آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ14؍رجب المرجب 1440 ھ22؍ مارچ 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کاروبار میں شدید مندی، دن بھر لوگوں کے گھروں میں مال بیچنے کے لیے خوشامد اور پھر بھی ناکامی کے بعد شام کو جب گھر پہنچا تو بچوں نےفرمائشوں کا ڈھیر لگا دیا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی بغیر سوچے سمجھے جو بھی سامنے آیا اسے ایک زناٹے دار تھپڑ رسید کر دیا اور یہ تھپڑ میرے نو سالہ بیٹے عادل احمد ڈار کے ننھے اور سرخ گال کو مزید سرخ کر گیا تھا لیکن مجھے اس کے اس شدید ردعمل کا بالکل اندازہ نہ تھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو نہ تھے بلکہ اس کی آنکھیں غصے کے باعث سرخ ہو چکی تھیں اور سخت غصے کے عالم میں اس کی آنکھیں مجھ سے سوال کر رہی تھیں کہ میرا کیا قصور تھا، جس کی سزا مجھے دی گئی۔ اس کے جسم میں ایک عجیب سی اکڑ بھی تھی اور جب مجھے واقعی اپنی غلطی کا احساس ہوا تو میں نے اپنے ننھے عادل کو گود میں لیکر پیار کیا۔ جس کے بعد اس کی آنکھوں میں موجود غصہ آنسوئوں میں تبدیل ہو گیا اور بہت دیر تک وہ میرے سینے سے لگ کر روتا رہا، مجھے اسی دن اندازہ ہو چکا تھا کہ میرا لخت جگر کبھی بھی ناانصافی برداشت نہیں کرسکے گا جبکہ اس کے اندر ناانصافی اور حق تلفی کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمت بچپن سے ہی موجود تھی۔ یہ چھوٹا سا واقعہ عادل ڈار کی دماغی اور فطری کیفیت کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔ میرا نام غلام حسن ڈار ہے عادل احمد ڈار سمیت میرے تین بیٹے اور ایک

بیٹی ہے، میرا مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ کے چھوٹے سے گائوں گندی باغ میں پرچون کا کاروبار ہے۔ میں گھر گھر جا کر لوگوں کو ضرورت کا سامان فروخت کرتا ہوں، ہمیشہ کوشش کی کہ بچوں کو سیاسی معاملات سے محفوظ رکھوں لیکن پلوامہ شروع سے ہی تحریک آزادی کا گڑھ رہا ہے، بھارتی فوج کا علاقے میں بہت زیادہ عمل دخل ہے۔ ہر روز راہ چلتے تلاشی، مقامی شہریوں کے ساتھ ہتک آمیز سلوک، جاسوسی نیٹ ورک کا جال، جہاں مخبر اپنی دشمنیاں نکالنے کے لیے بھی جھوٹی مخبریاں کر کے مقامی لوگوں کو فوج اور پولیس سے ذلیل کرانے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔ ایک روز عادل کو بھارتی فوج نے راہ چلتے روکا، تلاشی لی، اسے اور کشمیری قوم کو گالی دی، عادل ڈار اپنی قوم کے خلاف گالی برداشت نہ کرسکا اور گھورتی آنکھوں سے گالی دینے والے بھارتی فوجی کو دیکھنے کی جرات کر بیٹھا جس کے جواب میں عادل ڈار کو پڑنے والا بھارتی فوجی کا تھپڑ اس کے گال کو نہیں بلکہ اس کی روح کو زخمی کر گیا جو اسے کسی پل چین نہیں لینے دے رہا تھا۔ عادل کی عمر اس وقت صرف سولہ برس تھی۔ اس نے میٹرک کا امتحان پاس کر لیا تھا اور اب وہ گیارہویں جماعت کا طالب علم تھا لیکن اس کا پڑھائی میں بالکل دل نہیں لگ رہا تھا لہٰذا اس نے اپنی محنت سے ہی لکڑی کاٹنے کی فیکٹری میں نوکری ڈھونڈ لی تھی لیکن خفیہ طور پر اس نے اب اپنے کزن کے ذریعے کسی جہادی تنظیم سے بھی رابطہ قائم کرلیا، لیکن گھر میں کبھی اس نے اپنی سوچ کا اظہار نہیں کیا تھا۔ اسی اثنا میں برہان وانی کو بھارتی افواج نے شہید کر دیا جس پر پورے کشمیر میں مظاہرے شروع ہوگئے۔ عادل ڈار بھی ان مظاہروں میں پیش پیش تھا اور ایک روز پر امن مظاہرے کے دوران بھارتی فوج کی گولی اس کی ٹانگ میں لگی اور وہ شدید زخمی ہو گیا ۔ جس کے بعد اس کی بھارتی افواج کے خلاف نفرت میں مزید اضافہ ہو گیا تھا۔ پھر دوہزار اٹھارہ کے شروع میں عادل ڈار گھر سے غائب ہو گیا۔ وہ بہت پریشانی کا زمانہ تھا۔ ہم یہی سمجھ رہے تھے کہ اسے شاید فوج نے اٹھا لیا ہے۔ ہم نے اس کی گمشدگی کی رپورٹ بھی درج کرائی لیکن چند ماہ کے بعد اچانک عادل ڈار کی ایک ویڈیو منظر عام پر ا ٓگئی جس میں وہ ایک حریت پسند تنظیم میں شمولیت کا اعلان کر رہا تھا۔ یہ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ہماری زندگی بھی بھارتی پولیس اور فوج نے عذاب بنا دی تھی، عادل نے تو ہم سے کبھی رابطہ بھی نہیں کیا تھا لیکن ہمیں اندازہ ہوچکا تھا جس طرح کے حالات چل رہے ہیں۔ جس طرح فوج عادل ڈار کو ڈھونڈ رہی ہے ان حالات میں عادل کا زندہ سلامت ہمارے پاس واپس آنا ناممکن ہے، اس نے اپنا ہیرو برہان وانی کو بنا لیا تھا، وہ کشمیری عوام کو بھارتی تسلط سے آزاد کرانا چاہتا تھا، وہ راہ چلتے کشمیری شہریوں کو بھارتی فوج سے ذلیل ہوتے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ صرف اکیس سال کی عمر میں وہ اپنے اور اپنی قوم کے ساتھ ہونے والی زیادتی، حق تلفی اور ناانصافی کا بدلہ لینے کے لیے ایک حریت پسند تنظیم میں شامل ہوچکا تھا ہمارا اس سے رابطہ بالکل منقطع تھا اور پھر چند روز قبل خبر آئی کہ ایک گاڑی بھارتی فوج کی بس کے ساتھ ٹکرائی ہے اس گاڑی میں ساڑھے تین سو کلو بارودی مواد تھا، حملہ خود کش تھا جبکہ خود کش حملہ آور کی شناخت عادل احمد ڈار کے نام سے ہوئی ہے اور پھر ایک ویڈیو بھی منظر عام پر آ گئی جس میں عادل ڈار اپنے خود کش حملے کی وجوہات بیان کر رہا ہے، عادل ڈار شاید کسی کے لیے دہشت گرد ہو، یا شاید کسی کے لیے ہیرو ہو، یا کسی کے لیے آتنک وادی ہو، میرے لیے وہ میرا بیٹا تھا جو اپنی قوم کے ساتھ ظلم برداشت نہ کرسکا اور اتنا بڑا اقدام اٹھا بیٹھا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں