آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 10؍جمادی الثانی 1440ھ 16؍فروری 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعظم عمران خان کی حکومت اپنے اقتدار کی تیسری سہ ماہی میں داخل ہوچکی ہے، اپنے اقتدار کے پہلے چھ ماہ میں بارہ ارب ڈالرز کا قرض لینے کے باوجود پی ٹی آئی کی حکومت’’تبدیلی ‘‘ کا وہ تاثر قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی جس کی عمران خان اپنی بائیس سالہ سیاسی جدوجہد میں دعویٰ کرتے رہے ہیں۔ 2013 میں تیسری بار وزیراعظم منتخب ہونے والے نواز شریف کو کوٹ لکھپت جیل سے سروسز ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے جبکہ تین بار پنجاب کے وزیراعلیٰ کے منصب پر فائز رہ کر کھربوں روپے کے منصوبوں کی نگرانی کرنے والے میاں شہباز شریف پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے منسٹر انکلیو سب جیل میں کمردرد کے خاتمہ کیلئے فزیو تھراپی کرانے میں مصروف ہیں، پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز عدالت کی اجازت سے انگلینڈ جاچکے ہیں۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں شہباز شریف ،پاکستان پیپلز پارٹی کے تعاون کی وجہ سے قومی اسمبلی کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کے چیئرمین منتخب ہونے میں کامیاب ہوگئے حالانکہ پی ٹی آئی کی قیادت انہیں پی اے سی کا چیئرمین بنانے پر آمادہ نہ تھی، راولپنڈی سے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد شہباز شریف کے چیئرمین پی اے سی بننے کے بعد اعلانیہ ان کے خلاف علم بغاوت بلند کئے ہوئے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ وہ انہیں پی اے سی کی چیئرمین شپ سے ہٹانے کیلئے سپریم کورٹ جانے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان سے اختلاف رکھنے والے شیخ رشید جو موجودہ پارلیمنٹ میں سینئر ترین ارکان میں شامل ہیں نے شہباز شریف کو کرپشن کا بادشاہ قرار دیا، شیخ رشید کا دعویٰ ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے انہیں بھی پی اے سی کا رکن نامزد کردیا ہے وہ پی اے سی میں خود شہباز شریف کی خرابیاںبے نقاب کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان کے سعودی عرب متحدہ عرب امارات اور چین کا دورہ کرکے بارہ ارب ڈالر کی امداد لانے میں کامیاب ہوگئے ہیں چین نے مزید اڑھائی ارب ڈالرز دینے کا اصولی فیصلہ بھی کرلیا ہے، قومی خزانے میں ڈالرز کی آمد سے معیشت چلانے کا کسی حد تک انتظام ہوگیا ہے، اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے غیر ملکی مالی امداد کو چیف آف آرمی سٹاف جنرل باجوہ کی کوششوں کا ثمر قرار دیا ہے، سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کے کرتا دھرتا تو اب کھلے عام یہ اعتراف کرنے لگے ہیں کہ انہیںمقتدر حلقوں کی مکمل سرپرستی حاصل ہے، لہٰذا وہ 35 برس تک اقتدار میں رہنے والے حکمرانوں کا مکمل احتساب کریںگے۔ نواز شریف کو دو ریفرنسز میں نیب عدالتیں سزا سنا چکی ہیں،شہباز شریف بھی نیب کے اسیر ہیں، خواجہ سعد رفیق اپنے بھائی سمیت نیب کے طویل ترین جسمانی ریمانڈ کے بعد جوڈیشل ریمانڈ پر جیل پہنچ چکے ہیں ڈیل کی ناکامی اور ڈھیل کی باتیں کھلے عام ہورہی ہیں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ نواز شریف کو علاج کیلئے لندن بھیجنے کا گرین سگنل مل چکا ہے، طریقہ کار طے ہورہا ہے، مریم نواز والدہ کے انتقال کے بعد سے خاموش ہیں جبکہ مریم اورنگزیب ن لیگ کی نڈر اور بے باک ترجمان کی ذمہ داری نبھاہ رہی ہیں، الیکٹرانک میڈیا پر ڈاکٹر مصدق ملک بھی ڈٹے ہوئے ہیں احسن اقبال،شاہد خاقان عباسی، رانا ثناء اللہ، سردار ایاز صادق، سینیٹر نزہت صادق، رانا تنویر حسین، سینیٹر جاوید عباسی، سینیٹر مشاہد حسین سید، مشاہد اللہ خان، خرم دستگیر اور مرتضی جاوید عباسی بھی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر زیر عتاب قیادت کا بھرپور انداز میں ساتھ دے رہے ہیں، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے چیئرمین راجہ محمدظفر الحق ،سابق سیکرٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا گن گرج نہ سہی مگر شائستگی اور تحمل سے دشنام طرازی کا بھرپور جواب دیتے ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری سیاسی میدان میں جعلی بنک اکاونٹس کا بھرپور دفاع کررہے ہیں، سینیٹر شیریں رحمن، نفیسہ شاہ اور سینیٹر مصطفی کھوکھر پیپلزپارٹی کی بھرپور ترجمانی کر رہے ہیں، حج سبسڈی ختم کرکے حکومت نے ملک کے مزید دو لاکھ افراد کو اپنے خلاف کرلیا ہے،چھیالیس برسوں میں1973ء کے متفقہ آئین میں پچیس ترامیم ہوچکی ہیں مگر ہم ابھی تک ایک قوم نہیں بن سکے، سندھی، بلوچی، پٹھان،پنجابی ،سرائیکی اور ہزارہ وال تو ہیں پاکستانی نہیں ہیں حالانکہ 72 برسوں میں ہم نے جو آزادی استعمال کی ہے وہ صرف اور صرف پاکستانی ہونے کی وجہ سے ملی ہے ، آئین کے مطابق ملک چلانے پر کسی دور میں بھی توجہ نہیں دی گئی1977 سے1988تک اور1999 سے 2007 تک وردی پوش صدر موجود رہے،سیاسی حکمرانوںپر بھی جمہوری آمریت کے الزامات لگے، پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کے مطابق اندرونی قرضے دو ارب ڈالرز اور غیرملکی قرضے 190 ارب ڈالرز تک پہنچ گئے ہیں، مصدق ملک کاکہنا ہے کہ نو منتخب وزیراعظم کہتے ہیں ن لیگ والے معیشت کو تباہ کر گئے ہیں ہم نے پانچ برسوں میںپچیس ارب ڈالرز کا قرضہ لیا انہوں نے چھ ماہ میں بارہ ارب کیلئے ہیں ہم نے سڑکوں کے جال بچھائے ہیں،بجلی پیداکرنے کے منصوبے مکمل کئے ہیں گیس ذخیرہ کرنے کا انتظام کیا ہے، عمران خان کی حکومت نے ابھی کیا کیا ہے؟ انہوں نے تو عوام کو گیزر کی سہولت استعمال کرنے سے بھی منع کردیا ہے،سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ہمیں قوم بننے کیلئے 1973ء کے آئین پر بلا تفریق عملدرآمد شروع کرنا ہوگا، عدالتوں کو بھی آئین کی حفاظت کی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی آئین وقانون پرعملدرآمد سے ہی خرابیاں ختم ہونگی،جب تک ہم خود اپنا احتساب کرنے کے عادی نہیں ہونگے قرضوں کے بوجھ بڑھتے رہیں گے،سیاستدانوں ،بیورو کریسی ،فوج اور عدلیہ کومیڈیا کی نگرانی میں میثاق معیشت کرنا پڑے گا، قوم کو قرضوںسے نجات کیلئے ہر شہری کو اپنی اوقات کے مطابق آگے بڑھنا ہوگا، گڈ گورننس کا عملی مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے، قومی اداروں کو ملک کی جغرافیائی صورتحال کے تناظر میں دفا ع کے لئے پوری قوم کو ساتھ جوڑنا ہوگاکسی ایک کی حب الوطنی پر شبہ کرنے سے خرابیاں بڑھتی ہیں، افغانستان سے امریکہ کے انخلا کی صورت میں پاکستان کی ذمہ داریوں میں مزیداضافہ ناگزیر ہے، ان حالات میں قوم میں کسی بھی قسم کا اختلاف قومی انتشار کا موجب بنے گا، دولت غیرقانونی طریقے سے بیرون ملک لے جانے والوں کو ایک بار پھر دولت واپس لانے کا موقع فراہم کیا جائے اور عام معافی کااعلان کرکے قومی یکجہتی کی بنیاد رکھی جائے اس طرح شاید ہم اپنے معاشی حالات بھی بہتر بنالیں اور دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچ جائیں، سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بد قسمتی سے ہم نے 72 برسوں میں ملک کو قرضوں کے جال میں تو جکڑ دیا ہے مگر غیر ملکی قرضوں سے قومی ضرورتوں کو پورا کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے، آج بھی ہم قرضوں پر سود کی ادائیگی کیلئے مزید قرضے لینے پر مجبور ہیں، چھوٹے صوبوں سمیت ملک بھر کے عوام کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے، دنیا بھر میں پھیلے پاکستانی تب ہی قومی ذمہ داری پوری کرنے کیلئے اٹھ کھڑے ہونگے جب قومی قیادت اپنی ذمہ داری پوری کرنے پر توجہ دے گی، سیاستدانوں سے جیلیں بھرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا سب کو مل کر معیشت کو سہارا دینا ہوگا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں