آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ21؍محرم الحرام 1441ھ 21؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں گزشتہ روز ہی دو ہفتے کے دورہ امریکہ اور میکسیکو سے واپس لوٹا ہوں۔ دورہ امریکہ کا مقصد میک اے وش فائونڈیشن انٹرنیشنل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس میں شرکت کرنا تھا۔ دبئی سے ساڑھے 16گھنٹے کی نان اسٹاپ فلائٹ کے بعد جب ہیوسٹن انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترا تو امیگریشن حکام نے مجھ سے امریکہ آمد کا مقصد دریافت کیا۔ میں نے جب انہیں یہ بتایا کہ میں میک اے وش فائونڈیشن پاکستان کا بانی صدر اور اس عالمی ادارے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبر کی حیثیت سے بورڈ اجلاس میں شرکت کیلئے امریکہ آیا ہوں تو خاتون امیگریشن افسر میرے ساتھ بڑے عزت و احترام کے ساتھ پیش آئیں۔ انہیں اس بات پر حیرت ہوئی کہ پاکستان بھی اس عالمی ادارے کا الحاق ممبر ہے اور ایک پاکستانی اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبران میں شامل ہے۔

ہیوسٹن سے تین گھنٹے کی مقامی فلائٹ لے کر امریکہ کے شہر فونیکس ایریزونا پہنچا جہاں بورڈ آف ڈائریکٹرز اجلاس منعقد کیا گیا تھا۔ یہ وہ شہر ہے جہاں آج سے 40سال قبل میک اے وش فائونڈیشن کی اُس وقت بنیاد رکھی گئی جب اِس شہر سے تعلق رکھنے والے کینسر کے مرض میں مبتلا 7سالہ بچے کرس (Chris) کی پولیس مین بننے کی آخری خواہش کو مقامی کمیونٹی کے تعاون سے پورا کیا گیا۔ کرس کو پولیس یونیفارم پہنا کر ہیلی کاپٹر میں شہر کا فضائی دورہ کرایا گیا اور ایریزونا پولیس چیف نے کرس کو بیج لگایا۔ بعد ازاں اسے پولیس موبائل میں شہر کا دورہ کرایا گیا۔ کرس اپنی خواہش کی تکمیل کے 3دن بعد ہی اس دنیا سے رخصت ہو گیا مگر موت سے قبل وہ خوش تھا کہ اس کے پولیس مین بننے کی دیرینہ خواہش پوری ہو گئی۔ کرس کی آخری خواہش میک اے وش فائونڈیشن کے قیام کا سبب بنی اور آج میک اے وش فائونڈیشن دنیا میں لاعلاج بچوں کی آخری خواہشات کی تکمیل کا سب سے بڑا عالمی ادارہ بن چکا ہے جو امریکہ سمیت دنیا کے 60ممالک میں پھیلا ہوا ہے اور ہر ایک منٹ میں دنیا کے کسی نہ کسی ملک میں جان لیوا مرض میں مبتلا بچے کی آخری خواہش کی تکمیل کی جا رہی ہوتی ہے۔

فونیکس میں میک اے وش کا ہیڈ آفس قائم ہے اور ایریزونا ریاست کی سرحدیں میکسیکو سے ملتی ہیں۔ ایسے میں جب امریکہ کے بیشتر علاقے شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں اور وہاں درجہ حرارت منفی 30ڈگری سے بھی گر چکا تھا، فونیکس کا موسم انتہائی خوشگوار تھا۔ ایئرپورٹ سے ہوٹل جاتے ہوئے مجھے وہ شام یاد آگئی جب 13سال قبل پاکستان میں میک اے وش فائونڈیشن کے قیام کے سلسلے میں ادارے کے عہدیداروں سے ملاقات کیلئے فونیکس آیا تھا۔ ملاقات میں مَیں عہدیداروں کو کنوینس کرنے میں کامیاب رہا، اس طرح میک اے وش فائونڈیشن کی پاکستان میں بنیاد پڑی اور گزشتہ 13سالوں میں یہ ادارہ ہزاروں لاعلاج مرض میں مبتلا بچوں کی خواہشات کی تکمیل کر چکا ہے جن میں سے کئی بچے اب اس دنیا میں نہیں رہے مگر مجھے خوشی ہے کہ یہ بچے کوئی خواہش یا حسرت لئے دنیا سے رخصت نہیں ہوئے۔ آج میں اس بات پر بھی فخر محسوس کر رہا تھا وہ ادارہ جو پاکستان کو الحاق ممبر بنانے پر راضی نہ تھا، آج میں اس ادارے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز پر ہوں اور اجلاس میں شرکت کیلئے اسی شہر آیا ہوں۔

فونیکس کے وسط میں واقع میک اے وش انٹرنیشنل کی بلڈنگ دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ بلڈنگ کے داخلی راستے پر پولیس یونیفارم میں ملبوس کرس کا قد آور مجسمہ نصب ہے۔ اندرونی ہال میں کرس کی وہ یونیفارم، پولیس بیج، جوتے، پستول اور وہ تمام اشیاء بھی آویزاں تھیں جو کرس نے زیب تن کی تھیں۔ دو دن تک جاری رہنے والے اجلاس کے دوران الحاق ممالک میں میک اے وش کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا جبکہ منفرد خواہشات کی تکمیل پر میک اے وش پاکستان کی کاوشوں کو سراہا گیا جو وسائل کی کمی کے باوجود بہترین خدمات انجام دے رہی ہے۔ ایک تقریب میں میک اے وش فائونڈیشن انٹرنیشنل کے چیئرمین مارکوس ٹمبرکاس اور سی ای او اور صدر مشل روڈولف نے ادارے کی خدمات کے صلے میں مجھے ’’لیڈر فار وشز‘‘ (Leader for Wishes) کا ایوارڈ پیش کیا جو یقیناً میرے اور پاکستان کیلئے بڑے اعزاز کی بات ہے۔

امریکہ، جس کے ایئرپورٹس پر مسلمانوں کے ساتھ ہتک آمیز سلوک کیا جاتا ہے لیکن میں جس ایئرپورٹ پر بھی گیا تو میک اے وش سے تعلق کی بنا پر امریکیوں کے رویئے میں ایک مثبت تبدیلی پائی۔ مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ امریکہ میں قیام پذیر ایک بھارتی بزنس مین نے میک اے وش فائونڈیشن انڈیا کیلئے ایک ملین ڈالر عطیہ دینے کا اعلان کیا۔ کاش کہ امریکہ میں موجود بڑے پاکستانی سرمایہ کار بھی میک اے وش پاکستان کیلئے اسی طرح کے جوش و خروش کا مظاہرہ کریں تاکہ وہ بچے جو اپنی خواہشات کی تکمیل کے انتظار میں ہیں، انہیں پورا کیا جاسکے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں کام کرنے والی بیشتر این جی اوز اور فلاحی ادارے غریبوں کی زندگی میں ایک مثبت تبدیلی لارہے ہیں۔ اس سال حکومت نے 300سے زائد غیر ملکی این جی اوز کے لائسنس صرف اس شک کی بنیاد پر منسوخ کر دیئے کہ وہ پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھیں جس سے تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں میں ہونے والے فلاحی کام بری طرح متاثر ہوئے۔ میری حکومت سے درخواست ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے تاہم حکومت این جی اوز کی سرگرمیوں پر ضرور نظر رکھے اور ایسے قواعد و ضوابط تشکیل دے جن کی حدود میں رہتے ہوئے این جی اوز اپنی فلاحی سرگرمیاں انجام دیں تاکہ غریبوں کی فلاح و بہبود کے کام جاری رہ سکے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)