آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 15؍شعبان المعظم 1440ھ 21؍اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایف آئی اے سندھ زون میں بھارتی شہریوں کو قومی شناختی کارڈ جاری کیس میں جعلی دستاویزات جمع کرانے پر مقدمے کی اندراج کے لئے دی گئی درخواست کو زونل آفس میں دبا دیا گیا ۔ذرائع کے مطابق ایف آئی اے سندھ زون میں بھارتی شہریوں کو قومی شناختی کارڈ جاری کرنے کے کیس نمبر 113/2017میں عدالتی کارروائی کے دوران نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی جانب سے دی گئی رپورٹ میں ملزمان محمد سمیع ،محمد ناظم ،محمد جلال ،ممتاز الدین ،عالمہ اور نیلوفر کی دستاویزات کو جعلی قرار دینے اور ایف آئی اے امیگریشن کے حکام کی جانب سے بھارتی پاسپورٹ پر سفر کرنے کے واضح شواہد جمع کرانے کے باوجود عدالت میں جعلی حلف نامے جمع کرانے پر ایک اور مقدمے کے اندراج کی درخواست کی گئی۔

ذرائع کے مطابق چھ ماہ قبل یکم اگست 2018کو ایف آئی اے سندھ زون آفس میں ڈائریکٹر ایف آئی اے کے نام تحریری درخواست جمع کرائی گئی جس میں درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ اپریل 2017 میں ایف آئی اے پاسپورٹ سیل میں فارن ایکٹ و دیگر جعل سازی کی دفعات پر مقدمہ درج ہے اور اس مقدمے میں نامزد ملزمان نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرقی سے ضمانت بھی حاصل کر رکھی ہے جس میں ملزمان کی جانب سے اپنے کوائف کو درست ثابت کرنے کے حوالے سے حلف نامہ جمع ہے ۔درخواست گزار نے مزید موقف اختیار کیا کہ ملزمان کے بھارت سے کراچی آنے میں بھارتی پاسپورٹ کے استعمال کرنے کا مکمل ڈیٹا ایف آئی اے کے پاس موجود ہے اور قومی شناختی کارڈ میں ملزمان نے تصدیق کنندہ اور نادرا حکام کی ملی بھگت سے والد کے نام میں معمولی تبدیلی کرکے شناختی کارڈ حاصل کیا ہے جس کی مکمل تفصیلات اور حوالے ایف آئی اے کے مقدمے میں درج ہے ۔درخواست گزار کے مطابق ملزمان نے ملکی عدلیہ کا مذاق اڑایا اور نادرا کی جانب سے جعلی قرار دی گئی دستاویزات پر جعلی حلف ناموں کے ذریعے عدالت سے ضمانتیں حاصل کیں اس لئے ملزمان کے خلاف ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل میں بھی ایک مقدمہ درج ہونا چائیے۔ اگرملزمان کے خلاف ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل میں مدمہ درج ہوا تو نہ صرف ان کے قومی شناختی کارڈ ضبط کئے جاسکتے ہیں بلکہ ان کے پاسپورٹ بھی ضبط ہوں گے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے سندھ میں جمع ہونے والی درخواست کے ساتھ ایک حلف نامہ بھی جمع کرایا گیا ہے جس میں درخواست گزار نے تحریر کیا ہے کہ ملزمان کے خلاف جعلی دستاویزات اور حلف نامے جمع کرانے کے شواہد پیش کروں گا اور اگر یہ حلف نامے اور دستاویزات درست ہوں تو ملزمان کے خلاف کارروائی کے بجائے درخواست گزار کے خلاف ہی مقدمے کا اندراج ہو۔ ذرائع نے بتایا کہ حلف نامے اور شواہد کے باوجود ایف آئی اے سندھ کے زونل آفس میں ڈائریکٹر ایف آئی اے کے پاس جمع ہونے والی ددخواست پر ایف آئی اے حکام اقدام اٹھانے سے گریزاں ہیں جس کی وجہ سے بھارتی شہری قومی شناختی کارڈ پر تمام سہولتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں