوم بچّے کو بینکاک میں کیسے حالات میں زندگی گزارنا پڑے گی۔

اُس برس کے اواخر میں مجھے کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے سرکردہ راہ نما سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ وہ جنازوں کو کندھا دیتے دیتے تھک چُکا تھا۔ اس نے مجھے کہا،’’اس کے پاس حکومت کے لیے ایک تجویز ہے کہ وہ ہمارے تمام مال اسباب خرید لے، ہماری دکانیں، کاروبار، گھر، یہاں تک کہ ہمارے گھریلو استعمال کے برتن بھی خرید لے۔ وہ سبھی کچھ منڈی کے داموں خرید کر ان پیسوں کے عوض ہمیں ایک بحری جہاز پر بٹھا دے اور کسی بھی ایسے مُلک بھیج دے، جو ہمیں رکھنے پر تیار ہو۔‘‘وہ لڑکا ایسے ہی بحری جہاز کا تنہا مسافر تھا۔ انکل مرزا وہ واحدشخص تھا، جو اسے اپنانے کو تیار تھا۔ گزشتہ برس بمبئی میں ایک ادبی نشست کے بعد ایک اور لڑکا مجھ تک چلا آیا ۔ وہ ایک ایسے سندھی زبان کے شعری قطعے کے بارے میں جاننا چاہتا تھا، جسے مَیں نے اپنی گفت گو میں پڑھا تھا۔ وہ اپنی عُمر کی تیسری دہائی میں اور ایک صاف ستھرا، بمبئی کا روایتی بابو تھا۔’’مَیں شکار پور سے تعلق رکھتا ہوں۔‘‘ اس نے یک دَم مجھ پر انکشاف کیا۔ میرا قیاس تھا کہ وہ وہاں ملاقاتوں یا سیّاحت کے لیے آیا تھا اور ملازمت ملنے پر وہیں قیام پزیر ہوگیا ہے۔ دوبارہ ویسی ہی کہانی تھی۔ اس نے اپنے والدین کے ہم راہ بھارت ہجرت کی تھی۔ تب وہ سولہ برس کا تھا۔’’نوّے کی دہائی کے اوائل میں جب اندرونِ سندھ میں بہت اغوا ہورہے تھے۔‘‘ اُس نے اپنی ہجرت کا سبب بتایا۔ مَیں نے ایک سچّے اور محبِ وطن پاکستانی کی طرح وضاحت کی کہ تب مسلمان بھی اغوا ہورہے تھے۔ وہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے نارواسلوک پر بات کرنے کا خاص خواہش مند نہ تھا۔ وہ مجھ سے علیٰحدگی میں کوئی بات کرنا چاہتا تھا۔ سو، ہم ہجوم سے پَرے ہٹ گئے۔’’ہم یہاں اس لیے آئے تھے کہ میرے والدین میری بہنوں کے حوالے سے پریشان تھے۔ اُنھیں معلوم نہ تھا کہ بہنوں کے بڑے ہونے کے بعد اُن کاکیا مستقبل ہوگا۔‘‘مَیں نے اس کی بمبئی کی زندگی کا پوچھا۔ اس کی اچھی گزر رہی تھی۔ وہ بھارتی چینل سے نشر ہونے والے ایک سلسلےوار ڈراما سیریل کا ڈائریکٹر تھا۔ شادی شدہ اور دو بچّے بھی تھے۔’’آپ کو میری بات عجیب لگے گی، مگر مجھے اُمید ہے کہ آپ اس حوالے سے میری مدد کرسکیں گے۔’’مَیں پچھلے ایک برس سے روزانہ رات کو شکار پور شہر خواب میں دیکھتا ہوں۔‘‘ اس نے وضاحت کی’’میرا مطلب ہے کہ ہرمرتبہ خواب مختلف ہوتا ہے، پر جو کچھ بھی ہوتا ہے، شکار پور شہر اور اس کی سڑکوں پر ہوتا ہے۔ خواب بہت واضح ہوتے ہیں۔ عجیب بات تو یہ ہے کہ میں عام زندگی میں شکار پور کے بارے میں زیادہ سوچتا بھی نہیں۔ مَیں وہاں پیدا ہوا، پلا بڑھا اور بس۔اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہ سب میرا ماضی ہے۔ مَیں چاہتا ہوں کہ خوابوں کا یہ سلسلہ ختم ہوجائے۔‘‘میرے پاس اس کے سوال کا واضح جواب نہ تھا۔ مَیں نے بڑبڑاتے ہوئے اُسے بتایا کہ وطن کی یاد ایک عالم گیر عارضہ ہے۔اس نے اصرار کیا کہ وہ اپنے آبائی وطن کی یاد کے عارضے میں ہرگز مبتلا نہیں۔’’ درحقیقت مَیں کبھی بھی واپس نہیں جانا چاہوں گا۔ بس مَیں چاہتا ہوں کہ ایسا کوئی علاج سامنے آجائے، جس سے مجھےایسے خواب آنا بند ہوجائیں۔ مَیں اس بارے میں کسی سے بات بھی نہیں کرسکتا۔‘‘مَیں نے اسے مشورہ دیا کہ وہ اپنے تجربات قلم بند کرے۔’’ان میں کوئی کہانی نہیں۔‘‘ اس نے بتایا’’ وہاں ہمارے کچھ رشتے دار آج بھی رہتے ہیں۔ مَیں ان کے لیے کیوں کر کوئی پریشانی پیدا کروں؟ کوئی کیوں میرے خوابوں کے بارے میں پڑھنا چاہے گا؟ ویسے بھی مَیں اس بارے میں کسی سے بات کرتے ہوئے شرمندگی محسوس کرتا ہوں۔ مَیں نے آپ سے بات کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا کہ آپ سندھ سے تعلق رکھتے ہیں اور آپ نے ایک ایسا قطعہ پڑھا، جو مجھے پسند آیا۔‘‘مَیں نے موضوع بدلنے کی سعی کرتے ہوئے بھارتی سوپ ڈراموں کے عروج وزوال پر بات کی۔ اس نے باتوں ہی باتوں میں مجھے بتایا کہ اس کے تمام بہن بھائی شادی شدہ ہیں، مطمئن زندگی گزار رہے ہیں اور گھر سے دُور جا آباد ہوئے ہیں۔’’گھر کہاں ہے؟‘‘ مَیں نے استفسار کیا۔ اس نے بھارتی ریاست گجرات کے ایک چھوٹے سے قصبے کا نام لے دیا۔’’میرے والدین وہیں رہتے ہیں۔‘‘اس نے بتایا’’ اکیلے۔ ‘‘پھر وہ دوبارہ اپنے خوابوں کے موضوع پر لوٹ آیا، ’’مَیں جب ان خوابوں کے بعد اُٹھتا ہوں، تو اکثر اپنے والدین کے بارے میں سوچتا ہوں۔ مَیں نے جب شکار پور چھوڑا تھا، تو یہی کوئی سولہ برس کا تھا۔ مَیں نے اپنی بقیہ زندگی یہاں گزاری ہے۔ جب انھوں نے شکار پور چھوڑا، تو میرے والدین ساٹھ برس کی عُمر سے تجاوز کرچُکے تھے۔ اس سے پہلے وہ کبھی شکار پور سے باہر نہ رہے تھے۔ وہ کبھی شکار پور کے بارے میں بات نہیں کرتے۔ پر مَیں ان کے حوالے سے پریشان رہتا ہوں۔ مَیں سوچتا ہوں کہ اگر مَیں اپنے شکار پور کے خوابوں سے جان نہیں چھڑوا سکا، تو ان پر جانے کیا بیتتی ہوگی؟‘‘

سوچ رہا ہوں کہ وہ بینکاک جانے والا لڑکا جب ایک اجنبی زمین پر جوان ہوگا، تو کیا سریاب روڈ سے وابستہ بازگشت خواب میں اس کا بھی یوں ہی تعاقب کرے گی؟

ناقابلِ اشاعت نگارشات اور

ان کے تخلیق کار

٭بیڑا غرق، محبّت، دُعائیں، پرنس افضل شاہین، بہاول نگر٭ دیوانہ محبّت اور خودسری، عینا اکبر٭ جنون، لائقہ جبیں٭ ادب کا روشن استعارہ، فرحی نعیم، کراچی ٭حیاتِ طیبہ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم، مہر منظور جونیئر، ساہی وال٭ ماں، شاہین ولی شاد، کراچی٭ اللہ کی محبّت، شبو شاد شکارپوری، کراچی٭ عورت کی قدر، عفّت سہیل احمد، رشیدآباد، کراچی٭ خودساختہ علاج، ریحان جبار یوسفانی٭ عمران خان، محمّد علیم نظامی،لاہور٭ اگر پاکستان میں کرپشن نہ ہوتی،مہر منظور جونیئر،ساہی وال۔

جو بہ ذریعہ ای میل موصول ہوئیں

٭تقسیمِ ہند کی تجاویز اور رائے،آمنہ لیاقت، جامعہ کراچی،کراچی٭ ہمارے خیال، اقصیٰ عثمان ٭معذور افراد، نبیل احمد، کراچی٭ ایڈز، رانا اعجاز حسین چوہان ٭مَیں کہاں جائوں، عبداللہ نظامی٭ فیمینسٹ، عائزہ عقیل عباسی٭ نظرِثانی، عائشہ مریم، لاہور٭ مَیں لڑکی کیوں ہوں،خطیب احمد٭ الّو کا پٹھا، م۔ص۔ایمن ٭زندگی اور موت، پروفیسر مجیب ظفر انوار حمیدی، کراچی۔

ناقابلِ اشاعت کلام اور ان کے تخلیق کار

٭نعتیں، پڑھو پڑھائو، وکیل احمد، ساہی وال٭ غزل، شعیب محمّد بدایونی، کراچی٭ نیا سال، پرنس افضل شاہین، بہاول نگر٭ بہت اندھیرا ہے، ضیاء الحق قائم خانی، جھڈو، میر پور خاص٭ غزل، نظم، محمّد بلال عباسی قائم پور،خمیسنہ، رات کے پچھلے پہر، بلال اسلم، جبّی، خوشاب، کیا دسمبر نے لکھا تھا، اقصیٰ، غزل، رشید راز٭ نہ جانے کیوں، محمّد علی کھوکھر، شہدادپور٭ دُعا، شاہین ولی شاد، کراچی٭ قرار کی خاطر، زاہد اظہار، کراچی۔

ناقابلِ اشاعت کلام،جو بہ ذریعہ ای میل موصول ہوا

٭مائوں نے بستے دے کر بھیجا، رابعہ بصری٭ نعتِ رسولﷺ، پروفیسر حکیم شفیق کھوکھر، لاہور٭ ہر طرف خاموشی تھی، ملائکہ اعظم، ہنجرا، ویر والہ، سیال کوٹ٭ غزل، تعظیم زہرا، لاہور۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں