آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍رجب المرجب 1440ھ 18؍مارچ 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان سپر لیگ کا رنگا رنگ آغاز دبئی میں پروقار تقریب سے ہوا،کرکٹ ستاروں اور فن کاروں وگلوکاروں نے اپنی پرفارمنس سے ہر جانب کرکٹ کی کہکشاں بکھیری،رنگ و نور کی برسات نے پی ایس ایل کا ایسا سحر باندھا کہ گرائونڈ میں موجود ہزاروں شائقین سمیت ٹی وی پر دیکھنے والے دنیا بھر کے ناظرین دنگ رہ گئے ،بلاشبہ ہر گذرتے سال کے ساتھ پی ایس ایل دنیا کی ٹاپ برینڈ بنتی جارہی ہے،کرکٹ کھیلنے والے ممالک سمیت پوری دنیا میں اسکی لائیو کوریج مقبولیت کی سند ہے۔اس سال آٹھ میچز پاکستان میں ہوں گے ، وہ وقت دور نہیں جب پی ایس ایل پاکستان کے مختلف شہروں کا سفر کرے گی،پی ایس ایل فور کے افتتاحی میچ کو دیکھا جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اسلام آباد نے جس انداز میں گزشتہ سال ٹرافی اٹھاکر اختتام کیا تھا ،بالکل اسی انداز میں پہلا میچ جیت کر اپنے عزائم کا اظہار کیا ہے اور لاہور قلندز کے گزشتہ سال کے اختتام اور اس سال کی شروعات میں ایک ہی اتفاق ناکامی کا تھا،مگر ابتدائی مراحل کے دبئی تک کے 7 میچز کا جائزہ لیا جائے تو اکثر ٹیموں نے پہلی ناکامیوں کے بعد پلٹ کر ایسا وار کیا کہ فوری فتح کا مزا ہی چکھ لیا،کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے ہر سال کی طرح اس سال بھی باوقار آغاز لیا ہے ،ابتدائی دونوں میچز جیت لئے ہیں ،سرفراز احمد کی قیادت میں ٹیم نے پہلے پشاور زلمی کو 6 وکٹوں سے ہرایا تو اتوار کو اپنے دوسرے میچ میں اس نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو 7وکٹ سے شکست دی،دونوں میچوں کی قدرے مشترک بات یہ تھی کہ سرفراز کی قیادت میں کھیلنے والی ٹیم نے پہلے بائولنگ کی اور حریف ٹیموں کو 155 اور 157 قریب ایک جیسے سکور تک محدود کیا اور بعد میں بیٹنگ کرتے ہوئے بنا کسی مشکل کے ہدف حاصل کیا۔دیکھنا یہ ہے کہ سرفراز الیون اس مرتبہ ٹائٹل اٹھانے میں بھی کامیاب ہوتی ہے یا نہیں،کوئٹہ کے علاوہ باقی تمام ٹیموں نے ان 7 میچوں میں شکست کا ذائقہ بھی چکھ لیا ہے،کراچی کنگز ملتان سے جیتی تو لاہور سے ہارگئی،قلندرز نے اسلام آباد سے شکست کے ساتھ اسٹارٹ لیا تھا مگر جلد ہی کنگز کو واپس زمین پر لے آئے،پشاور زلمی نے کوئٹہ سے شکست کے ساتھ آغاز کیا تو اگلے میچ میں اتوار کی شب اسے قلندرز کا چیلنج درپیش تھا۔کراچی کے خلاف ناکامی سے کھاتہ کھولنے والی ملتان سلطانز نے دفاعی چیمپئن اسلام آباد کو 125 تک محدود کرکے 5 وکٹ سے فتح کے ساتھ اپنی سلطنت کی موجودگی ظاہر و ثابت کی،اس طرح ان ابتدائی میچز کے نتائج کو دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ ٹیموں میں کشمکش آخر تک برقرار رہے،کوئی ٹیم ایک دن پھسلی تو اگلے دن جھپٹ کر وار کرے گی،آخر تک ایلیمنٹری میچز کے لئے سسپنس برقرار رہے گا۔پی ایس ایل کے چوتھے ایڈیشن میں کئی کھلاڑیوں کے پاس مواقع ہیں کہ وہ اپنی کارکردگی سے انٹر نیشنل ریڈار میں آئیں اور انٹر نیشنل کرکٹ میں قدم رکھیں،پرانے کھلاڑیوں میں کراچی کنگز کے بابر اعظم 2 میچوں میں 105،کوئٹہ کے لئے کھیلنے والے عمر اکمل اور شین واٹسن بالترتیب 119 اور 100 رنزبناکر ٹاپ اسکورر ہیں ۔پشاور زلمی کے اب تک کے مجموعی ٹاپ اسکورر کامران اکمل نے پہلے میچ میں 49 رنزکی اننگ کھیل کر اپنی کامیاب فارم ظاہر کردی ہے،دوسری جانب پی ایس ایل تاریخ کی وکٹوں کی پہلی نصف سنچری پشاور زلمی کے ہی وہاب ریا ض نے اسی ایونٹ کے پہلے میچ میں 2 وکٹیں حاصل کرکے مکمل کرلی۔ لاہور قلندرز کے راحت علی نے ابتدائی 2 میچز میں 7،اسی ٹیم کے حارث رئوف نے 4،کراچی کی نمائندگی کرنے والے محمد عامر نے 5 اور کوئٹہ کے سہیل تنویر نے 4 وکٹیں لیکر یہ واضح کیا ہے کہ اس مرتبہ وکٹوں کی دوڑ میں ان میں سے کوئی ایک ٹاپ کرے گا،اگر ریکارڈز کی بات کی جائے تو سابقہ ایک ریکارڈ تو ٹوٹ گیا ہے ،کراچی کنگز کے بابر اعظم اور لیام لیونگسٹن نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی تاریخ کی سب سے بڑی شراکت کا ریکارڈ توڑ دیا۔بابر اعظم اور لیام لیونگسٹن نے کراچی کنگز کی طرف سے ملتان سلطانز کے خلاف پہلی وکٹ پر 157 رنز بنا ئے، اس سے قبل بڑی شراکت کا ریکارڈ شرجیل خان اور شین واٹسن نے اسلام آباد یونائیٹڈ کے لئے لاہور قلندرز کے خلاف153 رنز کے ساتھ بنارکھا تھا ۔غیر متوقع چیز دیکھی جائے تو ایک میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف لاہور قلندرز کو 5رنز کا جرمانہ ایوارڈکیا گیا۔اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ اس مرتبہ کئی نئے ریکارڈز قائم ہونگے۔دبئی کی وکٹوں پر بیٹنگ قدرے مشکل دکھائی دے رہی ہے،وکٹ پر ہلکی گھاس رکھی گئی ہے،بدھ سے شارجہ میں کھیلے جانے والے میچز میں خیال ہے کہ بیٹسمین آزادی کے ساتھ اسٹروک کھیلیں گے۔ملتان ٹیم میں بڑے نام موجود ہیں،شاہد آفریدی نے اسلام آباد یونائیٹڈکے خلاف اپنی اہمیت ثابت کردی ہے ،لاہور قلندرز ٹیم نے پہلا میچ ہار کردوسرے میں کم ا سکور کے باوجود بولرز کی مدد سے کامیابی اپنے نام کی،اے بی ڈی ویلیئرز جیسے پلیئرز جس دن چل گئے اور 2سے 3 میچز میں وکٹ پر ڈٹ گئے تو اس بار لاہور قلندرز کی ٹیم پہلی مرتبہ دوسرے مرحلے میں آسانی سے چلی جائے گی، لاہور کی ٹیم کو اس وقت دھچکہ لگا جب ویسٹ انڈیز کے شہرہ آفاق پلیئر و آل رائونڈر کارلوس بریتھویٹ اپنی ٹیم کی نمائندگی کے لئے دبئی سے واپس وطن چلے گئے ہیں۔لاہور کے کپتان محمد حفیظ بھی فٹنس مسائل سے دوچار ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں