آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل21؍شوال المکرم 1440ھ 25؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

راجہ افتخار، آزاد جموں کشمیر

یوم یکجہتی کشمیر نے پوری پاکستانی قوم کو متحد کردیا کراچی سے خیبر، بھمبر سے نیلم، نہال سے لداخ تک پوری قوم یکجا ہو کر کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی حمایت میں سڑکوں پر نکل آئی۔ یورپ، امریکہ، کابل، ایران میں بھی کشمیریوں سے یکجہتی کے جلوس نکالے گئے۔ صدر پاکستان عارف علوی نے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں ہندوستان سے 8مطالبات پیش کئے کہ بے گناہ کشمیریوں کو فوری رہا کیا جائے، کشمیریوں کو اظہار خیال کی آزادی دی جائے، نہتے کشمیریوں پر آتشیں اسلحے کا استعمال بندکیا جائے، پیلٹ گن کا استعمال بند کیا جائے، پوری دنیا میں انسانوں پر پیلٹ گن کا استعمال نہیں ہوتا، کالے قوانین کو واپس لیا جائے، کشمیری قیادت کو بیرون ممالک جانے کی آزادی دی جائے، انسانی حقوق کے عالمی مبصرین کے لئے کشمیر کے راستے کھولے جائیں، عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا پر پابندی ختم کی جائے۔ صدر پاکستان نے یوم یکجہتی کے موقع پر کشمیریوں کو پاکستان کی سیاسی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے جدوجہد آزادی میں پیش ہونے والی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہوئے حریت قیادت کی نظر بندی کی شدید مذمت کی ہے صدر پاکستان نے روایتی جملوں سے ہٹ کر اپنے خطاب میں کھل کر یکجہتی کا اظہار کیا صدر پاکستان نے ہندوستان کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ کشمیریوں کی مذہبی آزادی، اظہار رائے کی آزادی، ووٹ کی آزادی، ملازمتوں کے دروازے بند کریں گے، معاشی آزادی ختم کریں گے پھر کشمیریوں سے بھی پھول پھینکنے کی توقع نہ رکھیں۔ جب روشنی کا کوئی دروازہ نظر نہ آئے پھر حقوق کے حصول کے لئے جدوجہد ہی کرنا پڑتی ہے۔ انہوں نے بھارتی دانشوروں، سیاستدانوں، سابق آرمی چیف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اعتراف کر چکے ہیں کہ کشمیر کی صرف زمین پر بھارت کا قبضہ ہے لوگ بھارت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے۔ صدر پاکستان نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ ریاست میں فیک فائنڈنگ کمیشن بھیجے اقوام متحدہ اپنی پاس کردہ قراردادوں پر عملدرآمد کرائے تاکہ خطہ کسی بڑے حادثے سے دوچار نہ ہو جائے۔ صدر پاکستان نے پاک بھارت مذاکراتی عمل میں تعطل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہم نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا لیکن ہندوستان امن کو خود ہی قائم نہیں ہونے دیتا پرامن حالات اور امن کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جاتاہے جب بات چیت کا آپشن ختم ہو جائے گا لوگ جہاد کے لئے نکل آئیں گے۔ ہندوستان نے70سالوں میں ہمارے خلاف سازشیں کیں ہم ہمیشہ سرخرو ہوئے صدر پاکستان کے آزاد کشمیر اسمبلی میں خطاب سے کنٹرول لائن کی دوسری جانب مثبت اثرات پڑے ہیں حریت قیادت نے پوری پاکستانی قوم کی جانب سے مثالی یکجہتی کو قدر سے دیکھا۔ یوم یکجہتی کے موقع پر پہلی مرتبہ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں افغان خواتین نے یکجہتی ریلی نکالی، پلے کارڈز پر مقبوضہ کشمیر کے اندر مظالم بند کرنے کا مطالبہ کیا تہران میں بھی مرد و خواتین نے کشمیریوں کے حق میں ریلیاں نکالیں۔ دنیا کا ضمیر جاگ اٹھا ہے برطانوی پارلیمنٹ میں آسٹریلیا کی مشیر قانون نے بھارتی مظالم کی شدید مذمت کی بھارت کی پوری کوشش کے باوجود برطانوی پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر اور بھارتی مظالم کے خلاف آواز اٹھائی گئی بھارت نے پوری کوشش کی کہ وہاں پر بحث نہ ہو۔قانون سازی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان اسپیکر اسمبلی شاہ غلام قادر سابق وزیراعظم چوہدری عبدالمجید، جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر عبدالرشید ترابی جے کے پی پی کے احسن ابراہیم، مسلم کانفرنس کے ملک نواز، پی ٹی آئی کے ماجد خان نے صدر پاکستان کو قانون سازی اسمبلی اجلاس میں شرکت کا خیر مقدم کیا اور پاکستان کی سیاسی حمایت اور پوری قوم کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ہمیشہ کی طرح امسال بھی کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان اور سابق وزیراعظم چوہدری عبدالمجید نے پاکستان کے اندر موجود سیاسی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا وہاں کا سیاسی درجہ حرارت کنٹرول کرنے میں صدر پاکستان اپنا کردار ادا کریں۔ دونوں رہنمائوں نے صدر پاکستان سے پاکستان کے اندرونی انتشار کو کنٹرول کرنے میں رول ادا کرنے کا مطالبہ کیا کہ دونوں اطراف کی کشمیری قیادت پاکستان کو سیاسی، معاشی اور بیرونی خطرات سے محفوظ دیکھنا چاہتے ہیں۔ حریت قیادت نے بھی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا کہ دشمن پاکستان کو کمزور دیکھنے کے خواہاں ہیں۔ پی ٹی آئی اور دوسری سیاسی جماعت سیاسی درجہ حرارت کنٹرول کریں۔ گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمان نے یوم یکجہتی کے موقع پر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ ہمیں بھی آزاد کشمیر کے طرز پر سیاسی نظام دیں اور گلگت بلتستان کے اراکین اسمبلی کو آزاد کشمیر اسمبلی کی طرح بااختیار بنایا جائے۔ انہوں نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو این ایف سی ایوارڈ میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے دونوں خطوں کے درمیان قدیم اور قدرتی راستوں کی بحالی کا بھی مطالبہ کیا۔ وزیراعظم آزاد کشمیر اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے مشترکہ میڈیا گفتگو میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل اور اجاگر کرنے میں آزاد کشمیر حکومت کے رول کا تعین کرکے حکومت پاکستان کشمیریوں پر اعتماد کرے دونوں خطوں کے علاوہ مقبوضہ کشمیر کی غالب اکثریت الحاق پاکستان چاہتے ہیں۔ وزیر امور کشمیر نے جیو کے پروگرام میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے آزاد حکومت کے مسئلہ کشمیر پر رول کے حوالے سے تسلیم کیا کہ آزاد کشمیر حکومت بیس کیمپ کی حکومت ہے تحریک آزادی میں اس کا اہم رول ہے۔ وزیر امور کشمیر نے بتایا کہ آئندہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں وزیراعظم آزاد کشمیر پاکستان کے وفد کے ہمراہ شرکت کریں گے۔ ’’جیو ‘‘ کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں یہ مطالبہ درست قرار دیا کہ کشمیر کی آزادی میں کشمیر کی حکومت کا رول ہونا چاہئے۔ انہوں نے وزیراعظم آزاد کشمیر کو یقین دھانی کرائی کہ آئندہ ہونے والے تمام بیرون ملک پروگرام کانفرنسز میں آزاد حکومت کو شامل کیا جائے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں