آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات16؍ ربیع الاوّل 1441ھ 14؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
بلاشبہ حضرت باچا خان کی روح بیک وقت مغموم و مطمئن ہر دو عجب کیفیات سے یوں دوچار ہو گی کہ ایک طرف ان کے سیاسی کارروان کے ایک بے لوث و بے ریا راہ رو کو اجل نے قافلے سے جدا کر لیا ہے تو دوسری طرف پختونخوا، بلوچستان اور کراچی سمیت جہاں جہاں اے این پی کے چاہنے والے موجود ہیں، وہاں ایسا سکون، ایسا سکوت کہ ایسے مظاہر اس طرح کے عظیم سانحات کے بعد کم کم دیکھنے میں آتے ہیں۔ چار عشروں تک ترقی پسند و قوم پرست سیاست کے صف اول میں رہنے والے بشیر احمد بلور جیسی ہر دلعزیز شخصیت کا خون ناحق ہو جائے اور برصغیر پاک و ہند کی سیاست میں ایک صدی سے ہر دم اپنے وجود کا ثبوت فراہم کرنے والے لاکھوں جاں نثار کارکن ان کے خون سے تر جسد خاکی کے قریب موجود ہوں، لیکن پھر بھی پُرتشدد جذبات مغلوب اور غیض و غضب صبر کی چادر اوڑھ لے، تو کیا اسے فلسفہ عدم تشدد کا کرشمہ نہیں سمجھا جائے گا! حضرت باچا خان کی روح بشیر بلور جیسے بے باک و معصوم سپاہی کے قتل پر تڑپ کر رہ گئی ہو گی، لیکن قرار کا سبب یہ امر بنا ہو گا کہ ان کی جماعت خدائی خدمتگار تحریک کے سیاسی بطن سے جنم لینے والی اے این پی بھی عدم تشدد اور امن کا پرچم تھامے ہوئی ہے۔
پاکستان میں ان دنوں جو سیاست مروج ہے وہ دھونس، دھمکی، خود غرضی، ابن الوقتی اور جلاؤ گھیراؤ سے عبارت ہے۔ کسی لیڈر یا کارکن کے

قتل پر تو کیا، یہاں معمولی سے معمولی واقعہ اور غیر منطقی و بے جواز مطالبے کو جواز بنا کر شہر کے شہر بند کر دیئے جاتے ہیں، بے قصور لوگوں اور سرکاری املاک کو آگ کے شعلوں کی نذر کردیا جاتا ہے۔ موت اور خوف قریہ قریہ رقص کرتے نظر آتے ہیں۔ یہاں تک کہ ناموس تحفظ رسالت کے مقدس نام پر احتجاج کے دوران ملک و ملت کا اس قدر جانی و مالی نقصان کر دیا جاتا ہے کہ یہود و ہنود خود کو قہقہے لگانے پر مجبور پاتے ہیں۔ ایسے پراگندہ ماحول، اس قسم کے طرز سیاست میں بشیر بلور سمیت 10 انسانی قیمتی جانوں کے خون کی لالی تلے ایام سوگ خیر و امن سے گزر جائیں، تو یہ حکمت عملی لیڈر شپ اور وابستگان کی حب الوطنی کا کمال ہی متصور ہو گا۔ نیز اس سے قاتلوں کے وہ عزائم بھی تشنہٴ تکمیل رہے کہ جو وہ اس سانحے کے بعد گھیراؤ جلاؤ کی صورت میں اس ملک اور اس کے عوام کو نقصان پہنچا کر پورے کرنے کے خواہاں تھے۔
بشیر احمد بلور شہید کے خانوادے اور اے این پی کو علیحدہ علیحدہ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ اگر اے این پی کا تذکرہ ہو گا تو بلور خاندان کے بغیر یہ ذکر نامکمل ہو گا اور اگر بلور خاندان کی بات آئے گی تو لامحالہ اے این پی کی تصویر قلب و نظر کے سامنے نمودار ہو جائے گی۔ اس خاندان کے سربراہ حاجی غلام احمد بلور، الیاس بلور اور بشیر بلور کو باچا خان کی قربت حاصل رہی جبکہ حاجی بلور صاحب تو خان عبدالولی خان مرحوم کے دست راست تھے۔ اس وقت حاجی بلور صاحب کو اے این پی میں وہ مقام حاصل ہے جو مرحوم و مغفور خان عبدالولی خان کو حاصل تھا۔ پارٹی کے سربراہ جناب اسفند یار ولی خان اپنے والد کے قریبی ساتھی ہونے کے ناتے ہمیشہ حاجی صاحب کے فیصلوں پر صاد کرتے اور حاجی صاحب کی رائے کو اپنی رائے پر مقدم رکھتے ہیں۔ یہ خانوادہ غم و ابتلاء کے ہر دور میں ولی باغ کے ساتھ ساتھ رہا اور کوئی لالچ، جبر یا جاہ و حشم کی کوئی کشش اسے ولی باغ سے جدا نہیں کر سکی۔ یہی وجہ ہے کہ اے این پی کے عہدیدار و کارکن بلور خاندان کی عزت و تعظیم بالکل اسی طرح کرتے ہیں، جس طرح کہ وہ ولی باغ کے کسی فرد کی کرتے ہیں۔ تحریک آزادی کے سرخیل گھرانے کے سائے تلے رہنے والے ایسے لوگ قربانیاں دینا بھی جانتے ہیں اور کسی ناقابل تلافی نقصان پر صبر و استقامت کا مظاہرہ کرنا بھی ان ہی کا اوڑھنا بچھونا بن جاتا ہے۔ مجھے پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے سابق مرکزی جنرل سیکرٹری خورشید علی خان آف بٹ خیلہ نے بتایا کہ بشیر بلور کی شہادت پر بلور خاندان کا صبر و استقلال قابل دید تھا۔ من میں غم کے تلاطم خیز طوفان کو بے بس کر کے تعزیت کرنے والوں سے وہ جس طرح روایتی مہمان نوازی سے ملتے رہے اور یہ تاثر دیتے رہے کہ قوم کی خاطر قربانی باعث رنج و ملال و فکر نہیں، باعث فخر ہے۔ یہ طرز عمل ایسے اندوہناک مراحل میں ہر ایک کے بس کی بات کہاں ہوتا ہے!؟ اس کیلئے باچا خان جیسا پہاڑوں جیسا حوصلہ اور شیر شاہ سوری جیسا جگر چاہئے! بلور خاندان اے این پی میں مذہبی سوچ کی وجہ سے بھی جداگانہ حیثیت کا حامل ہے۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ جب اکثر مذہبی لیڈر تحفظ ناموس رسالت کے نام پر سیاست چمکا رہے تھے، تو ایسے عالم میں حاجی بلور صاحب نے گستاخ شخص کی سرکوبی کیلئے جس انعام کا اعلان کیا، برطانیہ اس پر اس طرح سیخ پا ہوا کہ حاجی صاحب کی اپنے ملک میں داخلے پر پابندی لگا دی۔ نہ جانے امریکا و برطانیہ کے بعض سیاسی مولویوں سے وہ کون سے ”دیرینہ“ تعلقات ہیں کہ جس کے تناظر میں وہ ان کے تمام قصور سے درگزر کر لیتے ہیں، لیکن اِدھر حاجی صاحب نے اعلان کر دیا اور اُدھر فرنگی استعمار کا فرمان جاری ہو گیا۔
قاتل اپنے مشن میں یوں صادق نہیں کہ ان کا نشانہ ایسا خاندان بنا جو لبرل ہوتے ہوئے کنزرویٹو ہے۔ خیر اے این پی پر لادینی جماعت کا الزام یوں بھی درست نہیں کہ حضرت باچا خان خود روحانی شخصیت تھے۔ یہاں تک کہ مدرسہ دیوبند کی صد سالہ تقریبات کی صدارت کیلئے ہندوستان آنے کی دعوت کسی شیخ، مولوی یا مفتی کو نہیں، حضرت باچا خان کو ملی تھی۔ ولی خان مرحوم قرآن مجید کے ترجمے و تفسیر سمیت اسلامی علوم سے ایسے بہرہ مند تھے کہ بڑے عالم فاضل ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے۔ وہ تہجد گزار تھے، لیکن ریا اور ڈھنڈورا پیٹنا ان اصحاب نے سیکھا ہی نہیں تھا۔ آج بھی اے این پی کی کسی تقریب میں نماز کا وقت آ جاتا ہے تو تمام شرکاء صف بنا کر خدائے بزرگ و برتر کے حضور کھڑے ہو جاتے ہیں۔!
بشیر بلور کی شہادت کے بعد جنازے کو محدود کرنا بھی قائدانہ صلاحیتوں کی گواہی ہے۔ پارٹی قیادت جنازے کے شرکاء کو ہزاروں لاکھوں ظاہر کرنے کے چکر میں نہیں پڑی کہ ایسی کوئی مہم جوئی مزید نقصان کا باعث بن سکتی تھی۔ خیبرپختونخوا کے کونے کونے کے علاوہ ملک کے طول و عرض سے ان گنت لوگ پشاور پہنچ گئے تھے، لیکن سخت سیکورٹی کی وجہ سے وہ جنازے میں شرکت سے محروم رہ گئے۔ راقم کو کوہاٹ لاچی کے معروف سیاسی رہنما میاں شفیع الزماں کاکا خیل نے بتایا کہ اسٹیڈیم کے باہر بعض مشتعل کارکن منتظمین سے الجھ پڑے۔ ان کا اصرار تھا کہ گیٹ کھول کر لوگوں کو اندر جانے دیا جائے لیکن خدمت پر مامور عہدیداروں نے انہیں صبر کی تلقین کرتے ہوئے بتایا کہ پارٹی نے یہ فیصلہ عوام کو کسی بڑے نقصان سے بچانے کی خاطر ہی کیا ہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے کہ جب رہنما جوش و ہوش کے انتخاب کی آزمائش سے گزرتے ہیں اور جس کے دوررس نتائج برآمد ہوتے ہیں۔
اے این پی سندھ کے ترجمان عبدالمالک اچکزئی کے مطابق اب تک اے این پی کے 550 عہدیدار و کارکن شہید ہو چکے ہیں جن میں اراکین اسمبلی، افضل خان لالہ کے خاندان کے چشم و چراغ، میاں افتخار حسین کے اکلوتے صاحبزادے سمیت خواتین بھی شامل ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ کسی بھی موقع پر اے این پی کے کارکنوں نے قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیا۔ یہاں تک کہ پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان پر اکتوبر 2008ء میں جو خودکش حملہ ہوا اور جس میں یار زمین، شمس الحق، شمس الزماں اور فضل غنی شہید ہوئے، اس پر بھی کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا گیا۔ اس مثبت سیاسی عمل کی ستائش ہونی چاہئے۔

ادارتی صفحہ سے مزید