آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ14؍رجب المرجب 1440 ھ22؍ مارچ 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صفائی نہ صرف نصف ایمان ہے بلکہ آپ کی نصف صحت بھی ہے۔ بہ الفاظِ دیگر، صفائی ستھرائی کا ہماری روحانی اور جسمانی صحت سے گہرا تعلق ہے، جس کی کمی کئی بیماریوں کا باعث بنتی ہے۔ ہم اپنے گھر، دفتر اور اِرد گِرد کے ماحول کو صاف ستھرا رکھ کر کئی بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔

صفائی کی ناقص صورتحال کے باعث صوبہ سندھ میں XDR Typhoid (Extensive Drug Resistant Typhoid)یا ’’سُپر بَگ ٹائیفائید‘‘ کی وَبا شدت اختیار کرچکی ہے۔ سندھ میں سُپر بگ ٹائیفائڈ کا پہلا کیس نومبر 2016ء میں حیدرآباد میں سامنے آیا تھا۔ بدقسمتی سے، تقریباً ڈھائی سال بعد بھی اس وباء پر قابو نہیں پایاجاسکا بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ سندھ کے دیگر اضلاع میں بھی پھیلتی جارہی ہے۔ اس کے سب سے زیادہ کیسز کراچی سے رپورٹ ہوئے ہیں۔ سانگھڑ اور اطراف میں بھی لوگ اس بیماری سے متاثر ہوچکے ہیں۔ اب تک صوبے بھر میں 8ہزار سے زائد افراد اس انفیکشن کا شکار ہوچکے ہیں جبکہ چار افراد جاں بحق بھی ہوئے ہیں۔

خطرے کی گھنٹی

حیدرآباد سے سامنے آنے والے اس ’’سُپر بگ ٹائیفائیڈ‘‘ نے دنیا بھر میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ پاکستان کے علاوہ برطانیہ اور امریکا میں بھی اس مہلک بیماری سے متاثرہ افراد رپورٹ ہوئے ہیں۔

گزشتہ ماہ، امریکا اس خطرناک اور جان لیوا ٹائیفائیڈ سے اپنے شہریوں کو محفوظ رکھنے کے لیے انھیں سفری انتباہ جاری کرچکا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ وہ پاکستان اور بالخصوص اس وبا سے متاثرہ علاقوں کے سفر سے گریز کریں یا سفر کرتے وقت انتہائی سخت احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ کی وجوہات

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے عوام الناس کو اس ٹائیفائیڈ سے محفوظ رکھنے کے لیے رہنما اعلامیہ جاری کیا ہے، جس میں اس مہلک اور جان لیوا بیماری کی وجوہات، علامات اور علاج پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

اعلامیے کے مطابق، ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ بچوں اورمعمر افرادکو زیادہ متاثر کر تاہے۔ یہ مہلک بیماری گندگی اور غلاظت کی وجہ سے پھیل رہی ہے۔ آلودہ پانی،پھل اور سبزیوں میں ’’سلمونیلا ٹائفی‘‘ (Salmonella Typhi) نامی بیکٹیریم پیدا ہوتا ہے، جن کے استعمال سے یہ انفیکشن انسانوں میں منتقل ہوجاتا ہے۔

ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ کی علامات

ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ سے متاثرہ شخص کو شدید بخار کی شکایت پیدا ہونے کے علاوہ کمزوری، معدے میں درد، متلی، اُلٹی (قے)، سر میں درد، کھانسی اور بھوک نہ لگنے کی شکایات بھی ہوتی ہیں۔

احتیاطی تدابیر

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطابق، ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ سے محفوظ رہنے کے لیے عوام الناس کو درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔

٭پینے کیلئے صرف اُبلا ہوا صاف پانی استعمال کریں اور اسی پانی سے پھل، سبزیاں اور برتن دھوئیں۔

٭باہر سے خریدی گئی برف بھی استعمال نہ کریں کیونکہ آپ کو نہیں معلوم کہ اس برف کی تیاری میں کس طرح کا پانی استعمال کیا گیا ہے۔

٭ہر مرتبہ ٹوائلٹ استعمال کرنے کے بعد اور کچھ بھی کھانے سے قبل اچھی طرح صابن سے ہاتھ دھوئیں۔

٭بازاری اشیا کھانے سے گریز کریں۔

ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ کا علاج

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اس جان لیوا ٹائیفائیڈ کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں مستند اور قابل ڈاکٹر سے فوری طور پر رجوع کریں، خود سے علاج (Self medication) کرنے کی کوئی بھی کوشش آپ کی صحت اور زندگی کو انتہائی مشکل صورتحال سے دوچار کرسکتی ہے۔

اینٹی بائیوٹک ادویات اس بیماری میں خطرناک ثابت ہوسکتی ہیں، اس لیے میڈیکل ڈاکٹرز کے علاوہ حکیموں اور ہومیو پیتھک ڈاکٹرز کو ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ تشخیص ہونے کی صورت میں معمول کی اور تھرڈ جنریشن اینٹی بائیوٹک ادویات ہرگز تجویز نہیں کرنی چاہئیں۔

امریکی رپورٹ

امریکا کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن (سی ڈی سی) کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پھیلی اس بیماری میں Salmonella Enterica Serovar ٹائفی اسٹرینز بھی موجود ہے، جو ٹائیفائیڈ کے علاج میں استعمال ہونے والی زیادہ تر اینٹی بائیوٹکس سے بھی ختم نہیں ہوتا۔

سی ڈی سی کے تحقیق کاروں کا ماننا ہے کہ ویکسینیشن کے ذریعے ٹائی فائیڈ بخار سے بچا جاسکتا ہے۔

صوبہ سندھ کے محکمہ صحت کے حکام کے مطابق، عالمی ادارہ صحت اور دیگر غیرملکی ایجنسیوں کی مشاورت سے اس مرض پر قابو پانے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس کے علاج میں مؤثر 2اہم ترین اینٹی بائیوٹکس کی نشاندہی کی گئی ہے۔ صوبے کے چیف ڈرگ انسپکٹر نے صوبے کے تمام اضلاع کے ڈرگ انسپکٹرز، پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچرز ایسوسی ایشن،اور ہول سیل کراچی فارما آرگنائزیشن کو ہدایت کی ہے کہ زندگیاں بچانے کے لیے مناسب مقدار میں ان 2 اہم ترین اینٹی بائیوٹکس کی دستیابی یقینی بنائیں۔ حکام کے مطابق، ان اینٹی بائیوٹکس کے بارے میں ڈاکٹرز کو مطلع کردیا گیا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں