آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 12؍جماد ی الثانی 1440ھ 18؍فروری 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اینٹی سیمیٹزم پر نامناسب رسپانس پر ایم پیز کی لیبر قیادت پر تنقید

لندن (نیوز ڈیسک) لیبر کےایم پیز نے اینٹی سیمیٹزم پر پارٹی کے رسپانس پر لیبر لیڈر کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ لیبر ایم پیز نے کہا کہ اینٹی سیمیٹزم کی 700رپورٹس سامنے آنے کے بعد صرف 12ارکان کو پارٹی سے خارج کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ الزامات کی اتنی بڑی تعداد کے بعد یہ رسپانس نامناسب ہے۔ ایم پیز اور پیئرز کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر کارروائی کچھ بہتر نہیں، اب ہم اس مرحلے پر پہنچ گئے ہیں کہ ہمیں حقیقی لیڈر شپ کی ضرورت ہے۔ ایم پیز اور پیئرز نے اپنی ہفتہ وار میٹنگ میں جیرمی کوربن اور دیگر پارٹی باسز کو اینٹی سیمیٹزم کے معاملے میں مناسب کارروائی نہ کرنے پر تنقید کا ہدف بنایا۔ لیبر جنرل سیکرٹری جینی فرومبی نے ایم پیز کو اینٹی سیمیٹزم انویسٹی گیشن کا ڈیٹا ای میل کیا، جس کو دیکھنے کے بعد ایم پیز اور پیئرز میں لیبر قیادت کیخلاف اشتعال دیکھنے میں آیا۔ اپریل 2018 سے جنوری 2019 تک اینٹی سیمیٹزم کے 673 کیسز مبینہ طور پر رپورٹ کئے گئے تھے، جن میں سے ایک تہائی سے زائد مزید کسی ایکشن کے بغیر ڈراپ کر دیئے گئے۔ 42 کیسز پارٹی کی ڈسپلنری کمیٹی کو ریفر کئےگئے۔ دی نیشنل کانسٹی ٹیوشنل کمیٹی (این سی سی) نے ان پر غور کے بعد 12 ارکان کو پارٹی سے نکال دیا جبکہ چھ ارکان کو دیگر سزائیں دی گئیں اور باقی کیسز ابھی نامکمل ہیں۔ رپورٹ کے

مطابق 49 افراد نے اپنے خلاف شواہد پیش کئے جانے پر رضاکارانہ طور پر پارٹی چھوڑ دی۔ پارلیمنٹری لیبر پارٹی (پی ایل پی) کے اجلاس میں اس معاملے پر خاصی گرما گرمی ہوئی۔ ایم پیز نے مطالبہ کیا کہ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اپریل 2018 سے پہلے شائع ہونے والا ڈیٹا رپورٹ میں شائع کیوں نہیں کیا گیا اور اہم الزامات پر چند ہی ارکان کیوں معطل کئے گئے۔ ڈیم مارگریٹ ہوج، جوکہ یہودی ہیں، نے کہا کہ میں نے 200 سنگین نوعیت کے اینٹی سمیٹیزم کیسز بھیجے تھے، جو میرے حوالے سے تھے۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ دیکھ کر یقین نہیں آتا۔ ہمارا اعتماد ٹوٹ گیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف حقیقی قیادت ہی ہمارا یہ اعتماد بحال کر سکتی ہے۔ کوربن گزشتہ پیر کو یہاں نہیں تھے اور وہ لوسیانا کی سپورٹ کرنے میں ناکام رہے اور نہ ہی وہ منگل کے اجلاس میں آئے۔ یہ صورت حال قیادت کی ہے۔ لوسیانا برجر بھی یہودی ہیں، جو اینٹی سیمیٹزم پر لیبر کے رسپانس کو تنقید کا نشانہ بناتی رہتی ہیں۔ لوسیانا کو اپنے حلقے میں ایکیوسٹس کی جانب سے لیورپول ویوٹری میں عدم اعتماد کا سامنا کرنا پڑا لیکن یہ عدم اعتماد واپس لے لیا گیا۔ ایم پیز نے لیبر لیڈر شپ پر اپنا نمائندہ پارلیمنٹری لیبر پارٹی کے اجلاس میں نہ بھیجنے پر بھی تنقید کی۔ ٹرینٹ نارتھ ایم پی رتھ سمیتھ نے کہا کہ صورت حال اچھی نہیں ہے، وہ بھی کئی بار اینٹی سیمیٹزم ابیوز کا نشانہ بن چکی ہیں، ہمیں حقیقی لیڈر شپ کی ضرورت ہے، جو ان معاملات کو سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے ٹھوس اقدامات کرے اور ہمارا اعتماد بحال کرے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں