آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 15؍شعبان المعظم 1440ھ 21؍اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ 1850 سے رکھے جانے والے موسمی ریکارڈ کے بعد سے دنیا اب تک کی گرم ترین دہائی کے عین وسط میں ہے۔ آنے والے پانچ سالوں میں ریکارڈ گرمی پڑے گی، آئندہ پانچ برسوں میں ہر سال کا درجۂ حرارت ایک سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ ہو گا۔

دو امریکی اداروں، برطانوی میٹ آفس اور ورلڈ میٹریولوجیکل آرگنائزیشن اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ2018 سنہ 1850 کے بعد سے اب تک کا چوتھا گرم ترین سال رہا اور 2014 سے 2023 کی دہائی دنیا میں گذشتہ 150 سالوں میں گرم ترین دہائی ہو گی۔

میٹ آفس کا کہنا ہے کہ سنہ 2015 میں پہلی بار درجۂ حرارت صنعتی دور سے قبل کے اوسط عالمی درجۂ حرارت سے ایک سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گئے تھے۔ اس اوسط درجۂ حرارت سے مراد 1850 سے 1900 کے درمیان کا وقت لیا جاتا ہے۔

اس کے بعد سے ہر سال ہی تقریباً اس اوسط درجۂ حراری سے ایک سینٹی گریڈ زیادہ ہی رہا۔ اب میٹ آفس کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ یہ رجحان آئندہ پانچ سال برقرار رہے یا اس میں اضافہ دیکھا جائے گا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال اکتوبر میں اقوام متحدہ کے سائنسدانوں نے درجۂ حرارت ایک اعشاریہ پانچ سینٹی گریڈ تک بڑھنے کے اثرات پر ایک خصوصی رپورٹ شائع کی تھی۔

رپورٹ میں یہ نتیجہ اخد کیا گیا تھا کہ سنہ 2030 تک دنیا کو یہ حد عبور کرنے سے روکنا ہے تو کاربن کے اخراج میں بے پناہ کمی لانا ہو گی۔ اب میٹ آفس کے تجزیے کے مطابق 10 فیصد امکانات ہیں کہ یہ حد اگلے پانچ برسوں میں عبور ہو جائے۔

میٹ آفس کےپروفیسر ایڈم سکیف نے برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ پہلی بار ہے کہ پیشن گوئی میں بتایا گیا ہے کہ درجۂ حرارت کے حد پار کرنے کا شدید خطرہ ہے جو کہ جز وقتی ہے۔

میٹ آفس کا کہنا ہے کہ انھیں آئندہ برسوں سے متعلق اپنی پیش گوئی پر 90 فیصد اعتماد ہے۔

سنہ 2013 میں کی گئی محققین کی گذشتہ پیشن گوئی میں یہ امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ گرمی کی شدت میں تیزی سے اضافہ دیکھا جائے گا جو کہ ہم نے پچھلے بانچ برسوں میں محسوس بھی کیا۔

دیگر محققین کا کہنا تھا آئندہ پانچ برسوں سے متعلق کی گئی یہ پیش گوئی توقع کے مطابق تھی کیونکہ سنہ 2018 کے دوران ماحول میں ریکارڈ کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج ہوا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ہم گرین ہاؤس کی گیس کے اخراج میں کمی نہیں لائیں گے تب تک عالمی درجۂ حرارت میں اضافہ ہوتا رہے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں