آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ22؍ ذوالحجہ 1440ھ24؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دوست کہتے ہیں کہ بندوں کے آنے جانے سے فرق نہیں پڑتا، ادارے اہم ہوتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں ہمارے جیسے ممالک میں آبادی یا بربادی بندوں ہی کے مرہونِ منت ہوتی ہے۔ ان دنوں عظیم باپ کے فرزند قاضی فائز عیسیٰ نے فیض آباد دھرنے کے حوالے سے اتنا زبر دست فیصلہ دیا ہے جس کی ستائش نہ کرنا پرلے درجے کی کم ظرفی ہو گی۔ اِس سے قبل درویش اپنے حالیہ سفر اسلام آباد اور بھارتی یوم جمہوریہ کی تقریب میں شرکت کے حوالے سے اظہار خیال کرنا ضروری سمجھتا ہے۔ ہماری موجودہ دنیا میں واقعات اتنی تیزی سے وقوع پذیر ہو رہے ہیں کہ کالم تحریر کرتے وقت مشکل پیش آتی ہے کہ کس ایشو کو چھیڑیں اور کس کو چھوڑیں۔ اگر بین الاقوامی معاملات میں اپنی خصوصی دلچسپی کو ملحوظِ خاطر رکھیں تو مشکل مزید بڑھ جاتی ہے بالخصوص اپنے ہمسایہ ممالک میں امڈتی تبدیلیوں کے حوالے سے۔ بین الاقوامی امور و معاملات پر خامہ فرسائی کی بدولت بشمول امریکی و برطانوی مختلف سفارتی نمائندوں کی طرف سے ان کی قومی تقریبات میں مدعو کیا جاتا رہا ہے مگر بوجوہ کبھی شرکت کی سعادت حاصل نہیں کی۔ اب کے بھارتی ہائی کمشنر جناب اجے بساریہ کی دعوت پر ان کی تقریب میں شمولیت اتنی اچھی لگی کہ عہد کیا آئندہ اس حوالے سے کوتاہی نہیں کی جائے گی کیونکہ اخباری رپورٹس سے جو انفارمیشن ملتی ہے، وہ اپنی جگہ مگر براہ راست ملاقاتوں سے جن حقائق کا ادراک ہوتا ہے اس کی معنویت زیادہ اہم ہے۔

70ویں انڈین ریپبلک ڈے میں مختلف شعبہ حیات سے اتنی بڑی تعداد میں اپنے پاکستانی اہلِ وطن کی شرکت ہمارے لیے خوشگوار حیرت کا باعث تھی۔ کئی نئے لوگوں سے میل ملاقات اور تبادلۂ خیالات بھی باعثِ مسرت تھا۔ جب ڈپٹی ہائی کمشنر گورو اہلوالیہ نے یہ بتایا کہ آپ کیلئے ہائی کمشنر صاحب نے خصوصی طور پر دعوت نامہ بھیجنے کیلئے تاکید کی اور کنفرم کیا کہ آپ آ رہے ہیں تو بہت خوشی ہوئی۔ جناب اجے بساریہ کے دل میں پاک ہند تعلقات بہتر بنانے کی دُھن ہے اور یہی تمنا درویش کے ذہن میں بھی موجزن ہے، بس یہی چیز اپنائیت کا باعث بنی۔ بھارتی یوم جمہوریہ کی تقریب میں انواع و اقسام کے کھانے اپنی جگہ، ہمیں اصل خوشی ان کے بابائے قوم مہاتما گاندھی کے وچاروں اور تذکروں سے ہوئی۔ ہر دو ممالک کے قومی ترانوں کے بعد تقریب میں مختلف سلائیڈز سے یہ بتایا اور دکھایا گیا کہ مہاتما گاندھی کو مختلف ممالک و اقوام میں کس اپنائیت سے دیکھا جاتا ہے۔ امن اور عدم تشدد کے حوالے سے ان کے افکار و کردار کی پوری دنیا مداح ہے۔ ہم پاکستانی ان کی اس نیکی کو بھلا کس طرح بھول سکتے جو انہوں نے ہمیں قیامِ پاکستان کے فوری بعد 55کروڑ کی خطیر رقم دلوانے کیلئے کی تھی۔

2جنوری کو انڈین حکومت کے انکار پر انہوں نے مرن بھرت رکھتے ہوئے اپنی حکومت پر اس قدر دبائو ڈالا کہ پنڈت نہرو کو انہیں مناتے ہوئے یہ کہنا پڑا کہ باپو اٹھیے، بھرت توڑیے، ہم نے آپ کا مطالبہ مان لیا ہے۔ اس پر وہ کہتے ہیں لیاقت علی کو کہیے کہ وہ مجھے فون کرتے ہوئے اس کی تصدیق کریں کہ واقعی پاکستان کو رقم ادا کر دی گئی ہے۔ 16جنوری کو یہ تصدیق ہو جاتی ہے مگر اس اتنی بڑی نیکی کی مہاتما جی کو اتنی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے کہ 30جنوری کو ایک انتہاپسند شخص نتھورام گوڈسے عقیدت مند کے روپ میں آتا ہے اور گولیاں ان کے مقدس جسم میں پیوست کر دیتا ہے۔ مہاتما گاندھی کو اپنے اعلیٰ انسانی آدرشوں اور اصولوں کی مطابقت میں اس حد تک جانا چاہئے تھا یا نہیں، اس پر آج بھی ہندوستان میں بحثیں ہو رہی ہیں۔ گاندھی جی پر اقبال کا یہ شعر کس قدر موزوں بیٹھتا ہے ’’اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بیگانے بھی ناخوش، میں زہرِ ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند‘‘

اب ہم آتے ہیں بھارتی ہائی کمشنر اور ان کی باوقار تقریب پر۔ جناب اجے بساریہ بنیادی طور پر اکانومسٹ ہیں، ان کی تعلیم ممبئی، کلکتہ اور دہلی میں ہوئی ہے۔ ہندی اور انگریزی کے علاوہ وہ روسی زبان پر بھی دسترس رکھتے ہیں۔ ان کی فارن سروس کا آغاز 1987ء میں ماسکو کے انڈین سفارت خانے میں تعیناتی سے ہوا۔ یوں مشرقی یورپ سے ہوتے ہوئے وہ مغربی یورپ یعنی جرمنی میں بھی اپنی سفارتی ذمہ داریاں سر انجام دیتے رہے۔ انہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ 1999ء سے 2004ء تک وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے پرائیویٹ سیکرٹری کی ذمہ داری پر بھی فائز رہے۔ نواز شریف کی دعوت پر جب بھارتی وزیراعظم واجپائی لاہور تشریف لائے تو آپ ان کے ہمراہ تھے۔ 2004ء میں انہوں نے سارک سمٹ میں شریک ہو کر پاکستان کا دورہ بھی کیا۔ ورلڈ بینک میں بھی ان کی تعیناتی رہی۔ اب 12دسمبر 2017ء سے وہ اپنی موجودہ ذمہ داری پر اسلام آباد میں تعینات ہیں۔

اس منجھے ہوئے بھارتی سفارتکار کو ایک مشورہ اس درویش نے بھی دیا۔ جب دورانِ تقریب وہ ایک مہمان کو زیادہ پروٹوکول دے رہے تھے تو ناچیز سے نہیں رہا گیا، قریب ہو کر کان میں یہ کہا: ایکسیلینسی آپ کے دیگر بہت اہم مہمان بھی موجود ہیں، آپ اس ایک شخص کو اتنا وزنی پروٹوکول کیوں دے رہے ہیں، جس کی اپنی پارٹی میں بھی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے؟ جواباً وہ بولے کہ دیکھئے میرے لیے تو وہ قابل احترام مہمان ہیں، اس لیے انہیں عزت دینا بنتا ہے۔ البتہ وزیر صاحب کو رخصت کرنے کے بعد جب وہ دیگر مہمانوں کو مل رہے تھے تو چند لمحوں بعد ناچیز کا قریب سے گزر ہوا تو انہوں نے خصوصی طور پر توجہ دیتے ہوئے بلایا اور کہا دیکھ لیں ریحان جی اب میں دیگر معزز مہمانانِ گرامی کو اس طرح مل رہا ہوں جس طرح آپ چاہتے تھے۔ بندہ ناچیز اس قدر افزائی پر نہ صرف ان کا بلکہ ان کی ٹیم میں شامل دیگر سفارتکاروں جناب گورو اہلووالیہ، رانا اخیلیش سنگھ جی، شبھم سنگھ جی اور چیرالنگ ذیلینگ جی کا بھی شکر گزار ہے بالخصوص اس وجہ سے بھی کہ درویش کی فیملی اس وقت یہاں پہنچی جب وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کھانا کھا رہے تھے۔ اس کے باوجود جناب ہائی کمشنر استقبال کیلئے اٹھے، انہیں وقت دیا خوشگوار ماحول میں سب سے متعارف کرایا، تصاویر بنوائیں اور اپنے ساتھ کھانے میں شامل ہونے کیلئے کہا۔

پاک ہند تعلقات ہمیشہ سے ہماری دلچسپی کا موضوع رہے ہیں۔ ہندو اور مسلمان صدیوں سے اس خطے میں اکٹھے رہے ہیں۔ گاندھی جی کہا کرتے تھے کہ یہ دونوں میری آنکھیں ہیں۔ قائداعظم نے کہا تھا کہ ان دونوں ممالک کے باہمی تعلقات امریکہ اور کینیڈا جیسے ہوں گے۔ اتنی قربت کے باوجود اگر دو بھائی اپنے نادان بچوں کے جھگڑوں سے بچنے کیلئے آنگن میں دیوار بنا لیں تو اس کا مقصد دشمنی یا لڑائی نہیں ہونا چاہئے، دونوں بھائی اچھی ہمسائیگی میں بھی تو رہ سکتے ہیں۔ آج اسی جذبے کی ضرورت پاک و ہند ہر دو ممالک کے کروڑوں باسیوں کو ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے، شکتی بھی شانتی بھی بھگتوں کے گیت میں ہے، دھرتی کے باسیوں کی مکتی پریت میں ہے۔