آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات14؍ ذیقعد1440ھ18؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
گزشتہ شب ایک ٹی وی چینل پر کراچی میں بیگناہ قتل ہونے والے نوجوان شاہ زیب کا ڈی ایس پی والد گلوگیر لہجے میں بتارہا تھا ،میں نے قاتل شاہ رخ جتوئی کے سامنے ہاتھ جوڑے، بیٹے سے کہا قصور وار جاگیردار زادے سے معافی مانگ لو پھر بھی ان ظالموں کو ترس نہ آیا۔ میرے اکلوتے نوبیا ہتا بیٹے کو اس جرم میں موت کے گھاٹ اتاردیا کہ ایک نوجوان بھائی نے اپنی چھوٹی بہن کو چھیڑنے والے جاگیرداروں کے ملازم کو ڈانٹا تھا۔
یہ اکیلا شاہ زیب نہیں جو کسی جاگیردار گھرانے کی درندگی کا شکار ہوا، پولیس اور انتظامیہ نے مجرمانہ خاموشی اختیار کی اور بااثر قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا۔ جاگیرداروں، وڈیروں اور بدمعاشوں کے سماج میں یہ معمول کی بات ہے اور ہم اپنے حکمرانوں کی طرح ایسے واقعات کو ٹھنڈے پیٹوں پرداشت کرنے کے عادی ہیں۔
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کاا للہ بھلا کرے، حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی تو انہوں نے از خود نوٹس لیا، اکثر سیاستدان اور عاصمہ جہانگیر ،اعتزاز احسن اور ان کے بھائی بند شاید اسی بنا پر از خود نوٹس پر اعتراضات کرتے ہیں کہ یہ غمزدہ والدین اور افسردہ شہریوں کے زخموں پر مرہم کا کام دیتا ہے اور وڈیروں کو تکلیف ہوتی ہے مگر چیف جسٹس کس کس واقعہ کا نوٹس لیں اور کہاں کہاں مرہم رکھیں، یہاں تو جاگیرداروں، وڈیروں، نودولتیوں اور طاقت

کے نشے میں چور غنڈوں، بدمعاشوں اور لفنگوں نے ات مچا رکھی ہے۔ غریب اور شریف آدمی کی عزت محفوظ ہے نہ جان و مال اور نہ بہو بیٹیوں کی آبرو، میں اور آپ سب خاموش۔
جاگیردارانہ معاشرے میں کسی کی خوش شکل بہو بیٹی کو راہ چلتے چھیڑنا، اٹھا کر ڈیرے پر لے جانا اور عیاش دوستوں سے مل کر آبرو ریزی کرنا معمول کی بات ہے۔ دل چاہا تو کرموں ماری کو گھر بھیج دیا ورنہ دو گولیاں سینے میں اتار کر کوڑے کی طرح گلی محلے میں پھینک دیا۔ یہ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا۔
اس ملک کا ہر قانون، سارے تھانے کچہریاں، جا بجا قائم جیلیں اور عقوبت خانے صرف غریبوں، کمز وروں اور مجبوروں کے لئے ہیں۔ ہر حوالات اور جیل میں آپ کو چھوٹے موٹے جیب کترے، بکری چور، چرس و افیون فروش، جوئے باز اور رشوت خور قید نظر آئیں گے یا پھر کسی حاکم اور چودھری کے غلط احکامات کی تعمیل نہ کرنے والے قانون پسند سرکاری اہلکار،اگر کوئی بڑا ملزم اور مستند مجرم عدالتی حکم پر گرفتار ہو تو جیل میں ایسے رہتا ہے جیسا لاڈلا داماد سسرال میں۔
اربوں روپے کے ڈیفالٹرز، ٹیکس چور، پیداگیر، جعلی کمپنیاں بنا کر عوام کا سرمایہ خرد برد کرنے والے جعلی ڈگری ہولڈر، جعلی ادویہ ساز، ایفیڈرین اور حج سکینڈل کے مرکزی کرداروں کی زیارت ایوان صدر، وزیر اعظم ہاؤس، گورنر یا وزیر اعلیٰ ہاؤس اور پارلیمنٹ میں ہوسکتی ہے جہاں بیٹھ کر یہ بڑے بڑے مجرم ،ٹھگ اور فریب کار عوام، قانون ، میڈیا اور عدلیہ کا مذاق اڑاتے ہیں۔ توقیر صادق تازہ ترین مثال ہے ورنہ ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں۔
جس طرح اس ملک کے سیاسی و انتخابی نظام میں کسی نیک سیرت ،دانا ،عالم فاضل، تجربہ کار اور دیانتدار شخص کے لئے کوئی گنجائش نہیں، صرف حرام کی دولت، ذات برادری اور دھڑے کے جاہلانہ تعصبات اور انگریزوں کی عطا کردہ سینکڑوں بلکہ ہزاروں مربع جاگیرداروں کے زور پر جماعتی ٹکٹ اور اسمبلی کی رکنیت ملتی ہے اسی طرح پاکستان کے مجموعہ قوانین میں کسی طاقتور امیر، جاگیردار، غنڈے ، بدمعاش اور ڈاکو کے لئے کوئی سزا درج نہیں۔ قتل اس کا مشغلہ، عصمت دری اس کا شوق اور لوٹ مار، ڈاکہ زنی اس کا پیدائشی حق ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں کیونکہ سزا یہاں جرم نہیں حماقت کی ملتی ہے۔
جس معاشرے میں لوگ لٹنے کے لئے تیار بیٹھے ہوں ،ووٹ ،جمع پونجی، عزت نفس، آبرو اور نقد جان سب کچھ حاضر، اغواء برائے تاوان، بھتہ خوری، سینہ زوری اور قتل و غارت گری کی کھلی آزادی ہو۔ قومی خزانے اور ترقیاتی منصوبوں سے اربوں روپے لوٹے جاسکتے ہوں وہاں کوئی بے وقوف معمولی وارداتیں کرتا پھرے تو یہ حماقت کے سوا کیا ہے اور اس جرم کی سزا حوالات اور جیل سے کم کیا ہوگی۔
اللہ تعالیٰ کرے شاہ زیب کے قاتل پکڑے جائیں اور عدالت عظمی انہیں نشان عبرت بنادے۔جنرل ضیاء الحق کے دور میں پپو کے قاتلوں کو سرعام پھانسی کی سزا ملی تو اگلے نو دس سال تک کوئی معصوم بچہ زیادتی کا نشانہ نہ بنا مگر مجھے اندیشہ کیا یقین ہے کہ شاہ رخ جتوئی اور اس کے شریک جرم عزیز و اقارب کسی وزیر اعلیٰ ہاؤس، وزیر مشیر یا اس کے پالتو ڈی سی او، ڈی پی او کے گھر میں بیٹھ کر نئے انتخابات کا انتظار کریں گے ۔بااثر جاگیردارہیں حلقہ انتخاب ضرورہوگا چار پانچ کروڑ روپے مقبولیت کی دعویدار کسی سیاسی جماعت کے سربراہ کو نذرانہ دیں گے۔ غنڈے بدمعاش اور قاتل کا ٹیگ ان کے چہرے پر آویزاں ہے جو ہمارے جاگیردارانہ سماج میں کامیابی کا پروانہ ہے۔ لوگ صادق وامین کی شرط پر ناک بھوں چڑھاتے ہیں لفنگے، لچے اور قاتل کی انتخابی اہلیت پر کبھی اعتراض نہیں کرتے۔
ایک بار دھن، دھونس ،دھاندلی کے زور پر انتخاب جیت گئے اور اپنے بھائی بندوں کے ساتھ کسی اسمبلی میں براجمان ہوئے تو پھر کوئی قانون، عدالت اور میڈیا ان کا بال بیکا نہیں کرسکتا، قانون سے بچنے اور شاہ زیب کے غمزدہ والدین کا مذاق اڑانے کا یہ بہترین ا ور آزمودہ طریقہ ہے۔
ملک بھر کے قاتل، ڈکیت، لٹیرے، جعلساز، فریب کار ہوس اقتدار کے مارے سیاستدانوں کی طرح موجودہ عوام دشمن نظام کا تسلسل اور موثر اصلاحات کے نعرے انتخابات کا بروقت انعقاد چاہتے ہیں اور التحریر سکوائر سے خوفزدہ، مبادا کسی حسنی مبارک کے ساتھ انہیں بھی دھر لیا جائے یہی نظام قاتلوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور شاہ زیب کے والدین رونے دھونے، میڈیا پر اپنی بپتا سنانے اور قاتلوں کو بدعائیں دینے کے سوا کچھ نہیں کرپاتے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں