آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 12؍جماد ی الثانی 1440ھ 18؍فروری 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سپریم کورٹ نے امریکا میں مقیم سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کے حوالے سے متنازع میمو گیٹ اسکینڈل نمٹاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی سنگین غداری کا مرتکب ہوا ہے تو ریاست اس کے خلاف کارروائی کرے۔

سماعت کے لیے سپریم کورٹ نے نیا بینچ تشکیل دے دیا ہے، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے میمو گیٹ اسکینڈل کی سماعت کی۔بینچ میں جسٹس گلزار احمد اور جسٹس اعجاز الاحسن بھی شامل تھے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کوئی بھی پٹیشنز عدالت میں کیوں موجود نہیں؟ کیا مملکت خداداد، آئین، افواج پاکستان ،جمہوریت اتنی کمزور ہے کہ ایک میمو سے لڑکھڑا جائے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ الحمدللہ پاکستان مضبوط ملک ہے، حسین حقانی کے خلاف ایف آئی آر درج ہوچکی ہے، ریاست حسین حقانی کو لانا چاہتی ہے تو لے آئے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سارے معاملے میں سپریم کورٹ کیسےاورکہاں سے آگئی،آٹھ سال سے یہ معاملہ زیر التوا ہے،کیا آج یہ حکومت بھی اُس میمو سے کوئی خطرہ محسوس کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ درخواست گزاروں میں سے کوئی بھی نہیں آیا،اگر کوئی درخواست گزار نہیں آیا تو عدالت یہاں کیوں بیٹھی ہے۔درخواست گزاروں میں قومی وطن پارٹی، نوازشریف اور دیگر شامل ہیں۔

میمو گیٹ اسکینڈل کیا ہے؟

حسین حقانی میمو گیٹ کے مرکزی ملزم ہیں اور پیپلز پارٹی کر دور حکومت میں امریکن سفیر رہے چکے ہیں۔

میموگیٹ اسکینڈل 2011 میں اس وقت سامنے آیا تھا جب پاکستانی نژاد امریکی بزنس مین منصور اعجاز نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ انہیں حسین حقانی کی جانب سے ایک پیغام موصول ہوا جس میں انہوں نے ایک خفیہ میمو اس وقت کے امریکی ایڈمرل مائیک مولن تک پہنچانے کا کہا۔

سین حقانی پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے لیے کیے گئے امریکی آپریشن کے بعد پاکستان میں ممکنہ فوجی بغاوت کو مسدود کرنے کے سلسلے میں حسین حقانی نے واشنگٹن کی مدد حاصل کرنے کے لیے ایک میمو بھیجا تھا۔

اس اسکینڈل کے بعد حسین حقانی نے بطور پاکستانی سفیر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اور اس کی تحقیقات کے لیے ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا گیا تھا۔

جوڈیشل کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ میمو ایک حقیقت تھا اور اسے حسین حقانی نے ہی تحریر کیا تھا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ حسین حقانی نے میمو کے ذریعے امریکا کو نئی سیکورٹی ٹیم کے قیام کا یقین دلایا اور وہ خود اس سیکورٹی ٹیم کا سربراہ بننا چاہتے تھے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں