آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ14؍ شعبان المعظم 1440 ھ20؍اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی میں رواں سال کا جان لیوا وائرس کانگو کا پہلا کیس سامنے آگیا ہے، کانگو وائرس سے خاتون متاثر ہوئی ہیں۔

کانگو وائرس سے متاثرہ مریضہ 35 سالہ تعظیم فیضان کراچی کے علاقے اورنگی ٹاون کی رہائشی ہیں، جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

متاثرہ مریضہ جناح اسپتال کے وارڈ نمبر 5 میں زیرعلاج ہے، گزشتہ سال کراچی میں کانگو سے ایک درجن سے زائد ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

واضح رہے کہ جان لیوا وائرس کانگو کا سائنسی نام کریمین ہیمریجک کانگو فیور (Crimean–Congo hemorrhagic fever) ہے، جو تیزی سے پھیلنے والی بیماری ہے۔

کانگو وائرس کے مریض میں انفیکشن کے بعد جسم سے خون نکلنا شروع ہوجاتا ہے، خون بہنے کے باعث مریض کی موت واقع ہو سکتی ہے۔

افریقی بیماری کے نام سے بھی مشہور اس مرض کا وائرس زیادہ تر افریقی ممالک، جنوبی امریکا،مشرقی یورپ، ایشاء اور مشرق وسطیٰ میں پایا جاتا ہے، یہ بیماری 1944ءمیں سب سے پہلےکریمیا میں سامنے آئی جس کی وجہ سے اس کا نام کریمین ہیمرج رکھا گیا۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ مختلف مویشیوں بھیڑ، بکریوں، بکرے، گائے، بھینسوں اور اونٹ کی جلد پر پائے جانے والے کیڑے چیچڑی Ticks اس مرض کے پھیلاؤ کا سبب ہے۔

چیچڑی کسی بھی جانور کی کھال سے چپک کر اس کا خون چوستی رہتی ہے اور اس بیماری کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

کانگو وائرس سے متاثرہ جانور کا خون پینے کے بعد یہ چیچڑی اگر انسان کو کاٹ لے یا متاثرہ جانور ذبح کرنے کے دوران بے احتیاطی کی وجہ سے قصائی کے ہاتھ پر کٹ لگ جائے تو یہ وائرس انسانی خون میں شامل ہو جاتا ہے،یوں یہ مرض جانور سے جانور، جانور سے انسان اور ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہوسکتا ہے۔

اس کے جان لیوا اور تیزی سے منتقل ہونے کے باعث اسے چھوت کا مرض اور کینسر سے بھی زیادہ خطرناک بھی قرار دیا جاتا ہے۔

کانگو وائس میں مبتلا ہونے والے مریض کے ہفتہ بھر میں موت کے منہ میں چلے جانے کے واقعات عام ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں