آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 10؍جمادی الثانی 1440ھ 16؍فروری 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نوازشریف کی ڈکشنری میں ’’ ڈیل‘‘ کا لفظ نہیں ہے، رانا مشہود

لندن( سعید نیازی) پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر رانا مشہود خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں قوم کو ریاست مدینہ کا جھانسہ دے کر جہالت کی حکمرانی مسلط کردی گئی ہے احتساب کے نام پر ڈرامہ ہورہا ہے نوازشریف کی ڈکشنری میں ڈیل کا لفظ نہیں ہے۔ ہفتہ کی شب لندن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالات کو بدلنے کا نعرہ لگاکر اقتدار میں آنے والوں کا اصل چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے، ملک کی معیشت کا جو حال ہے اس کے سبب پاکستان کی ترقی کا ہدف متاثر ہورہا ہے جب کہ ہمارے دور میں احتجاج اور دھرنوں کے باوجود ترقی کا عمل جارہا تھا، اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے خلاف کیس بنایاگیا لیکن کئی ماہ گزر جانے کے باوجود آج تک اس میں سے کچھ نہیں نکلا، وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان اور پی ٹی آئی کے لیڈر فیصل واوڈا کی بیرون ملک جائیدادیں سامنے آنے کے باوجود ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی باقی لوگوں سے جائیدادوں سے متعلق منی ٹریل مانگی جاتی ہے لیکن علیمہ خان سے کوئی منی ٹریل نہیں مانگ رہا، نہ جرمانے ادا کرنے کو کہا گیا ہے اور وہ جرمانہ تک جمع نہیں کروارہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ علیمہ خان کی جائیدادیں عمران خان کے پیسے سے خریدیں گئیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب کو اس حوالے سے تحقیق کرنی چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے مبینہ طورپر کرپشن کے پیسے سے جمع کی گئی جائیدادوں کے فرانزک ثبوت جمع کرنا شروع کردیئے ہیں کہ پراپرٹی کے کاغذات کس نام پر ہیں، کب رجسٹرڈ ہوئی، کب خریدی گئی اور کب فروخت کردی گئی، انہوں نے یہ تمام ثبوت پاکستان کی عدالتوں میں پیش کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کا نقصان عوام کو ہورہا ہے اور چھابڑی والے چھوٹے تاجر ، مزدور اور کسان کا جینا دوبھر ہوگیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے ایسے افراد کو اپنا مشیر بنا یا جن پر انسانی اسمگلنگ کرکے پیسہ بنانے کا الزام ہے۔ رانا مشہود خان نے کہا کہ نوازشریف کی ڈکشنری میں ڈیل کا لفظ نہیں اور نہ ہی ن لیگ کی قیادت نے این آر او کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نوازشریف نے ڈیل کرنا ہوتی تو وہ اپنی مرحومہ اہلیہ کلثوم نواز کو چھوڑ کر صاحبزادی کے ہمراہ جیلوں کا سامنا کرنے کے لئے پاکستان نہ آتے، انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں ہماری قیادت کے خلاف جو کیسز ہیں ان میں سچ سامنےآنا شروع ہوگیا ہے اور بہت جلد قیادت عوام کے درمیان ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے تین مرتبہ وزیراعظم منتخب ہونے والے نوازشریف کے ساتھ جیل میں جو سلوک کیا جارہا ہے اور جس طرح انہیں علاج کی سہولتوں سے محروم رکھا جارہا ہے وہ باعث تشویش ہے انہوں نے کہا کہ کامران مائیکل کے خلاف جس طرح کارروائی کی گئی اس سے اقلیتوں کو کیا پیغام جائے گا۔ انہیں تمام ضابطے نظرانداز کرکے گرفتار کرلیا گیا جب کہ علیمہ خان کو چار سال کے بعد تسلی بخش جواب نہ ملنےپر گرفتار نہیں کیا گیا۔ حکومت کا اس تعصب والے رویہ پر اقلیتوں سمیت سب کو تشویش ہے اور ہم یہ مسئلہ ہر فورم پر اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں تحریک انصاف کے اصل چہرے کا پتہ تھا اس لئے ہم چاہتے تھے کہ یہ اقتدار سے دور رہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں اسمبلی میں یہ بات بتائی گئی کہ شہباز شریف اور ان کے وزرا تمام دوروں کے اخراجات خود برداشت کیا کرتے تھے جب کہ پروٹوکول کے خلاف سادگی کی باتیں کرنے والوں نے خود یو ٹرن لے لیا ہے اور وہ تو بیرون ملک بھی دوروں پر نجی طیاروں میں جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ میڈیا کی آواز کو دبانے کے لئے جس طرح کے اقدامات کیے جارہے ہیں وہ افسوسناک ہیں، ہم پاکستان میڈیا کے ساتھ کھڑےہیں۔ انہوں نے برطانیہ میں پاکستانی میڈیا کے کردار کو سراہا۔ اس موقع پر مسلم لیگی رہنما اقبال سندھو، سعید عمران خان کے علاوہ عمر ملک اور دیگربھی موجود تھے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں