آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار10؍ ربیع الثانی 1441ھ 8؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

امریکی شٹ ڈاؤن کے دوران جنوری میں روزگار کی شرح مستحکم رہی

واشنگٹن : سیم فلیمنگ

نیویارک : پیٹر ویلز

تقریبا پورے سال میں مستحکم ترین تعداد کے ساتھ جنوری میں امریکی آجروں کی جانب سے ملازمتیں دینے نے تجزیہ کاروں کی توقعات کو حیران کردیا، پیشن گوئیوں کا احیاء ہورہا ہے کہ فیڈرل ریزرو اس ہفتے کے شروع میں غیر متوقع مصالحت آمیز لہجے کے باوجود شرح سود میں اضافہ کرسکتا ہے۔

امریکی لیبر ڈپارٹمنٹ نے جمعہ کو کہا کہ 2019 کے پہلے ماہ میں غیر زرعی ملازمین کی تعداد 3لاکھ چار ہزار تک بڑھ گئی، وال اسٹریٹ کی ایک لاکھ 65 ہزار ملازمتوں کی توقعات کو کچل دیا۔ دسمبر کی تعداد میں کم سے کم نظر ثانی کے بعد بھی گزشتہ تین ماہ میں ملازمت کے حصول کی اوسط2لاکھ 41 ہزار ہے۔

جزوی طور پر وفاقی حکومت کے شٹ ڈاؤن کے عارضی اثرات کی وجہ سے بیروزگاری کی شرح ایک فیصد پوائنٹ کا دسواں حصہ سے 4 فیصد اوپر چلی گئی ،جس نے کچھ سرکاری ملازمین کو بلا معاوضہ کام کرنے اور گھر میں بیٹھنے پر مجبور کیا۔

فیڈرل ریزرو کے چیئر مین جے پاؤل نے مالیاتی مارکیٹ اور سمندر پار سے کراس کرنٹ کے سلسلے کے بارے میں اپنے خدشات اس ہفتے کچھ عرصے کیلئے شرح سود میں اضافہ کی تجویز واپس لے لی ،یہ امریکی اقتصادی نکتنہ نظر کی شدت کو کم کرسکتا ہے۔ جبکہ جے پاؤل مزید سختی کیلئے بلند معیار طے کیا ہے، ملازمتوں کی نئی تعداد سے پتہ چلتا ہے کہ ملکی معیشت کی صحت مستحکم ہے، بحران کے خطرے کے بارے میں مارکیٹ کے خدشات کو جھٹلاتے ہیں۔

ماکولائف ایسٹ مینجمنٹ کے میگن گرین نے کہا کہ مارکیٹ کی جانب سے فیڈرل ریزرو کو شرح سود میں اضافے کی تجویز واپس لینے پر مجبور کیا گیا تھا، مجھے نہیں لگتا کہ یہ فیصلہ معیشت پر مبنی ہے۔ اعدادوشمار ےس معلوم ہوتا ہے کہ معیشت کافی مستحکم ہے۔

وائٹ ہاؤس نے فوری روزگار کے اعدادوشمار کو اچک لیا، اور کہا کہ انہوں نے ثابت کیا کہ کاروباری توقعات مضبوط ہیں اور معشیت فروغ پارہی ہے۔

صدر کی اکنامک کونسل کے مشیروں نے کہا کہ روزگار کی مثبت ترقی کے مسلسل 100ویں مہینے میں جنوری نمایاں ہے۔ اس کا استدلال ہے کہ بے روزگاری کی شرح 3.9 فیصد پر مستحکم رہے گی اگر شٹ ڈاؤن ریکارڈ طویل نہ ہوتا، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرحدی دیوار کے مطالبے پر تعطل کی وجہ سے پیدا ہوا۔

ابتدائی تجارت میں حصص میں معتدل اضاہ ہوا، جیسا کہ 500 ایس اینڈ پی میں تقریبا 0.4 فیصد اضافہ ہوا۔ 10 سالہ امریکی خزانہ بنچ مارک پر پیداوار 2.692 فیصد پر 6 بنیاد پوائنٹ بلند تھا۔

امریکی صدر کی چین کے ساتھ تجارتی جنگ۔ ساتھ ہی ساتھ وفاقی حکومت کے شٹ ڈاؤن سمیت غیر فعال ہونے کے اشاروں سے حالیہ مہینوں میں کارپوریٹ کا اعتماد مجروح ہوا۔ فیڈرل ریزرو شرح سود میں بہت تیزی سے اضافہ ملکی ترقی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے کے خدشات کی وجہ سے گزشتہ سال مارکیٹس برافروختہ تھیں۔ جے پاؤل نے دمسبر کے شرح سود میں اضافے کے بعد اس ہفتے تحمل کا دور متعارف کرواکے جواب دے دیا اور یہ بتانے سے انکار کردیا کہ آیا آئندہ اقدام شرح سود میں اضافہ ہوگا یا کمی۔۔

فیڈرل ریزرو کیلئے سوال یہ ہے کہ آیا اس کا کسٹمری ماڈل، جس کے بارے میں خیال ہے کہ بیروزگاری میں مزید کمی افراط زر میں تیزی لائے گا،کیا ابھی بھی پالیسی رہنما ہونا چاہئے۔ جے پاؤل نے بدھ کو اپنی پریس کانفرنس میں اس دلیل کا کوئی حوالہ نہیں دیا، اس کی بجائے تجویز پیش کی کہ سینٹرل بینک سختی پر قائم رہنے پر مطمئن ہے اور روزگار کے فروغ پر زیادہ زور دینے کی بجائے افراط زر کی ریڈنگ پر نظر ہے۔

جمعہ کو ایک علیحدہ رپورٹ نے انسٹیٹیوٹ برائے سپلائی منیجمنٹ سے امریکی مینوفیکچرنگ کی کارکردگی کا اندازہ لگاتے ہوئے جنوری میں مستحکم کارکردگی کی نشاندہی کی،جس سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکی فیکتریاں غیر ملکی خطرے سے زیادہ متاثر نہیں ہیں فیڈرل ریزرو نے زور دیا ہے۔ ہائی فریکوئسنی اکنامک کے جم او ولوین نے کہا کہ آئی ایس ایم کی رپورٹ نے اس نکتہ نظر کی بھی حوصلہ افزائی ہوگی کہ فیڈرل ریزرو کے حکام کو شرح سود میں کمی کرنی پڑی ہے۔

روزگار کی رپورٹ کے مطابق جنوری میں اوسط آمدنی میں 3.2 فیصد اضافہ ہوا، جو دسمبر میں نظرثانی اوپر کی جانب 3.3 فیصد سے کم ہے، تاہم ایک عشرہ میں ابھی بھی تقریبا تیز ترین ہے۔ تفریح اور مسافر پروری، تعمیرات، صحت کی دکھ بھال، ٹرانسپورٹ اور گودام سمیت ملازمتیں دینے کا عمل صنعتوں کی وسیع حد تک پھیل گیا تھا۔ لیبر فورس کی شرکت کی شرح، جس میں ملازمت کی متلاشیوں کے ساتھ ساتھ صاحب روزگار شامل ہیں، زیادہ سے زیادہ 63.2 فیصد اضافہ ہوا۔

آئی این جی میں چیف انٹرنیشنل اکنامسٹ جیمز نائٹلی نے پیشن گوئی کی کہ روزگار کے مستحکم اعدادوشمار افراط زر کے دباؤ کو نیچے سے اوپر لے جائے گا اور بالآخر شرح سود میں اضافے کیلئے فیڈرل ریزرو کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

جیزم نائٹلی نے کہا کہ کارکنوں کی تنخواہ میں اضافہ کے ساتھ ملازمین اپنی ملازمتوں میں تحفظ محسوس کرتے ہیں، جبکہ معیشت میں افراط زر کے دباؤ میں اضافہ کرتے ہوئے صارفین کے اخراجات کے مستحکم رہنے کے امکان کو براقار رکھا جائے گا۔ فیڈرل ریزرو کے سربراہ جے پاؤل نے معیشت اور مارکیٹ کے تصادم کے سلسلے میں بات کی، فیڈرل ریزرو کے توقف کا جوا زدیا، لیکن اگر ہم چین اور امریکا کے تجارتی تعلقات کی بہتری کی خبریں حاصل کرسکتے ہیں تو یہ عالمی سطح پر مایسوی کو مایوسی کو کچھ حد تک کم کرے گا۔ 

فنانشل ٹائمز سے مزید