آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ14؍ شعبان المعظم 1440 ھ20؍اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی (اسٹاف رپورٹر)پی آئی اے کے انجنیئرز نے ایک مرتبہ پھر فرض شناسی کا مثالی کارنامہ سر انجام دیا۔ بدھ 6 فروری کو لاہور سے اوسلو جانیوالی پرواز پی کے 752 اوسلو پہنچنے کے بعد انجن میں تیکنیکی خرابی کے باعث واپسی کے لئے براستہ کوپن ہیگن روانہ نہ ہو سکی۔ مقامی ایئر لائن کے تیکنیکی عملے سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ابتدائی چیکنگ کے بعد کام کرنے سے انکار کر دیا۔ جسکی وجہ اوسلو میں ہونیوالی برفباری اور شدید سردی دی تھی جس میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے کئی درجے کم تھا۔ باوجود اس کے کہ پاکستان سے پی آئی اے کی انجینئرنگ ٹیم مسلسل یہ باور کرا رہی تھی کہ خرابی درمیانی نوعیت کی ہے اور تین سے چار گھنٹوں کے کام پر مشتمل ہو سکتی ہے لیکن غیر ملکی ایئر لائن کے تیکنیکی عملے نے معذوری ظاہر کر دی۔ تاہم اس دوران طیارے کے دو سو سے زائد مسافروں کو قیام و طعام کی سہو لت فراہم کر دی گئی اور انکا ہر ممکن خیال رکھا گیا۔ جسکے بعد پاکستان سے ایک انجنیئرنگ ٹیم بمع ضروری آلات و سامان بذریعہ پی کے 757 جو لندن جا رہی تھی براستہ اوسلو

روانہ کی گئی ۔ انجنیئروں نے سخت سردی کے موسم اور مشکل حالات کے باوجود اپنا کام تین گھنٹوں میں مکمل کیا اور طیارہ 8 فروری کو 30 گھنٹوں کی تاخیر سے کوپن ہیگن اور لاہور کے لئے روانہ ہوا۔ سی ای او پی آئی اے ائر مارشل ارشد ملک نے اس بے مثال کارکردگی پر انجنیئرنگ، اوسلو کے منیجر اور گراونڈ ہینڈلنگ کے عملے کو سراہتے ہوئے انکے لئے تعریفی اسناد جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں