آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 16؍شعبان المعظم 1440ھ 22؍اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی(ٹی وی رپورٹ)حج پر سبسڈی ختم کرنے کے فیصلے سے میں مطمئن ہوں،حج اخراجات میں کوئی کمی نہیں ہوگی، میراخیال تھا کہ سبسڈی کو مرحلہ وار ختم کیا جائے اس سال وہی سبسڈی دی جائے جو گزشتہ سال دی گئی تھی۔ اگلے سال اس کو تھوڑا کم کیا جائے تین چار سال میں سبسڈی کی روایت کو ختم کیا جائے ان خیالات کااظہار وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے پروگرام ’’جیو پارلیمنٹ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔وزارت مذہبی امور کی داخلی میٹنگ میں میرا ذاتی طور پر یہ ہی خیال تھا جو وزیر اعظم کا ہے کہ حج جیسے فریضے کو کسی اور اور کے پیسوں سے کیسے ادا کیاجا سکتا ہے اسلامی نظریاتی کونسل نے اسے جائز قرار دیا وہ تب ہوسکتا ہے جب ملک کی معیشت مضبوط ہو۔ایک سوال کے جواب میں نور الحق قادری نے کہا دیگر شعبوں میں حکومت کی جانب سے جو سبسڈی دی جارہی ہیں اس کا مقصد صنعت کاری کو فروغ دینا ہے اس سبسڈی کا فائدہ ملک کے غریب آدمی کو ہے جبکہ حج پر سبسڈی کا فائدہ ایک خاص طبقے کو ہے جو صاحب استطاعت ہے ۔ نورالحق قادری سے سوال کیا گیا کہ ہمارے سعودی حکومت

کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں ادھار تیل دے رہے ہیں ، پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گے جو ٹیکسز انھوں نے بڑھائے تو کیایہ ٹیکسز کو ختم کرنے کے لیے آپ نے سعودی حکومت سات بات نہیں کی؟ جواب میں نور الحق قادری نے کہا سعودی حکومت کے حج کے حوالے سے بہت زیادہ اخراجات ہیں سعودی حکومت کی جانب سے جو اضافہ کیا گیا ہے وہ پوری دنیا کے لیے ہے۔ہم نے حج کے معیار کو بہتر کرنے کے لیے پالیسی بنائی ہے اس کے لیے سعودی حکام سے مذاکرات بھی ہوئے ہیں اور بہت سی چیزوں پر انھوں نے اتفاق کیا ہے۔حج کے اخراجات اگر حکومتی سطح پر بڑھے ہیں تو نجی ٹور آپریٹرز کے بھی ریٹ بڑھے ہیں وہ پرانا ریٹ نہیں دیں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں