آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 9 جمادی الثانی 1440ھ 15 فروری 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سٹیٹس کو کے حامی افراد تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ ہیں،پاکستان ویژنری فورم

 لاہور(خصوصی نمائندہ)ملک میں تیز ترین تعمیر و ترقی او ر مثبت تبدیلیاں لانے کیلئے سیاستدانوں کی تعلیم و تربیت کی اشد ضرورت ہے، سٹیٹس کو کے حامی افراد تبدیلی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں، حکمرانوں کے ہوم ورک میں فقدان دکھائی دے رہا ہے، کرپشن کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ تعمیر و ترقی پر بھی مسلسل نظر رکھنا ہوگی، سفارتی میدان میں پاکستان کو جو کامیابیاں آج ملی ہیں وہ پچھلے 70 سال میں بھی نہ مل سکیں تھیں۔ موجودہ حکومت کو پانچ سال پورے کرنے دیئے جائیں تاکہ صحیح معنوں میں اسکی کارکردگی کا تعین ہو سکے، عوامی نمائندوں سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کیلئے انتخابی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے ٹیک سوسائٹی کلب میں ’’پاکستان کے موجودہ حالات‘‘ کے موضوع پاکستان ویژنری فورم کی ہونیوالی 64 ویں کانفرنس کے دوران کیا۔ مقررین میں قیوم نظامی، شمشاد احمد خان، افتخار الحق، ڈاکٹر محمد صادق، خالد محمود سلیم، جمیل بھٹی، ایوب صابر اظہار ، محمود الرحمٰن چغتائی ،زبیر شیخ، رانا ذوہیر، یعقوب چودھری، منصوراحمد، میجر خالد نصر، ڈاکٹر اکرام کوشل، ارشد حیات، رانا امیر احمد خان، پروفیسر مشکور احمد اور جمیل گشکوری شامل تھے۔ مقررین نے کہا کہ اپوزیشن احتساب سے بچنے کیلئے سیاسی محاذ آرائی کا راستہ اختیار کئے ہوئے ہے تاہم

یہ بات عیاں ہے کہ عمران خان کو بطور وزیر اعظم پاکستان بین الاقوامی سطح پر پذیرائی مل رہی ہے جو کہ ایک واضح تبدیلی ہے۔ مقررین نے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا کہ مسلسل اندرونی سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے حالات کسی اور طرف بھی جا سکتے ہیں ۔ اس بات کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا کہ اگر ملک کی معاشی صورت حال بہتر نہ ہوئی اور بیرونی سرمایہ کاری نہ آئی تو پاکستان میں بیروزگاری بڑھ سکتی ہے۔ واضح مینڈیٹ نہ ملنے کی وجہ سے عمران خان کو دوسری اتحادی پارٹیوں کو ساتھ ملا کر اورموجودہ نظام میں رہتے ہوئے کام کرنے کی مجبوریاں درپیش ہیں جن کی وجہ سے ملک میں تیزی سے بہتری لانا مشکل کام ہے جس کا عوام مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سٹیٹس کو کے حامی افراد تبدیلی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔جیسے ہی پاکستان میں اندرونی استحکام پیدا ہو گا بیرونی سرمایہ کاری اور تعاون کا دور شروع ہو جائیگا۔ معاشی ترقی کے ساتھ ہی عوامی فلاحی کام بھی تیز ہو جائیں گے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں