آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ14؍رجب المرجب 1440 ھ22؍ مارچ 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میسا چیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی )کے ماہرین نےانکشاف کیا ہے کہ اس صدی کے آخر تک 50 فی صد سمندروں کے پانی کی رنگت تبدیل ہو جائے گی ۔وہ قدرے نیلی اور گہری سبز رنگت اختیار کر جائیں گے ۔اس کے لیے ماہرین نے ایک کمپیوٹر ماڈل بنایا ہے ۔علاوہ ازیں یہ تبدیلی سمندری صحت میں تبدیلیوں کی علامت بھی ہوگی ۔ماہرین کے مطابق اس وقت انسانی مداخلت سے سمندروں کے مرجانی چٹانیں (کورل ریف ) تباہ ہورہے ہیں اور ان میں کاربن ڈائی آکسائیڈ بڑھ رہی ہے ۔اس کے ساتھ سمندروں کا درجہ حرارت بھی بڑھ رہا ہے ۔جب سورج کی روشنی پا نی کے سالمات (مالیکیول ) سے گزرتی ہے توہ اپنے اندر کچھ شعاعوں کو جذب کر لیتے ہیں اور نیلی روشنی کو منعکس کردیتے ہیں ،اس طر ح سمندر کا پانی نیلا نظر آتا ہے ۔سمندر میں پانی کے علاوہ ہر جسامت ،شکل اور قسم کی حیات بھی موجود ہیں ۔پانی پر تیرتے خرد بینی فائٹو پلانکٹن (باریک الجی )دھوپ میں موجود نیلی روشنی کو جذب کرکے سبز روشنی بھیجتے ہیں ۔ ماہرین نے نئے تیار کردہ کمپیوٹر ماڈل کی مدد سے بتا یا کہ آب وہوا میں تبدیلی سے فائٹو پلا نکٹن کی شر ح اور کیفیت بھی تبدیل ہوگی اور وہ قدرے زیادہ سبز رنگت خارج کریں گے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کی سب سے اہم وجہ سمندروں میں تیزابیت کا بڑھنا ہے ۔گرین ہائوس گیسوں کے اخراج کی وجہ سےاس صدی کے اختتام تک اوسط درجہ حرارت تین درجے بڑھ جائے گا اور یوں سمندر کا رنگ بھی بدل جائے گا ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں