آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 23؍ذوالحجہ 1440ھ 25؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صوبہ سندھ میں خطرناک ایکس ڈی آر ٹائیفائڈ کے لیے کوئی حکمت عملی موجود ہی نہیں ہے۔

صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کا کہنا ہے کہ ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ سے نمٹنے کے لے ابھی اقدامات کر رہے ہیں، صوبے میں اب تک 4 ہلاکتیں اور 5 ہزار سے زائد بچے ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ سے متاثر ہوئے ہیں۔

کراچی سمیت سندھ کے مختلف اضلاع میں 2016ء سے سر اٹھانے والا خطرناک ایکس ڈی آر ٹائیفائڈ اب تک 5 ہزار سے زائد بچوں کو متاثر کرچکا ہے۔

سندھ کے شہر حیدرآباد سے پھیلنے والا یہ وائرس کراچی، لاڑکانہ، سکھر سمیت مختلف اضلاع کے بچوں کو اپنا نشانہ بنا چکا ہے۔

بدقسمتی سے حکومت سندھ کی جانب سے صوبائی سطح پر تاحال مؤثر انتظامات نہیں کیے گئے ہیں۔

صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل اعتراف کرتی ہیں کہ سندھ میں ایکس ڈی آر ٹائیفائڈ سے نمنٹے کے لیے حکمت عملی ابھی بنائی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ لوکل گورنمنٹ سے پانی میں کلورینیشن بہتر بنانے کے لیے کہا ہے، بچوں کو مہلک مرض سے بچانے کے لیے ویکسینیشن کے لیے وفاق کے منتظر ہیں، وفاق کی منظوری کے بغیر ویکسینیشن ملک میں نہیں آ سکتی۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق اب تک تقریباً 6ہزار افراد سندھ میں متاثر ہو چکے ہیں، عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ایکس ڈی آر ٹائیفایڈ پر الرٹ جاری کیا جا چکا ہے۔

صحت سے مزید