آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 15؍شعبان المعظم 1440ھ 21؍اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تفہیم المسائل

جوتے پہن کر کھانا کھانے کا شرعی حکم

سوال: کھانے کے دوران جوتے پہنے رکھنے کا کیاحکم ہے ؟ (محمد ابدال ،کراچی )

جواب: حدیث پاک میں کھانے کے وقت جوتے اتارنے کا ذکر آیا ہے :ترجمہ:’’ انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کا کھانا چُن لیا جائے اور اس کے پائوں میں جوتے ہیں ،تو وہ اپنے جوتے اتار لے ،کیونکہ اس سے یہ پائوں کے لیے زیادہ راحت کا باعث ہے،(مجمع الزوائد:7911)‘‘۔حدیث میں اس کا سبب آرام اور راحت بیان کیاگیا ہے ۔البتہ اگر جوتے اتارنا مشکل ہو یا اس میں سہولت نہ ہو جیسے میز کرسی پر کھانے کی صورت میںہوتا ہے ،تو جوتے پہن کرکھانا کھانا بھی جائز ہے ۔

امام اہلسنّت اعلیٰ حضرت احمد رضا خان قادری ؒ نے کئی کتب احادیث سے مندرجہ بالا حدیث نقل کرنے کے بعد لکھا: ’’کھانا کھاتے وقت جوتا اتار لینا سنّت ہے،اگر اس عذر کے سبب جوتا پہن کر کھارہا ہو کہ فرش نہیں ہے ،تو یہ ایک سنتِ مستحبہ کا ترک ہے اور کرسی میز پر جوتا پہن کر کھانا خاص نصاریٰ کی وضع ہے ،اس سے اجتناب کرے،پھر انہوں نے اس حدیث کا حوالہ دیا: ’’مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمِ فَھُوَ مِنْہُم،(فتاویٰ افریقہ ، بتصرف، ص:42-43)‘‘۔

ہمارے علم کے مطابق موجودہ دور میں جوتا پہنے ہوئے کرسی میز پر کھانے کا شعار اکثر اقوام میں رائج ہے اور یہ نصاریٰ کا خاص مذہبی شعار نہیں ہے ، لہٰذا اس پر ’’تَشَبُّہْ بِالنَّصَاریٰ‘‘کا اطلاق دین میں یُسر کے منافی ہے اور ایسا کرنے والا اس وعید کا مستحق نہیں ہے ۔ بعض اوقات لوگوں کو سنّت پرکاربند رکھنے کے لیے اکابر علمائے امّت شدّت فرماتے ہیں، اس کو اسی معنیٰ میں لینا چاہیے ۔ہوٹلوں ،اکثر دعوت اور بعض گھرانوں کی مجالس میںبھی طعام کے لیے کرسی میز ہی کا اہتمام ہوتاہے اور فرشی نشست کی سہولت نہیں ہوتی اور ایسے میں کسی کا الگ فرش پر بیٹھ کر کھاناعرف وعادت کے خلاف ہے ۔ ایسے اُمور پر ’’تَشَبُّہ بِالْکُفَّار ‘‘ کی بابت علامہ غلام رسول سعیدی رحمہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں:’’تاہم اس پر یہ اشکال ہے کہ اس حدیث میں اُس مشابہت کی ممانعت ہے جو کفارومشرکین کے دینی شعائر میں سے ہو اور اُن کی کسی بدعقیدگی پر مبنی ہو، جیسے صلیب لٹکانا،مطلقاً مشابہت مراد نہیں ہے ،ورنہ بہت سی باتوں میں دیگر مذاہب کے ساتھ مشابہت پائی جاتی ہے، (شرح صحیح مسلم، ج:6،ص:282)‘‘۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں