آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 10؍جمادی الثانی 1440ھ 16؍فروری 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لاہور (رپورٹ:صابر شاہ) انڈین پریمیئر لیگ کی برانڈ ویلیو 6ارب 30کروڑ ڈالرز ہے جو پاکستانی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ لیگ سے 27.39گنا زیادہ ہے۔ پاکستانی لیگ پی ایس ایل کی برانڈ ویلیو 23کروڑ ڈالرز یا 32ارب 25کروڑ 80لاکھ روپے ہے۔ پی ایس ایل کا چوتھا سیزن 14فروری سے متحدہ عرب امارات میں شروع ہونے والا ہے۔ 2008میں درحقیقت یہ آئی پی ایل ہی ہے جس کی بدولت دنیا بھر میں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ فرنچائزز کو فروغ ملا۔ 2015میں بھارتی اقتصادیات آئی پی ایل کا حصہ 11ارب 50کروڑ بھارتی روپے یا 18کروڑ 20لاکھ امریکی ڈالرز رہا۔ جس سے متاثر ہوکر دنیا بھر میں اس طرز کی کرکٹ پھیل گئی۔ 2014میں تمام بین الاقوامی کرکٹ لیگس میں حاضری کے لحاظ سے اس کا نمبر چھٹا رہا۔ پی ایس ایل کی برانڈ ویلیو 23کروڑ ڈالرز کا اعلان 3جولائی 2018کو اس وقت پی سی بی کے سربراہ نجم سیٹھی نے کیا تھا۔ گزشتہ سیزن کے مقابلے میں پی ایس ایل کی 2018میں قدر 38فیصد زیادہ رہی۔ تاہم بلوم برگ کے مطابق پی ایس ایل کی 2017 میں مارکیٹ ویلیو 30کروڑ ڈالرز یا 42ارب روپے رہی۔ واضح رہے کہ پی ایس ایل کے نشریاتی حقوق تین سال کے لئے دسمبر 2018میں تین کروڑ 60لاکھ ڈالرز میں فروخت کئے گئے جو پہلے کے مقابلے میں 358فیصد زیادہ ہے۔ پی ایس ایل کے بغیر پی سی بی کے اخراجات 5ارب 70کروڑ روپے کے مقابلے میں آمدنی کا مجموعی ہدف 6ارب 40کروڑ روپے

رہا۔ 2018-19میں بجٹ آمدن گزشتہ سال کی آمدنی دو ارب 60کروڑ روپے کے مقابلے میں 133فیصد زائد رہی۔ پی ایس ایل کا قیام 5ٹیموں کے ساتھ 9ستمبر 2015کو عمل میں آیا تھا۔ جب 26لاکھ ڈالرز کی آمدنی ہوئی تھی۔ موجودہ چیئرمین احسان مانی کی قیادت میں پی سی بی 3مارچ 2009 کو لاہور میں سری لنکن ٹیم پر دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان پر بین الاقوامی کرکٹ بند ہوجانے سے کروڑوں ڈالرز کا نقصان اٹھانے کے بعد اب مالی پوزیشن بہتر ہورہی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں