• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا بھر کی خواتین معاشی طور پر مستحکم ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف طریقوں کے ذریعےاپنے ملک و قوم کا نام روشن کررہی ہیں ۔مختلف اعداد وشمار افرادی قوت میں عورتوں کی بڑھتی شرح کا تذکرہ کرتے ہیں لیکن یہ تصویر کا آدھا رخ بیان کرتے ہیں۔ تصویر کا دوسرا ر خ ملازمت پیشہ خواتین کو کام کی جگہوں پرموجود درپیش مسائل ہیں، جن کاذکر قدرے کم کیا جاتا ہے۔ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ملازمت پیشہ خواتین کو مسائل کاسامنا ہے۔ برطانوی ادارے تھامسن رائٹرز فاؤنڈیشن اور روک فیلر فاؤنڈیشن کی جانب سے کیے گئے ایک سروے میںدنیاکی 9500ورکنگ ویمن سے ملازمت کی جگہوں پر موجود درپیش مسائل سے متعلق بات چیت کی گئی۔اس سروے نتائج کے مطابق دنیابھر کی ورکنگ ویمن کو مندرجہ ذیل مسائل کا سامنا زیادہ کرنا پڑتا ہے ۔

ورک لائف بیلنس

سروےنتائج کے مطابق دنیا بھر کی ورکنگ ویمن کو درپیش مسائل میں سے ایک مسئلہ ورک لائف بیلنس کا ہے۔ عام طور پر دیکھاجاتا ہے کہ ملازمت پیشہ خواتین اپنی پیشہ ورانہ زندگی اور ذاتی زندگی میں توازن قائم نہیں رکھ پاتیں یا پھر انھیں اس کے لیے کافی جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ اگر کام کی جگہوںپر عملہ آپ کے ساتھ کمپرومائز نہیں کرتا تو گھر کے مختلف معاملات میںعزیزواقارب بھی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ خواتین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ مرد اس حوالے سے آزاد ہوتے ہیں، انھیں آفس کے علاوہ گھریلو ذمہ داریوں کی فکر نہیں ہوتی لیکن اگر عورت اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے باعث گھریلو ذمہ داریوں میں ذرا سی بھی کوتاہی کردے تو وہ نہ ایک اچھی بیوی کہلاتی ہے، نہ ایک اچھی ماں اور نہ ہی ایک اچھی بہو۔

مردوں سے کم تنخواہ

دنیا کے مختلف ممالک کی جانب سے جاری کردہ نتائج کے مطابق ہر 10میں 4 عورتوں کو مردوں کے مقابلے میں خاصی کم تنخواہ ملتی ہے، سروے نتائج کے مطابق فرانس جرمنی اور امریکا میں مردوں اور عورتوں کی تنخواہوں میں بہت کم فرق دیکھنے میں آیا جب کہ برازیل، آسٹریلیا ،کینیڈا، برطانیہ اور دیگر کئی ممالک میں یہ فرق خاصا زیادہ ہے۔ چین میںبھی تنخواہوں کا فرق دیگر ممالک کے مقابلے کم ہے۔مثال کے طور پر مردوں کی فی گھنٹہ اوسط تنخواہ231روپے ہے جبکہ عورتوں کے معاملے میں یہ رقم صرف 184.8روپے فی گھنٹہ ہے۔

ہراسگی

ملازمت کی جگہوں پر خواتین کو ہراساں کیا جانا ملازمت پیشہ خواتین کے لیے ایک اہم مسئلہ ہے۔ ہر3 میں سے 1عورت اس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ کام کی جگہوں پر انہیں جنسی طورپر ہراساں کیا جاتا ہے۔ان جگہوں پر عموماً خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات سے ارد گرد کے لوگ آگاہ بھی ہوتے ہیں اورکچھ انفرادی طور پر اس کی مذمت بھی کرتے ہیں لیکن جب کوئی عورت انسانیت سے گرے ہوئے مجرم کی نشاندہی کرتی ہے تو انکی گواہی دینے والا کوئی نہیں ہوتا جو کہ ان واقعات کو مزید بڑھاوا دینے کا سبب بنتے ہیں ۔ جن ممالک میں ورکنگ ویمن کو ہراساں کرنے کی شرح زیادہ ہے۔ ان میں بھارت سرفہرست ہے۔ کچھ اچھی کمپنیوں میں اس حوالے سے خواتین ملازمین کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ اپنے ساتھ پیش آنے والے کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کے بارے میں بتائیں تاکہ مذکورہ شخص کے خلاف کاروائی کی جاسکے۔

بچے اور کیریئر

ملازمت پیشہ خواتین کا ایک اہم مسئلہ بچوں کی نگہداشت ہے۔ ملازمت پیشہ عورت نہ تو بچوں کی نگہداشت میں کوئی کوتاہی برتنا چاہتی ہے اور نہ ہی اپنے کیریئر کی قربانی دینا چاہتی ہے ۔پاکستان یا ایشیائی ممالک کی بات کی جائے تو شادی کے بعداکثردیکھنے میں آتا ہے کہ ساس بہو کے تعلقات اتنے کشیدہ ہوتے ہیں کہ بہو اپنے بچوں کو ساس کے پاس چھوڑنا پسند نہیں کرتی۔ اکثر ملازمت پیشہ خواتین کی تنخواہ اتنی نہیں ہوتی کہ وہ آیا رکھ سکیں اور جو رکھ بھی سکتی ہیں۔، انھیں بھی آیا کی نگرانی کے لیے کسی بزرگ کی ضرورت پیش آتی ہے۔پاکستان میں بھی اس امر کی ضرور ت ہے کہ ملازمت پیشہ خواتین کے شیر خوار بچوں کیلئے نرسری یا ڈے کیئر سینٹر قائم کیے جائیں۔ خواتین کو معاشی طور مستحکم بنانے کیلئے ان مسائل سے آگہی ہی نہیں بلکہ ان کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔

تازہ ترین